میڈیکل اور ڈینٹل کالجز میں داخلے کیلئے ایم ڈی کیٹ کا امتحان کل 20 ستمبر کو ہوگا

Sep 19, 2026 | 20:59:PM
میڈیکل اور ڈینٹل کالجز میں داخلے کیلئے ایم ڈی کیٹ کا امتحان کل 20 ستمبر کو ہوگا
سورس: Google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(بابر شہزاد تُرک)میڈیکل اور ڈینٹل کالجز میں داخلے کیلئے ایم ڈی کیٹ 2026 کا امتحان کل 20 ستمبر بروز اتوار صبح 10 بجے ملک بھر میں منعقد ہوگا، جس کیلئے پاکستان کے 34 امتحانی مراکز کے علاوہ سعودی عرب کے شہر ریاض میں بھی ایک امتحانی مرکز قائم کیا گیا ہے۔

 پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کے مطابق رواں سال ایم ڈی کیٹ کیلئے ملک بھر سے مجموعی طور پر ایک لاکھ 38 ہزار 160 امیدوار رجسٹرڈ ہیں، جبکہ ریاض میں 237 امیدوار امتحان دیں گے، ٹوینٹی فور نیوز کو دستیاب دستاویزات کے مطابق پنجاب سے ایم ڈی کیٹ کیلئے 49 ہزار 199 امیدوار رجسٹرڈ ہیں، خیبرپختونخوا سے 38 ہزار 841، سندھ سے 34 ہزار 233، بلوچستان سے 9 ہزار 923، آزاد کشمیر سے 2 ہزار 761، گلگت بلتستان سے ایک ہزار 721 جبکہ اسلام آباد سے ایک ہزار 245 امیدوار رجسٹرڈ ہیں۔

 سعودی عرب کے شہر ریاض میں قائم امتحانی مرکز کیلئے 237 امیدواروں نے رجسٹریشن کرائی ہے، پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کے مطابق ایم ڈی کیٹ کا امتحانی پرچہ 180 کثیرالانتخابی سوالات پر مشتمل ہوگا اور امیدواروں کو اسے حل کرنے کیلئے تین گھنٹے کا وقت دیا جائے گا, امتحان مجموعی طور پر 180 نمبروں کا ہوگا,سوالیہ پرچے میں بائیولوجی، کیمسٹری، فزکس، انگریزی اور آئی کیو سے متعلق سوالات شامل ہوں گے۔

 میڈیکل کالج میں داخلے کیلئے ایم ڈی کیٹ میں کم از کم 55 فیصد جبکہ ڈینٹل کالج میں داخلے کیلئے 50 فیصد نمبر حاصل کرنا ضروری ہوں گے، پی ایم اینڈ ڈی سی کے مطابق ایم ڈی کیٹ 2026 میں نیگیٹیو مارکنگ نہیں ہوگی، اس لئے غلط جواب دینے پر امیدوار کے حاصل کردہ نمبروں میں سے نمبر منہا نہیں کیے جائیں گے, امتحان کے بعد آنسر کی اپ لوڈ کی جائے گی تاکہ امیدوار اپنے جوابات کا جائزہ لے سکیں۔

امتحان میں شفافیت کو یقینی بنانے کیلئے امیدواروں کو کاربن کاپی بھی فراہم کی جائے گی تاکہ وہ اپنے حل کیے گئے جوابات کا ریکارڈ اپنے پاس رکھ سکیں، کونسل کے مطابق ایم ڈی کیٹ 2026 کیلئے تقریباً 8 ہزار سوالات پر مشتمل سوالاتی بینک تیار کیا گیا ہے، جس کی تیاری میں تقریباً 80 مختلف مضامین کے ماہرین نے حصہ لیا۔

 سوالات ملک بھر سے منتخب ماہرین نے تیار کیے ہیں اور امتحانی پرچوں کی تیاری میں مختلف مضامین کے ماہرین کی خدمات حاصل کی گئی ہیں، پی ایم اینڈ ڈی سی نے ایم ڈی کیٹ کے امتحانی عمل کو پرچہ لیک ہونے کی صورت میں پورے ملک میں امتحان منسوخ ہونے کے خدشے سے محفوظ بنانے کیلئے بھی نیا انتظام کیا ہے۔ کونسل کے مطابق ہر صوبے کیلئے علیحدہ سوالیہ پرچے تیار کیے گئے ہیں اور ہر صوبے کیلئے کم از کم دو الگ پرچے تیار کیے گئے ہیں۔

 اس انتظام کا مقصد یہ ہے کہ کسی ایک صوبے یا امتحانی مرکز میں سوالیہ پرچہ لیک ہونے یا امتحانی عمل متاثر ہونے کی صورت میں پورے ملک کے امتحان کو منسوخ کرنے کی ضرورت پیش نہ آئے، کونسل کے مطابق ہر سوالیہ پرچے میں 180 سوالات شامل ہیں جبکہ امتحان مکمل ہونے کے بعد سوالیہ پرچے متعلقہ جامعات کے پاس رکھے جا سکتے ہیں۔

