سہیل آفریدی نے کابینہ کے اجلاس میں سانحہ مشرقی پاکستان کا ذکر چھیڑ دیا
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک) خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے خیبر پختونخوا کی کابینہ کے اجلاس میں سنگین دھمکیاں دے دیں۔ میڈیا میں رپورٹ کیا گیا ہے کہ سہیل آفریدی نے کہا کہ اسلام آباد آنے کے تمام راستے بند کر دیئے جائیں گے، کیا مشرقی پاکستان جیسا سانحہ دہرانے کی سازش کی جا رہی ہے۔
سہیل آفریدی نے کابینہ کے اجلاس مین کہا کہ پاکستان کسی ایک فرد کی ملکیت نہیں سب کا ملک ہے۔
خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کا صوبائی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کئی نیوز آؤٹ لیتس نے رپورٹ کیا ہے جس کے مطابق سہیل آفریدی نے اپنے وزیروں سے مخاطب ہو کر کہا کہ آپ سب کو معلوم ہے گزشتہ تین چار دنوں سے مسلسل غنڈہ گرد عناصر ہمارے رہنماؤں اور کارکنان پر حملہ آور ہیں۔ صوبائی وزیر شکیل خان پر غنڈہ گردوں کی جانب سے قاتلانہ حملہ کیا گیا، انہوں نے اپنے آپ کو اغوا ہونے سے بچا لیا۔
سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ بہت جلد ظلم کا دور ختم ہو گا کسی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے صوبائی کابینہ اجلاس سے گفتگو کرتے ہوئے الزام لگایا کہ ان کے وزیر فضل شکور خان کو موٹروے ٹول پلازہ سے اترتے ہی چار پانچ گاڑیوں میں غنڈے فائرنگ کے بعد اغوا کر کے لے گئے وزیر فضل شکور کا ابھی تک کچھ معلوم نہیں ہوا کہ وہ کہاں ہے۔
خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ کو اپنے صوبے میں اپنے طاقتور لوگوں کی گرفتاریوں کی شکایت
سہیل آفریدی نے کہا کہ گزشتہ روز آب پاشی کے وزیر ریاض خان کے گھر پر بھی کچھ لوگ گئے تھے۔ ڈیرہ اسمٰعیل خان اور دیگر اضلاع میں بھی کارکنوں اور منتخب نمائندوں کے ساتھ نارواسلوک رکھا جا رہا ہے۔ مردان سے رکن قومی اسمبلی فضل خان کو گرفتار کیا گیا۔
سہیل آفریدی نے اپنی کابینہ کے اجلاس میں پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کا بھی ذکر کیا اور یہ دہرایا کہ وہ جعلی وزیر اعلیٰ ہیں اور وہ خیبر پختونخوا سے پنجاب کو خطرے کی باتیں کرتی ہیں۔
سہیل آفریدی نے الزام لگایا کہ وزیراعظم کےمشیر رانا ثنا اللہ کی جانب سے بھی خیبرپختونخوا کے عوام کو دہشت گرد قرار دینے سے متعلق بیانات سامنے آئے۔
آج خیبر پختونخوا کو باقی ملک سے کاٹ دیں گے، سہیل آفریدی نے کابینہ کے اجلاس میں "مشرقی پاکستان کے سانحہ" کا ذکر چھیڑ دیا
سہیل آفریدی نے الزام لگایا کہ کہ آج (23ستمبر کو) خیبرپختونخوا کو باقی پاکستان سے کاٹ دیا جائے گا اور خیبر پختونخوا کے لیے تمام راستے بند کر دیئے جائیں گے جبکہ باقی پاکستان کھلا ہو گا۔ اس کا ہم کیا مطلب سمجھیں؟َ کیا سانحہ مشرقی پاکستان کو دہرانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ سہیل آفریدی نے کہا ہم یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ کوئی کتنی بھی سازش کرے یہ پاکستان ہمارا ہے اور ہم نے پاکستان کو کسی صورت ٹوٹنے نہیں دینا، ہم مرتے دم تک پاکستان کے ساتھ کھڑے رہیں گے اور جو خیبر پختونخوا کو پاکستان سے علیحدہ کرنے کی سازش کرے گا ان کے لیے پیغام ہے کہ پاکستان ہمارا تھا، ہمارا ہے اور ہمارا رہے گا۔
وزیراعلیٰ نے الزام عائد کیا کہ سادہ کپڑوں میں ملبوس افراد بیوروکریسی، پولیس، ڈپٹی کمشنرز اور ڈسٹرکٹ پولیس افسران کو ڈرا اور دھمکا رہے ہیں۔
انہوں نے بیوروکریسی اور پولیس افسران کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ انہیں خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں، اگر صوبائی حکومت کسی افسر سے کوئی غلط کام نہیں کروا رہی تو کسی ادارے یا محکمے کے غلط احکامات پر عمل نہ کیا جائے۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ پاکستان کسی ایک فرد کی ملکیت نہیں بلکہ سب کا ملک ہے اور احتجاج کرنا ہر شہری کا آئینی و قانونی حق ہے۔ اور ہم پرامن احتجاج کریں گے کیونکہ ہمیں کہیں بھی نہیں سنا جا رہا۔
یہ بھی پڑھیں: ہراساں کرنا، بلیک میل کرنا، بدنام کرنا اب گلے کا پھندا بنے گا
سہیل آفریدی نے کہا کہ جب تک آئین میں پرامن احتجاج کا حق موجود ہے، تو ہم پرامن جدوجہد جاری رکھیں گے، ہم احتجاج ہر صورت کریں گے اور اگر کوئی احتجاج کرنے کا حق نہیں دینا چاہتا تو آئین سے اس کی شق ہی ہٹا دیں۔
انہوں نے خیبرپختونخوا اور ملک بھر کے عوام کو پیغام دیا کہ جو جتنا بڑا ظالم ہوتا ہے وہ اتنا بڑا ڈرپوک ہوتا ہے، آپ لوگوں نے گھبرانا اور ڈرنا نہیں ہے، اپنی حقیقی آزادی کے لیے کھڑے ہونا ہے اور پرامن جدوجہد جاری رکھنی ہے۔ بہت جلد یہ ظلم کا دور ختم ہو گا۔