انگلینڈ کے انگلینڈ کی حکومت عمران خان کو رہا کروائے، سابق برٹش وزیراعظم کا مطالبہ وزیراعظم بورس جانسن عمران خان کیلئے فکر مند
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک) انگلینڈ کے سابق وزیراعظم بورس جانسن عمران خان کیلئے فکر مند ہیں۔ بورس جانسن نے ایک مضمون لکھ کر عمران خان کے بارے مین اپنی پریشانی کا اظہار کیا ہے۔ یہ مضمون انگلینڈ کے اخبار ڈیلی میل میں شائع ہوا ہے۔
بورس جانسن نے الزام عائد کیا کہ عمران خان کو جیل میں "چھوٹی سی کوٹھڑی" میں رکھا گیا ہے۔ بورس جانسن نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ عمران خان سیاسی فیصلوں میں فوج کے اثر و رسوخ کے خلاف تھے اس وجہ سے ان کے خلاف کئی قانونی مقدمات سامنے آئے۔
’ڈیلی میل‘ میں آج ہفتہ کے روز شائع ہوئے اس مضمون میں جانسن نے کہا کہ عمران خان پاکستان کی ایک جیل میں چھوٹی سی کوٹھری میں قید ہیں۔ وہاں انہیں ورزش، مطالعہ کے لیے مواد سمیت دیگر سرگرمیوں کے لیے محدود سہولتیں حاصل ہیں۔ اس مضمون میں جانسن نے انگلینڈ کی حکومت سے اپنے اثر و رسوخ کا استعمال کرتے ہوئے عمران خان کی پاکستانی جیل سے رہائی میں مدد کرنے کا مطالبہ کیاہے۔
بورس جانسن 24 جولائی 2019 سے 6 ستمبر 2022 تک برطانیہ کے وزیراعظم رہے۔ ان کے وزیر اعظم بننے کے وقت عمران خان پاکستان میں وزیراعظم تھے اور عمران خان کے سالے انگلینڈ میں بورس جانسن کی ٹوری پارٹی میں سیاست کر رہے تھے۔ عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد نے ان کی حکومت گرائی تھی، اس کے کچھ ہی ماہ بعد بورس جانسن کو بھی انگلینڈ میں اپنی حکومت کے کئی سکینڈلز آنے کے بعد اور پالیسیوں کی عمومی ناکامی کے بعد وزیر اعظم کے عہدہ سے استعفیٰ دینا پڑا تھا۔ وزیراعظم ہاؤس سے نکلنے کے دو ماہ بعد ہی انہیں ٹوری پارٹی کی قیادت سے بھی نکلنا پڑا تھا۔
بورس جانسن نےعمران خان کے خلاف چل رہے قانونی مقدمات کے حوالے سے بھی اپنی رائے پیش کی۔ بورس جانسن نے الزام لگایا کہ عمران خان پر کئی مقدمات "سیاسی محرکات پر مبنی" ہیں۔ ان مقدمات کی بڑی وجہ بدعنوانی نہیں، بلکہ پاکستانی فوج کی مخالفت ہے۔ بورس جانسن نے لکھا کہ عمران خان سیاسی فیصلوں میں فوج کے اثر و رسوخ کے خلاف تھے۔ اسی وجہ سے ان کے خلاف کئی قانونی مقدمات سامنے آئے۔ لیکن اپنے مضمون میں انہوں نے اپنے اس دعوے کے حق میں کوئی شواہد بیان کرنا ضروری نہیں سمجھا۔
یہ بھی پڑھین: پاکستان میں 80 فیصد خودکش بمبار افغانستان سے آ رہے ہیں، سعودی عرب کے ساتھ ہیں، جنرل احمد شریف چودھری
جانسن کے مضمون میں پاکستان کی فوج کے حوالے سے کچھ اور بھی الزام عائد کئے گئے ہیں۔ دعوے کیے گئے ہیں۔ اس میں کہا گیا ہے کہ فوج کو خوف ہے کہ اگر عمران خان جیل سے باہر آتے ہیں تو وہ دوبارہ اقتدار میں آ سکتے ہیں۔
جانسن نے کہا کہ برطانیہ کو اپنے اثر و رسوخ کا استعمال کرتے ہوئے عمران خان کی رہائی میں مدد کرنی چاہیے۔
یہ بھی پڑھیئے: آپریشن ردالفتنہ3 :سکیورٹی فورسز کی پنجگور ، چاغی میں کارروائیاں، 11 دہشتگرد ہلاک
بورس نے لکھا کہ وہ عمران خان کو پسند کرتے ہیں۔ تاہم، دونوں کے خیالات ہر معاملے پر یکساں نہیں ہیں۔ وہ روس، طالبان اور امریکہ کے حوالے سے عمران خان کے موقف سے متفق نہیں۔ انہوں نے پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کے لیے حمایت کا اظہار کیا، لیکن ان کی پالیسیوں سے خود کو الگ بھی کیا اور یہ بھی نہیں بتایا کہ وہ دراصل کس معاملے پر عمران خان سے متفق رہے ہیں۔
بورس جانسن چار سال پہلے وزارت عظمیٰ اور ٹوری پارٹی کی قیادت چھوڑنے کے بعد اب ایک ریٹائرڈ سیاستدان جیسی زندگی گزارتے ہیں۔
بورس جانسن کی عمران خان کے ساتھ ملاقاتیں
سابق وزیراعظم بورس جانسن کی پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کے ساتھ کچھ ہی ملاقاتیں ہوئیں۔
نیویارک میں آفیشل ملاقات (ستمبر 2019)
بورس جانسن اور بانی کی سب سے مشہور اور آفیشل تصویر ستمبر 2019 کی ہے، جب اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی (UNGA) کے 74 ویں سیشن کے موقع پر وزرائے اعظم کی حیثیت سے دونوں نے نیویارک میں ایک باقاعدہ دوطرفہ ملاقات کی تھی۔ اس ملاقات کی ہائی ریزولوشن تصاویر عالمی خبر رساں اداروں اور حکومت پاکستان کے آفیشل ہینڈلز پر موجود ہیں۔

پاکستان کا دورہ اور مشہور سیلفی (نومبر 2016)
اس سے قبل، نومبر 2016 میں بورس جانسن جب انگلینڈ کے وزیر خارجہ کی حیثیت سے پاکستان کے سرکاری دورے پر آئے تھے، تو انہوں نے پی ٹی آئی کے بانی عمران خان سے ملاقات کی تھی۔ اس ملاقات کے دوران بورس جانسن نے خود اپنے موبائل سے عمران خان کے ساتھ ایک مشہور سیلفی لی تھی جو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی۔

