دہشت گرد تنظیمیں بچیوں کو ورغلا کر انہیں ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث کرتی ہیں، سابق دہشتگرد خواتین نے حقائق بتا دیئے

Sep 19, 2026 | 19:03:PM
دہشت گرد تنظیمیں بچیوں کو ورغلا کر انہیں ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث کرتی ہیں، سابق دہشتگرد خواتین نے حقائق بتا دیئے
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک)  کالعدم تنظیم کی رکن  خواتین نے کوئٹہ پریس کلب میں صحافیوں کو بتایا کہ دہشت گرد تنظیمیں بچیوں کو ورغلا کر انہیں ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث کرتی ہیں۔ سابق دہشتگرد خواتین نے  فتنہ الہندوستان کی  شیطانی سرگرمیوں کے حقائق صحافیوں کو  بتا دیئے۔

فتنہ الہندوستان کی کالعدم دہشتگرد تنظیم سے وابستہ رہنے والی خواتین خدیجہ پیر جان اور صفیہ عبدالخالق نے صحافیوں کو بتایا  کہ دہشت گرد تنظیمیں بچیوں کو ورغلا کر انہیں ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث کرتی ہیں، انہوں نے خواتین سے اپیل کی  کہ وہ شدت پسندوں کی ورغلانے اور بہکانے والی باتوں کے جال میں نہ آئیں اور ملک مخالف سرگرمیوں کا حصہ بننے سے گریز کریں۔

کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے تربت کے علاقے تمپ سے تعلق رکھنے والی خاتون خدیجہ پیر جان نے بتایا کہ وہ بی ایم سی کالج میں نرسنگ کی تعلیم حاصل کر رہی تھیں۔ ان کے شوہر حاصل حرف دودا کا تعلق ایک کالعدم  دہشتگردتنظیم سے تھا۔ دودا نے پہلے اپنی بیوی کے بھائی کو  ورغلا کر دہشتگرد تنظیم میں شامل کیا اور بعد  میں انہیں بھی  اس دہشتگرد تنظیم کے لیے کام کرنے پر آمادہ کیا۔ خدیجہ پیر جان نے بتایا کہ انہیں کوئٹہ سے حراست میں لیا گیا۔

 ضدیجہ پیر جان نے بتایا کہ  نفسیاتی بحالی کے عمل کے دوران انہیں اپنی غلطی کا احساس ہوا اور وہ اپنے کئے پر شرمندہ ہیں۔ 

اس  پریس کانفرنس کے دوران بسیمہ سے تعلق رکھنے والی نوجوان خاتون صفیہ عبدالخالق نے بتایا کہ ان کا کزن اسرار کالعدم  دہشتگرد تنظیم بی ایل اے سے وابستہ تھا۔ کزن نے انہیں ورغلایا اور  تنظیم میں شامل کروایا۔

یہ بھی پڑھیئے:  پاکستان میں  80 فیصد خودکش بمبار افغانستان سے آ رہے ہیں، سعودی عرب کے ساتھ ہیں 

صفیہ عبدالخالق  نے بتایا کہ کالعدم بی ایل اے کے ایک کمانڈر نے انہیں نیا موبائل فون دیا۔ انہیں  خودکش حملے کے لیے گاڑی چلانے کی تربیت بھی دی گئی۔

 صفیہ عبدالخالق نے بتایا کہ سیکیورٹی فورسز نے انہیں گرفتار کرلیا ۔ صفیہ عبدالخالق نے بھی دہشتگرد گروہ کے طریقہ کار کے بارے میں بتایا کہ کن کن طریقوں سے بچیوں کو گمراہ کر کے  ورغلایا جاتا ہے اور خود کش حملے کی حد تک لے جایا جاتا ہے۔ انہوں نے  بتایا کہ نفرت کالعدم تنظیموں کے کرتا دھرتا لوگوں کا سب سے برٓ ہتھیار ہے۔ نفرت کو ابھار کر  بچیوں کو مختلف طریقوں سے ورغلایا جاتا ہے۔ دونوں خواتین نے دیگر لڑکیوں سے اپیل کی کہ وہ کسی کے بہکاوے میں نہ آئیں۔ دہشت گرد تنظیموں کی سرگرمیوں سے دور رہیں اور ملک مخالف سرگرمیوں کا حصہ نہ بنیں۔ 

یہ بھی پڑھیئے:  21 ہزار طلبہ میں سے نیا ٹیلنٹ تلاش کریں گے: محسن نقوی