کیا پنجاب کے عوام کے مسائل صرف لاہور میں بیٹھ کر حل کیے جا سکتے ہیں؟

تحریر؛ عدیل احمد

Aug 31, 2026 | 20:47:PM
کیا پنجاب کے عوام کے مسائل صرف لاہور میں بیٹھ کر حل کیے جا سکتے ہیں؟
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

پنجاب ،،، آبادی اور انتظامی اعتبار سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ،،، لیکن کیا تقریباً 13 کروڑ آبادی، 41 اضلاع اور 10 ڈویژنز پر مشتمل اتنے بڑے صوبے کے تمام عوام کے مسائل صرف لاہور میں بیٹھ کر حل کیے جا سکتے ہیں؟ کیا جنوبی پنجاب کے کسی دور افتادہ گاؤں سے لے کر شمالی پنجاب کے پہاڑی علاقوں تک، ہر شہری کو اپنے مسائل کے حل کے لیے صوبائی دارالحکومت لاہور ہی کا رخ کرنا چاہیے؟ اور اگر ایک صوبہ آبادی، رقبے اور انتظامی حجم کے اعتبار سے اتنا بڑا ہو جائے کہ اس کے مختلف علاقوں کے مسائل، ترجیحات اور ضروریات ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہو جائیں، تو کیا اسے مزید انتظامی اکائیوں میں تقسیم کرنا بہتر نہیں ہو گا؟ اگر پنجاب کو تقسیم کیا جائے تو نئی صوبائی اکائیاں کہاں قائم ہوں؟ ان کی حدود کیا ہوں؟ دارالحکومت کون سے شہر بنیں؟ یہی وہ سوالات ہیں جس پر پاکستان میں گزشتہ کئی برس سے بحث جاری ہے ،،، آئیے آج ان سوالات کے جوابات جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔

2 لاکھ 5 ہزار 346 مربع کلومیٹر رقبے پر پھیلا پنجاب ،،، تقریبا 13 کروڑ عوام کا گھر ہے جو 41 اضلاع اور 10 ڈویژنز پر مشتل ہے ،،، یعنی اگر ہم پنجاب کے نقشے پر نظر ڈالیں تو ہمیں ایک ایسا صوبہ نظر آتا ہے جو شمال سے جنوب تک سینکڑوں کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے ،،، جہاں ہر خطے کا جغرافیہ، معاشرت، معیشت اور عوامی ضروریات ایک جیسی نہیں ،،، مثلاً شمالی پنجاب کے کئی علاقے نسبتاً شہری، صنعتی اور ترقی یافتہ ہیں جبکہ جنوبی پنجاب کے وسیع علاقے زرعی معیشت پر انحصار کرتے ہیں اور کئی اضلاع بنیادی سہولیات، روزگار اور انفراسٹرکچر کے حوالے سے اب بھی بڑے چیلنجز کا سامنا کر رہے ہیں ،،، اسی طرح پنجاب کے مختلف علاقوں میں زبان، ثقافت، طرزِ زندگی اور مقامی ترجیحات میں بھی نمایاں فرق پایا جاتا ہے۔

رقبے کے لحاظ سے پنجاب کا سب سے بڑا ضلع بہاولپور ہے جس کا رقبہ 24 ہزار 830 مربع کلومیٹر ہے جبکہ آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑا ضلع لاہور ہے جس کی آبادی تقریبا 1 کروڑ 30 لاکھ کے لگ بھگ ہے۔

یعنی ایک طرف پنجاب کا سب سے بڑا ضلع بہاولپور رقبے کے اعتبار سے ہزاروں مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے ،،، جبکہ دوسری طرف آبادی کے اعتبار سے لاہور ایک انتہائی گنجان اور شہری ضلع کی شکل اختیار کر چکا ہے ،،، یہی تضاد پنجاب کے انتظامی حجم کو سمجھنے کے لیے انتہائی اہم ہے ،،، ایک ہی صوبے میں کہیں آبادی کا بے پناہ دباؤ ہے، کہیں رقبہ وسیع ہے لیکن آبادی نسبتاً کم ہے، کہیں صنعت اور کاروبار مرکزی حیثیت رکھتے ہیں، تو کہیں زراعت معیشت کی بنیاد ہے۔

اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر پنجاب کو تقسیم کیا جائے تو ممکنہ طور پر کون سے نئے صوبے بن سکتے ہیں؟ 

گزشتہ کافی عرصے سے جنوبی پنجاب کو الگ صوبہ بنانے کی بازگشت سنائی دیتی رہی ہے تو اس حسان سے جنوبی پنجاب ایک الگ صوبہ بن سکتا ہے جس کا دارالحکومت ملتان کو بنایا جا سکتا ہے ،،، اس کے علاوہ وسطی پنجاب کو الگ انتظامی اکائی بنایا جا سکتا ہے ،،، اگر شمالی پنجاب کو نیا صوبہ بنایا جائے تو راولپنڈی کو اس کا سب سے موزوں اور اہم دارالحکومت بنایا جا سکتا ہے ،،، یہ صرف نقشے پر لکیریں کھینچنے کا معاملہ نہیں ،،، اس کے پیچھے آبادی، رقبہ، وسائل، پانی، زراعت، صنعت، روزگار، انفراسٹرکچر، سیاسی نمائندگی اور عوامی سہولیات جیسے بے شمار عوامل موجود ہیں۔

اگر پنجاب کو چھوٹے صوبوں میں تقسیم نہیں کرتے تو کیا ان تمام مختلف خطوں کے مسائل کا ایک ہی انتظامی مرکز سے مؤثر حل ممکن ہے؟ کیا لاہور سے بننے والی ایک ہی پالیسی جنوبی پنجاب کے دور دراز علاقوں، وسطی پنجاب کے بڑے شہری مراکز اور شمالی پنجاب کے مختلف علاقوں پر یکساں طور پر نافذ کی جاتی ہے ،،، اس لیے ضروری ہے کہ اتنی بڑی آبادی اور رقبے پر مشتمل صوبے کو چھوٹی اکائیوں میں تقسیم کیا جائے تاکہ عوام کے مسائل بخوبی حل ہو سکیں۔

دیگر کیٹیگریز: بلاگ
ٹیگز: