گریڈ 17 و بالا کے تمام سرکاری افسران کیلئے اثاثہ جات اور آمدن کی تفصیلات جمع کرانا لازمی قرار
Stay tuned with 24 News HD Android App
(بابر شہزاد تُرک)وفاقی حکومت نے گریڈ 17 و بالا کے تمام سرکاری افسران کیلئے اثاثہ جات اور آمدن کی تفصیلات آن لائن جمع کرانا لازمی قرار دے دیا ہے، اس ضمن میں اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ آفس میمورنڈم کے مطابق وفاقی حکومت کا سرکاری افسران کے اثاثوں کی تفصیلات ڈیجیٹلائز کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
سول سرونٹس کنڈکٹ رولز 2026 کے تحت گریڈ 17 و بالا افسران کیلئے آن لائن اثاثہ ڈیکلریشن لازم قرار دیا گیا ہے، سرکاری افسران کے اثاثہ جات کی ڈیجیٹلائزیشن کا نظام نافذ کر دیا گیا ہے، اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی جانب سے جاری آفس میمورنڈم کے مطابق یہ نظام فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے تعاون سے سول سرونٹس ایکٹ 1973 کی دفعہ 15-A اور سول سرونٹس (کنڈکٹ) رولز 2026 کے تحت نافذ کیا جا رہا ہے، میمورنڈم کے مطابق تمام افسران کو اپنا نام، عہدہ، فعال ای میل، موبائل نمبر اور شناختی کارڈ نمبر متعلقہ کیڈر ایڈمنسٹریٹر کو فراہم کرنا ہوگا، جس کے بعد ایف بی آر کے آن لائن پورٹل پر ان کا اکاؤنٹ بنایا جائے گا۔ اکاؤنٹ بننے کے بعد افسران شناختی کارڈ نمبر کے ذریعے لاگ اِن کرکے ’فورگٹ پاس ورڈ‘ کے آپشن سے او ٹی پی حاصل کرتے ہوئے پاس ورڈ مقرر کرسکیں گے۔
افسران پورٹل پر ’ڈیکلیریشن‘ کے آپشن کے ذریعے اپنی آمدن اور اثاثوں سے متعلق مطلوبہ معلومات جمع کرائیں گے، جبکہ فراہم کردہ معلومات کی درستگی کی ذمہ داری متعلقہ افسر پر عائد ہوگی، آفس میمورنڈم کے مطابق اثاثوں کی صرف غیر حساس تفصیلات عوام کیلئے ایف بی آر کی ویب سائٹ پر جاری کی جائیں گی، جبکہ جمع کرائی گئی معلومات کی تصدیق رسک بیسڈ چیکس کے ذریعے کی جائے گی، مالی سال 2025-26 کیلئے اثاثوں کی تفصیلات ڈیجیٹل طور پر جمع کرانے کی آخری تاریخ 30 اکتوبر 2026 مقرر کی گئی ہے۔ جمع کرائی گئی تفصیلات میں کسی غلطی کی صورت میں 30 نومبر 2026 تک متعلقہ کیڈر ایڈمنسٹریٹر کی منظوری سے ترمیم کی جاسکے گی، آفس میمورنڈم میں واضح کیا گیا ہے کہ غلط بیانی، معلومات چھپانے یا مقررہ طریقہ کار کے تحت اثاثوں کی تفصیلات جمع نہ کرانے کی صورت میں متعلقہ قواعد کے تحت تادیبی کارروائی کی جاسکتی ہے۔ تکنیکی دشواری کی صورت میں افسران اپنے متعلقہ کیڈر ایڈمنسٹریٹر سے رابطہ کریں گے، جو معاملہ ایف بی آر کے نامزد فوکل پرسن کے سامنے اٹھائے گا۔
یہ بھی پڑھیں:شادی سے پہلے کون سا اہم فیصلہ کرلیا تھا؟ مومنہ اقبال نے راز افشاں کر دیا