لانگ مارچ کا منصوبہ؛ پی ٹی آئی کے سیکرٹری اطلاعات نے بڑااعلان کر دیا

Sep 19, 2026 | 23:55:PM
لانگ مارچ کا منصوبہ؛ پی ٹی آئی کے سیکرٹری اطلاعات نے بڑااعلان کر دیا
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نےلانگ مارچ کو خلاف قانون قرار دینے کے اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلےکے خلاف سپریم کورٹ جانےکا اعلان کردیا۔ پی ٹی آئی نے اسلام آباد ہائی کورٹ مین  27 ستمبر کو اپنے لانگ مارچ  کے متعلق درخواست پر فیصلہ دیا تھا کہ یہ سرگرمی قانون کے خلاف ہو گی، اس کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم کا کہنا ہےکہ 27 ستمبر کا لانگ مارچ ملتوی نہیں ہوگا، احتجاج کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم کو سپریم کورٹ سمیت اعلیٰ عدالتوں میں چیلنج کریں گے۔ 

 شیخ وقاص اکرم نے ایک نیوز چینل کے اینکر سے شکایت کی کہ وزیر داخلہ محسن نقوی کا لہجہ افسوسناک ہے،کیا حکومتی وزرا کا کام اپوزیشن کو اس طرح کی دھمکیاں دینا ہےکہ گولیاں چلائی جائیں گی۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ کیاہے؟

اسلام آباد ہائی کورٹ نے 27 ستمبر کے پی ٹی آئی لانگ مارچ کے منصوبے کے خلاف درخواست پر 37 صفحات پر مشتمل  فیصلے میں کہا ہےکہ ایسی سرگرمی جس سے بنیادی حقوق متاثر ہوں وہ آئین کی خلاف ورزی تصور ہوگی، اسلام آباد کے شہریوں کے بنیادی حقوق کی خلاف وزری آئین کی خلاف ورزی تصور ہوگی، ذمہ دار شخص کو قانون کے مطابق کارروائی کا سامنا کرنا ہوگا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے کہا کہ کسی بھی سیاسی جماعت کو شاہراہیں اور راستے بند کرنے کا کوئی قانونی حق نہیں، صوبائی حکومتیں اسلام آباد مارچ کےلیے سرکاری وسائل اور فنڈز کا استعمال نہ کریں، سرکاری گاڑیوں اور مشینری کو لانگ مارچ کی سہولت کےلیےاستعمال کرنے پرمکمل پابندی ہے۔

یہ بھی پڑھیئے:  وفاقی حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں غیر معمولی ریلیف دینے کی یقین دہانی کر دی 

ہائی کورٹ کے حکم نامے میں کہا گیا کہ غیر قانونی احکامات کی صورت میں سرکاری ملازمین کے لیے فوری ہیلپ لائن قائم کی جائے، عدالتی احکامات کی خلاف ورزی اور شہریوں کےحقوق متاثر کرنے والوں کے خلاف کارروائی ہوگی۔

عدالت نے کہا کہ عوامی عہدہ رکھنے والا اگر آئین و قانون کی خلاف ورزی کرے تو وہ اپنے حلف سے انحراف کا مرتکب ہوگا، سرکاری عہدیدارکی وجہ سے بنیادی حقوق متاثر ہوئے تو اسے حلف کی خلاف ورزی تصور کیا جائےگا، آئین اور قانون کی خلاف ورزی پر ذمہ دار سرکاری افراد کو نتائج کا سامنا کرنا ہوگا۔

یہ بھی پڑھیئے:  بانی کے معاملات؛ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان  نیا رابطہ سامنے آ گیا