ہراساں کرنا، بلیک میل کرنا، بدنام کرنا اب گلے کا پھندا بنے گا
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک)خواتین کو آن لائن ہراساں کرنا آسان سمجھنے والے اب کسی کو ہراساں کرین گے تو اپنے مستقبل سے کھیلیں گے؛ ہراصان کرنا، کسی کی تصاویر اور ویڈیوز کاغیرمجاز استعمال کر کے کسی کو بدنام کرنے کی کوشش کرنا یا بلیک میل کرنے کی کوشش کرنا اب گلےکا پھندا بنے گا۔
ہراساں کرنے، ویدیوز اور تصویروں کا غیر مجاز استعمال کرنے میں ملوث افراد کی نگرانی کےلیے جینڈر ٹریکر سسٹم متعارف کروایا جا رہا ہے جبکہ عورتوں کے خلاف تشدد کے لیے خصوصی پورٹل اور ڈیجیٹل ڈیش بورڈ تیار کر لیے گئے ہیں، جو جلد لانچ ہوں گے ۔
چیئر پرسن نفیسہ شاہ کی زیرصدارت کمیٹی اجلاس میں قومی کمیشن برائے وقارِ نسواں کی قائم مقام چیئرپرسن نورین بانو نے بریفنگ میں بتایا قومی کمیشن کے شکایتی نظام میں اصلاحات کے لیے چاروں صوبوں میں بیس لائن سروے جاری ہے، نظام کو اردو، سندھی، پشتو، بلوچی سمیت مختلف زبانوں میں آسان اور مؤثر بنانے پر کام کیا جا رہا ہے۔ خواتین کو قانونی معاونت کی فراہمی کے لیے ہر صوبے میں خواتین وکلا کی خدمات لینے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔
جینڈر ڈیش بورڈ کے ایک سو پندرہ انڈیکیٹر
نورین بانو نے مزید بتایا کہ قومی جینڈر ڈیش بورڈ میں ایک سو پندرہ اشاریوں کے ذریعے خواتین کی صورتحال کا جائزہ لیا جا سکے گا۔ویمن فسیلیٹیشن سینٹر دوہزار ستائیس میں مکمل کرنے کا ہدف ہے، جہاں نادرا، پاسپورٹ، صحت، کاؤنسلنگ اور عدالتی معاونت کی سہولیات ایک جگہ فراہم کی جائیں گی۔نورین بانو نے بتایا کہ خواتین کے خلاف جرائم کے مقدمات کا بروقت اور مکمل ڈیٹا فراہم کرنے کے لیے تمام آئی جیز پولیس سے رپورٹس طلب کی گئی ہیں۔ قائم مقام چیئرپرسن کے مطابق قومی صنفی مساوات رپورٹ اور جینڈر ڈیش بورڈ کی تیاری پر کام جاری ہے ۔
یہ بھی پرھیئے: ہائے ری قسمت؛ ایشئین گیمز میں واک اوور نے بھارتی ٹیم کو کھیل سے نکلوا دیا