پاکستان میں 80 فیصد خودکش بمبار افغانستان سے آ رہے ہیں، سعودی عرب کے ساتھ ہیں
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک) ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا ہے کہ بھارتی سرپرستی میں افغان سرزمین سے دہشتگردی روکنا طالبان رجیم کی ذمے داری ہے۔ پاکستان میں 80 فیصد خودکش بمبار افغانستان سے آتے ہیں۔
عرب نیوز کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا کہ افغان طالبان رجیم سے پاکستان کا ایک ہی ٹھوس مطالبہ ہے کہ وہ افغان سرزمین سے پاکستان کے اندر ہونے والی دہشتگردی کو روکے۔
انہوں نے کہا کہ 80 فیصد خودکش بمبار افغان ہیں ۔ افغانستان سے پاکستان آنے والی ہر تشکیل میں افغان شہری موجود ہوتے ہیں۔
ترجمان پاک فوج احمد شریف چودھری نے کہا ، گر افغان طالبان رجیم دوحہ معاہدے کے تحت کیے گئے وعدوں پر عملدرآمد نہیں کرتی تو پاکستان کو اپنے دفاع کا مکمل حق حاصل ہے۔
بلوچستان کی صورتحال پر ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ دہشتگردوں کو عوام کی حمایت حاصل نہیں، وہ اپنے نظریے کو بندوق کی نوک پر مسلط کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ دہشتگردی کی سرپرستی بھارت کر رہا ہے اور سوشل میڈیا باہر سے چلایا جا رہا ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا کہ ریاست کی پالیسی بالکل واضح ہے کہ دہشتگردوں کے ساتھ کوئی بات چیت نہیں ہوگی۔
یہ بھی پڑھیئے: آپریشن ردالفتنہ3 :سکیورٹی فورسز کی پنجگور ، چاغی میں کارروائیاں، 11 دہشتگرد ہلاک
سعودی عرب کے حوالے بات کرتے ہوئے ترجمان پاک فوج نے کہا کہ پاکستان عملی طور پر سعودی عرب کی مدد کے لیے وہاں موجود ہے اور سفارتی لحاظ سے بھی سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستان سعودی قیادت کی ضرورت کے مطابق حرمین شریفین اور سعودی عرب کی حفاظت کے لیے کسی حد تک بھی جانے کے لیے مکمل تیار ہے۔ سعودی عرب کی سلامتی کے لیے پاکستان کا عزم غیر مشروط ہے، جو جذباتی، دیرینہ، تاریخی اور اٹوٹ رشتے سے جڑا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس میں کسی کو شک و شبہ نہیں ہونا چاہیے کہ پاکستان کے عوام سعودی عرب کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ پاکستان سعودی عرب کے خلاف ہونے والی کسی بھی جارحیت کا دفاع کرنے کے لیے تیار ہے۔
ترجمان پاک فوج نے کہا کہ پاکستان نے نہ صرف مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے بلکہ اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدے کے تحت بھی جو وعدے اور عزم کیے ہیں، ان کی پاسداری کی جا رہی ہے۔ پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت مسلسل سعودی قیادت کے ساتھ رابطے میں ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پاکستان کی مسلسل، انتھک اور انتہائی پرخلوص سفارتکاری کے بعد طے پائی۔ پاکستان کی جانب سے سعودی عرب کے ساتھ تعاون اور رابطے کا سلسلہ برقرار ہے۔
یہ بھی پڑھیئے: مسجد پر حملہ کرنے والا دہشتگرد افغانی تھا