سہیل آفریدی کی  دہشتگردی میں شہید ہونے والوں کے لواحقین سے ملاقات میں ریاست کی پالیسی پر شدید تنقید

Sep 19, 2026 | 20:30:PM
سہیل آفریدی کی  دہشتگردی میں شہید ہونے والوں کے لواحقین سے ملاقات میں ریاست کی پالیسی پر شدید تنقید
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک)  خیبر پختونخوا  میں پی ٹی آئی کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے ایک بار پھر ریاست کی دہشتگردی کے خلاف پالیسی پر تنقید کی اور   بڑھتی ہوئی  دہشتگردی کو دہشتگردوں کا جرم ماننے کی بجائے پاکستان کی خارجہ پالیسی ہ کا نتیجہ قرار دے دیا۔ 

 وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا یہ الزام کوہاٹ میں پولیس لائنز مسجد  پر دہشتگردوں کے حملے میں شہید ہونے والے اہلکاروں کے لواحقین کے ساتھ ملاقات میں باتیں کرتے ہوئے لگایا۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں بڑھتی دہشتگردی کی وجہ ناکام خارجہ پالیسی ہے۔
 میڈیا رپورٹس کے مطابق  سہیل آفریدی نے شہید اہلکاروں کے لواحقین کے ساتھ تعزیت کی غرض سے جو ملاقات کی اس مین انہوں نے سیاسی باتین کیں اور ریاست کی پالیسی پر ایک بار پھر تنقید کی۔ سہیل آفریدی نے دعویٰ کیا کہ  ہماری پالیسی پر عمل کیا جائے تو  ہم 100 دن میں امن لا سکتے ہیں ،مسئلہ یہ ہے کہ ہماری پالیسی پر عمل کون کرے گا۔
صوبہ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے الزام عائد کیا  کہ خیبر پختونخوا میں بڑھتی دہشت گردی کی وجہ ناکام خارجہ پالیسی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  مسجد پر حملہ کرنے والا دہشتگرد افغانی تھا 

یہ بھی پڑھیئے:  آپریشن ردالفتنہ3 :سکیورٹی فورسز کی پنجگور ، چاغی میں کارروائیاں، 11 دہشتگرد ہلاک 

یہ بھی پڑھیئے:  پاکستان میں  80 فیصد خودکش بمبار افغانستان سے آ رہے ہیں، سعودی عرب کے ساتھ ہیں 

 میڈیا رپورٹس کے مطابق  سہیل آفریدی نے کوہاٹ کا دورہ کیا اور اسپتال کا دورہ کرکے پولیس لائنز دہشت گردی کے واقعے میں زخمی ہونے والے پولیس اہلکاروں کی عیادت کی۔

سہیل آفریدی نے کوہاٹ پولیس لائنز دہشت گردی کے شہدا کے اہلخانہ سے ملاقات میں اظہارِ تعزیت کیا۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا نے 2004 سے اب تک دہشت گردی کےخلاف بےشمارقربانیاں دیں، خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے باعث 80 ہزار قیمتی جانیں ضائع ہوئیں، بانی پی ٹی آئی عمران خان کی حکومت میں خیبر پختونخوا میں امن دیکھا۔

 میڈیا رپورٹس کے مطابق سہیل آفریدی نے کہا کہ قبائلی اضلاع کے معاشی حالات خراب ہوگئے ہیں، خیبر پختونخوا میں دہشت گردی بڑھ گئی ہے اور مزید بڑھتی جارہی ہے، دہشت گردی میں اضافے کی ایک وجہ ناکام خارجہ پالیسی ہے، بند کمروں میں بیٹھ کر فیصلے کرنے والی پالیسی کارآمد اور مؤثر نہیں ہے۔

سہیل آفریدی  نے یہ بھی کہا کہ موجودہ پالیسی دیرپا امن کے لیے مؤثر ثابت نہیں ہو رہی، ہماری پالیسی پی ٹی آئی کےفائدے کےلیے نہیں، کےپی اورملک کےفائدےکےلیےہے، ہماری پالیسی پر عمل کیا جائے تو 100 دن میں امن لا سکتے ہیں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ہماری پالیسی پر عمل کون کرےگا۔

سہیل آفریدی نے الزام لگایا کہ کچھ لوگ پی ٹی آئی کو ختم کرنے میں لگے ہوئے ہیں، ایک صوبے کا وزیراعلیٰ دوسرے صوبے  میں جاتا ہے تو اس کےساتھ کیا رویہ اختیارکیاجاتا ہے، وزیراعلیٰ کو دوسرے صوبے میں جا کر  احتجاج کرنے سے روکا جاتا ہے، وفاقی ادارے پی ٹی آئی کو ختم کرنے میں لگے ہوئےہیں۔

سہیل آفریدی نے  شہیدوں کے لواحقین کے ساتھ تعزیتی ملاقات میں پنجاب کی وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف پر بھی تنقید کی اور کہا کہ ہمیں دہشت گرد کہاجاتا ہے اور کہا جاتا ہے بھارت سے خطرہ نہیں، بھارت سے خطرہ نہیں تو تین صوبوں سے خطرہ کیوں قرار دیا جا رہا ہے، خیبر پختونخوا کے عوام اور پولیس کو اپنے لیے خود کھڑا ہونا ہوگا، میں اپنے عوام کے ساتھ کھڑا ہوں اور ان کے ساتھ رہوں گا۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز کوہاٹ میں پرانی پولیس لائنز کی مسجد کے قریب خودکش دھماکے میں 16 پولیس اہلکاروں سمیت 22 افراد شہید ہوئے تھے،  دہشتگردی کے اس واقعے میں  سو سے زیادہ  افراد زخمی ہوئے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اس دہشتگرد حملے میں حصہ لینے والے آٹھ دہشتگردوں کو جہنم واصل کیا جن میں سے کم از کم دو خودکش تھے۔ ایک خود کش کا تعلق افغانستان سے ثابت ہوا ہے اور باقی دہشتگردوں کی اصلیت کو شناخت کرنے کا عمل جاری ہے۔