کوہاٹ دھماکا!سہیل آفریدی کی گمشدگی نے سوالات اٹھا دیئے

تحریر: عدیل احمد

Sep 22, 2026 | 18:49:PM
کوہاٹ دھماکا!سہیل آفریدی کی گمشدگی نے سوالات اٹھا دیئے
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

کوہاٹ میں ہونے والے دھماکے کو چار دن گزر گئے ،،، ان چار دنوں میں بہت کچھ ہو گیا ،،، شہداء کی تدفین ہو گئی ،،، ماؤں کے لختِ جگر مٹی تلے سو گئے ،،، کسی بہن کا بھائی، کسی بچے کا باپ اور کسی ماں کا سہارا ہمیشہ کے لیے رخصت ہو گیا ،،، لیکن ان چار دنوں میں ایک سوال مسلسل اپنی جگہ موجود ہے؟ وہ شخص کہاں ہے جسے خیبر پختونخوا کے عوام نے اپنا نمائندہ سمجھا؟ وہ شخص کہاں ہے جسے اس صوبے کا چیف ایگزیکٹیو بنایا گیا ہے؟ یہ صرف ایک سیاسی سوال نہیں ،،، یہ ایک انسانی سوال ہے اور کیا اس سوال کا جواب سہیل آفریدی کے پاس موجود ہے۔
سہیل آفریدی سے متعلق یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ وہ شہداء کے لواحقین سے تعزیت کے لیے کیوں نہیں پہنچے؟ زخمیوں کی عیادت کے لیے کیوں نہیں گئے؟ ان خاندانوں کے درمیان کیوں نظر نہیں آئے جو تین دن بعد بھی اپنے پیاروں کے غم میں ڈوبے ہوئے ہیں؟۔

جب کسی صوبے کے شہری دہشت گردی کا نشانہ بنتے ہیں، جب جنازے اٹھتے ہیں، جب ہسپتالوں میں زخمی زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہے ہوتے ہیں، تو عوام اپنے حکمران سے صرف بیانات نہیں ،،، اس کی موجودگی بھی چاہتے ہیں ،،، لوگ یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ مشکل کی اس گھڑی میں ان کا حکمران ان کے ساتھ کھڑا ہے۔
تنقید کرنے والے یہ الزام لگا رہے ہیں کہ وزیراعلیٰ کی توجہ صوبے کے سنگین امن و امان کے مسائل کے بجائے سیاسی سرگرمیوں اور صرف قیدی نمبر 804 کے معاملے پر زیادہ مرکوز ہے جس کا انہوں نے بھری محفل میں اظہار بھی کیا۔
لیکن سوال یہ ہے ،،، کیا ایک صوبے کے سربراہ کی ترجیحات میں اپنے صوبے کے زخمیوں، شہداء کے خاندانوں اور امن و امان کی صورتحال شامل نہیں؟ خیبر پختونخوا پہلے ہی دہشت گردی کے مسلسل خطرے سے دوچار ہے ،،، ایسے میں عوام کا منتخب نمائندہ انہیں چھوڑ کے سیاسی جلسے جلوسوں اور ریلیوں میں مصروف ہے۔
دہشت گردی صرف اعداد و شمار کا نام نہیں ،،، دہشت گردی کے پیچھے ٹوٹے ہوئے گھر اور اجڑے ہوئے خاندان ہوتے ہیں ،،، اور ایسے وقت میں اپنے پیارے کھو دینے والوں  کو احساس کون دلائے گا کہ صوبے کا سربراہ ان کے دکھ میں ان کے ساتھ ہے؟

دیگر کیٹیگریز: بلاگ
ٹیگز: