چوری کردہ 1252 آرٹیفیکٹس پاکستان کو واپس مل گئے ، قائمہ کمیٹی قومی ورثہ اجلاس میں انکشاف
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24 ںیوز)مسلم لیگ ن کی رکن قومی اسمبلی ثمر ہارون بلور کی زیر صدارت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قومی ورثہ کے اجلاس کے دوران 1252 آرٹیفیکٹس کی چوری کا معاملہ زیر بحث آیا۔
سیکرٹری لوک ورثہ نے کمیٹی کو بریفننگ دیتے ہوئے کہا کہ 1252 آرٹیفیکٹس پاکستان سے چوری ہوئے تھے، یہ 1252 اس ایک سال میں پاکستان کو واپس ملے ہیں ، ان کو سر سید میموریل ہال میں ڈسپلے کیا گیا ہے ۔
کمیٹی میں وفاقی وزیر لوک ورثہ اورنگزیب خان نے انکشاف کیا کہ سی ڈی اے لوک ورثہ کو میوزیم کے لیے زمین نہیں دے رہا،تخت بائی سے تعلق رکھنے والے ایم این اے سیدہ جمشید نے سوال کیا 2025 میں یونیسکو کی طرف سے پچاس ہزار ڈالر ملے اس کا اسٹیٹس کیا ہے۔
سیکرٹری نے جواب دیا کہ پیسے صوبائی حکومتوں کی ملکیت ہوتے ہیں انہیں واپس بھیج دیتے ہیں ،جو پیسے ملتے ہیں ہم صوبوں کو دے دیتے ہیں ، ہمارے پاس پیسے ہی نہیں ہیں، ملازمین کو تنخواہیں دینے کے لیے، اس وجہ سے کوئی پراجیکٹ شروع نہیں کیا جاسکتا۔
سیکریٹری نے انکشاف کیا کہ رقم صوبائی حکومتوں کی ملکیت ہوتی ہے، انہیں واپس بھیج دیتے ہیں،محکمہ کے پاس ملازمین کی تنخواہیں دینے کے لیے بھی پیسے نہیں، مالی وسائل کی کمی کے باعث کوئی نیا منصوبہ شروع نہیں کیا جاسکتا۔
یہ بھی پڑھیں :قوم کی غیر متزلزل حمایت سے دہشت گردی کو شکست دینے کے لیے پرعزم ہیں: فیلڈ مارشل عاصم منیر