 ایم ڈی کیٹ کے عملی انعقاد کی ذمہ داری متعلقہ صوبائی حکام اور نامزد یونیورسٹیوں کو دی گئی ہے، جبکہ پی ایم اینڈ ڈی سی کا قانونی کردار امتحانی فریم ورک، طریقہ کار اور معیار وضع کرنا ہے، پنجاب میں ایم ڈی کیٹ کے انعقاد کی ذمہ داری یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز لاہور کو تفویض کی گئی ہے۔

 سندھ میں امتحان کے انعقاد کی ذمہ داری سکھر آئی بی اے، خیبرپختونخوا میں خیبر میڈیکل یونیورسٹی جبکہ بلوچستان میں بولان یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز کوئٹہ کے سپرد کی گئی ہے, اسلام آباد، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے امیدواروں کے امتحان کی ذمہ داری شہید ذوالفقار علی بھٹو میڈیکل یونیورسٹی اسلام آباد کو دی گئی ہے، ریاض، سعودی عرب میں قائم امتحانی مرکز میں بھی ایم ڈی کیٹ کے انعقاد کی ذمہ داری شہید ذوالفقار علی بھٹو میڈیکل یونیورسٹی اسلام آباد کے سپرد کی گئی ہے.

بلوچستان کے امیدواروں کیلئے خصوصی انتظامات کے تحت اسلام آباد میں بھی اضافی ایم ڈی کیٹ امتحانی مرکز قائم کیا گیا ہے، بولان یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز کی جانب سے قائم اس اضافی امتحانی مرکز سے بلوچستان ڈومیسائل رکھنے والے امیدوار استفادہ کرسکیں گے، اس انتظام کا مقصد بلوچستان سے تعلق رکھنے والے ان امیدواروں کو سہولت فراہم کرنا ہے جو اسلام آباد میں امتحان دینا چاہتے ہیں، آزاد کشمیر کے امیدواروں کیلئے بھی الگ انتظامات کیے گئے ہیں۔

پی ایم اینڈ ڈی سی کے مطابق آزاد کشمیر کے طلبہ کیلئے علیحدہ پورٹل قائم کیا گیا ہے جبکہ انٹرنیٹ کے مسائل کے باعث آزاد کشمیر کے امیدواروں کو ایم ڈی کیٹ کی ہارڈ کاپی فراہم کی جائے گی۔ آزاد کشمیر کے طلبہ کیلئے اسلام آباد میں بھی خصوصی امتحانی مرکز قائم کیا گیا ہے، پی ایم اینڈ ڈی سی کے مطابق امیدواروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ صبح 7 بجے تک اپنے متعلقہ امتحانی مراکز پہنچ جائیں۔

 امتحان صبح 10 بجے شروع ہوگا، تاہم امیدواروں کیلئے ضروری شناخت، تصدیق اور دیگر امتحانی کارروائی مکمل کرنے کیلئے وقت سے پہلے مرکز پہنچنا ضروری قرار دیا گیا ہے۔ امتحانی ضوابط کے مطابق تمام امیدواروں کو امتحان کے اختتام تک اپنی نشستوں پر بیٹھنا ہوگا اور انہیں مقررہ وقت سے قبل امتحانی مرکز سے جانے کی اجازت نہیں ہو گی، وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال کے مطابق وزارت صحت اور پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل ایم ڈی کیٹ کے امتحان کی نگرانی کریں گے۔

ان کا کہنا ہے کہ ایم ڈی کیٹ کے عملی انعقاد کی ذمہ داری صوبوں اور نامزد میڈیکل یونیورسٹیوں کی ہے، جبکہ پی ایم اینڈ ڈی سی امتحانی فریم ورک، طریقہ کار اور معیار وضع کرنے میں قانونی کردار ادا کرتی ہے، پی ایم اینڈ ڈی سی کے مطابق ایم ڈی کیٹ 2026 کے امتحانی عمل میں شفافیت، سوالیہ پرچوں کی سکیورٹی اور مختلف علاقوں کے امیدواروں کو امتحان میں شرکت کی سہولت فراہم کرنے کیلئے متعدد انتظامات کیے گئے ہیں۔ ہر صوبے کیلئے الگ پرچوں کی تیاری، متعدد متبادل پرچے، کاربن کاپی کی فراہمی، امتحان کے بعد آنسر کی جاری کرنے اور مختلف علاقوں میں خصوصی امتحانی مراکز کا قیام انہی انتظامات کا حصہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں :این اے 77 ضمنی الیکشن،مسلم لیگ ن کا راشد بشیر ورک کو ٹکٹ دینے کا فیصلہ