پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا غزہ میں انسانی مصائب پر گہری تشویش کا اظہار
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24 ںیوز)پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے غزہ میں انسانی مصائب پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسرائیل سے وعدے پورے کرنے کا مطالبہ کر دیا۔
ترجمان دفتر خارجہ سجاد حیدر خان کے مطابق پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ، مصر، اردن، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا اور قطرکے وزرائے خارجہ نے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ غزہ میں فوری، محفوظ اور بلا رکاوٹ انسانی امداد کی فراہمی ضروری ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق مسلم وزرائے خارجہ نے 21 ستمبر کو نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے موقع پر ملاقات کی، ملاقات کے بعد مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ بیان جاری کیا، ترکیہ ، مملکت سعودی عرب، مصر، قطر، اردن، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا اور پاکستان کے وزرائے خارجہ ملاقات میں شریک ہوئے۔
سجاد حیدر خان کے مطابق مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے غزہ میں جاری انسانی مصائب پر گہری تشویش کا اظہار کیا، مسلم وزرائے خارجہ نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ جامع منصوبے کے پہلے مرحلے کے تحت اپنی باقی ماندہ ذمہ داریوں کو فوری طور پر پورا کرے، ان ذمہ داریوں میں انسانی امداد اور ابتدائی بحالی کے سامان کی فوری، محفوظ اور بلا رکاوٹ ترسیل کو یقینی بنانا شامل ہے۔
اہم بنیادی ڈھانچے کی بحالی میں سہولت فراہم کرنا بھی شامل ہے،ان ذمہ داریوں کا حصہ تھا،انہوں نے جنگ بندی برقرار رکھنے اور تمام خلاف ورزیوں کے خاتمے کی ناگزیر ضرورت پر زور دیا،وزرائے خارجہ نے زور دیا کہ روڈ میپ جامع منصوبے کا لازمی حصہ ہے ، روڈ میپ کے دوسرے مرحلے پر پیش رفت کے لیے عمل درآمد کا فریم ورک فراہم کرتا ہے، دوسرے مرحلے میں اسلحے اور مسلح صلاحیتوں کو مرحلہ وار ختم کرنا اور اسرائیلی افواج کا مکمل انخلا شامل ہیں۔
بین الاقوامی استحکام فورس (ISF) کی تعیناتی، غزہ انتظامیہ کے لیے قومی کمیٹی ل کی جانب سے پورے غزہ میں اپنی ذمہ داریوں کا سنبھالنا بھی دوسرے مرحلے کا حصہ ہے، دوسرے مرحلے میں پورے غزہ میں ابتدائی بحالی اور تعمیرِ نو کا آغاز شامل ہے،
انہوں نے تمام فریقوں پر زور دیا کہ وہ اپنی متعلقہ ذمہ داریاں نیک نیتی کے ساتھ اور بلا تاخیر پوری کریں،مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے فلسطینی عوام کو ان کے وطن سے بے دخل کرنے یا جبری نقل مکانی پر مجبور کرنے کے لیے کیے جانے والے کسی بھی اقدام کو مسترد کیا۔
مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے مقبوضہ فلسطینی علاقے کے علاقائی یا آبادیاتی کردار کو تبدیل کرنے کی کسی بھی کوشش کو واضح طور پر مسترد کیا، اسرائیلی کنٹرول اور الحاق کے تناظر میں اسرائیلی کنٹرول اور الحاق کو مستحکم کرنے کے لیے کیے جانے والے غیر قانونی اقدامات پر افسوس کا اظہار کیا گیا، ان غیرقانونی اقدامات میں غیرقانونی بستیوں کی تیز رفتار توسیع، اراضی کی ضبطی اور فلسطینی گھروں کی مسماری شامل ہے۔
آبادکاروں کا تشدد، دہشت گردی اور جبری بے دخلی بھی ان غیرقانونی اقدامات میں شامل ہیں، وزرائے خارجہ نے ان اقدامات کو فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کیا، وزرائے خارجہ نے یروشلم میں مسلم اور مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی اور قانونی اسٹیٹس کو کو نقصان پہنچانے والے اقدامات پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔
وزرائے خارجہ نے برطانیہ کی جانب سے حالیہ اقدامات، نیز اسرائیلی بستیوں کی غیر قانونی سرگرمیوں کے جواب میں وسیع تر قومی اور یورپی کوششوں کا خیرمقدم کیا، ان میں غیر قانونی اسرائیلی بستیوں کے ساتھ تجارت روکنے کے اقدامات بھی شامل ہیں۔
انہوں نے بستیوں کی توسیع کے خاتمے اور آبادکاروں کے تشدد پر جواب دہی یقینی بنانے کے لیے مزید مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا،وزرائے خارجہ نے زور دیا کہ غزہ فلسطینی سرزمین کا ایک لازمی حصہ برقرار رہنا چاہیے،انہوں نے دوبارہ تصدیق کی کہ جامع منصوبے پر عمل درآمد کیا جانا چاہیے، مغربی کنارے، بشمول مشرقی یروشلم، اور غزہ کی دوبارہ وحدت میں معاون ہونا چاہیے۔
فلسطینی عوام کے حقِ خود ارادیت کے عملی اور ناقابلِ واپسی حصول کی جانب ایک قابلِ اعتبار راستہ فراہم کرنا چاہیے، مشرقی یروشلم کو دارالحکومت بنانے والی ایک خودمختار، قابلِ عمل اور آزاد فلسطینی ریاست کے قیام میں معاون ہونا چاہیے، یہ مقصد دو ریاستی حل پر عمل درآمد کے ذریعے حاصل کیا جانا چاہیے۔
مسلم وزرائے خارجہ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت کو سراہا، مسلم وزرائے خارجہ نے جامع منصوبے پر عمل درآمد یقینی بنانے میں امریکہ کے ناگزیر کردار پر زور دیا، انہوں نے امریکہ سے مطالبہ کیا کہ وہ مسلسل اور فعال طور پر مصروف رہےتاکہ تمام فریق، بشمول اسرائیل، اپنی ذمہ داریاں اور وعدے پورے کریں اور روڈ میپ پر عمل درآمد کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کیا جا سکے۔
وزرائے خارجہ نے زور دیا کہ زمینی سطح پر ٹھوس پیش رفت بورڈ آف پیس کی ساکھ اور منصوبے کی اتھارٹی کو مضبوط کرے گی،یہ انتہائی ضروری پیش رفت کے لیے رفتار پیدا کرے گی۔
وزرائے خارجہ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ امریکہ، بورڈ آف پیس، فلسطینی اتھارٹی اور تمام متعلقہ فریقوں کے ساتھ مل کر جامع منصوبے اور اس کے روڈ میپ پر مکمل عمل درآمد کے لیے کام جاری رکھیں گے، اس کا مقصد فلسطینی عوام کی تکالیف کم کرنا، ان کے حقِ خود ارادیت اور آزاد ریاست کے قیام کے حق کو پورا کرنا ہے، خطے میں منصفانہ، پائیدار اور جامع امن کا حصول بھی مقسد میں شامل ہے۔
یہ بھی پڑھیں :قوم کی غیر متزلزل حمایت سے دہشت گردی کو شکست دینے کے لیے پرعزم ہیں: فیلڈ مارشل عاصم منیر