یورپی ممالک نے غیر قانونی تارکینِ کیخلاف نئے قوانین کی منظوری دیدی

Sep 19, 2026 | 22:51:PM
یورپی ممالک نے غیر قانونی تارکینِ کیخلاف نئے قوانین کی منظوری دیدی
سورس: Google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24 ںیوز) یورپی ممالک نے غیر قانونی تارکینِ وطن کے خلاف نئے سخت قوانین و قواعد منظور کیے ہیں، جس کے  تحت ویزا ختم ہونے کے بعد مزید قیام کے سنگین نتائج بھگتنا ہوں گے۔

بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ کے مطابق یورپی یونین نے ایسے غیر یورپی شہریوں کی واپسی سے متعلق قواعد مزید سخت کرنے کی منظوری دی ہے جو یورپی یونین کے رکن ممالک میں قانونی طور پر قیام کا حق نہیں رکھتے۔

یورپی پارلیمنٹ نے 17 جون 2026 کو واپسی کے نئے ضوابط کی منظوری دی، جن کا مقصد غیر قانونی طور پر مقیم افراد کی واپسی کے عمل کو زیادہ مؤثر بنانا ہے۔

نئے قواعد کا اطلاق صرف پناہ گزینوں تک محدود نہیں ہوگا بلکہ ان تمام غیر یورپی شہریوں پر بھی ہوسکتا ہے جن کے پاس یورپی یونین میں قیام کا قانونی حق موجود نہ ہو اور جن کے خلاف متعلقہ قومی حکام واپسی کا فیصلہ جاری کرچکے ہوں۔

ان میں مسترد شدہ پناہ کے درخواست گزار، ویزا یا رہائشی اجازت نامے کی مدت ختم ہونے کے باوجود قیام کرنے والے افراد اور دیگر غیر قانونی طور پر مقیم غیر یورپی شہری شامل ہوسکتے ہیں۔

نئے نظام کے تحت کسی شخص کو واپسی کا فیصلہ موصول ہونے کے بعد فوری طور پر یا مقررہ مدت کے اندر ملک چھوڑنا ہوگا۔ متعلقہ شخص پر لازم ہوگا کہ وہ اپنی شناخت، پاسپورٹ، سفری دستاویزات اور دیگر ضروری معلومات فراہم کرکے حکام کے ساتھ تعاون کرے۔

بیورو کے مطابق متعلقہ حکام سے تعاون نہ کرنے، شناخت چھپانے، مقررہ وقت پر رپورٹ نہ کرنے یا واپسی کے عمل میں رکاوٹ ڈالنے کی صورت میں بعض سہولتیں محدود کی جاسکتی ہیں جبکہ جبری واپسی کی کارروائی بھی شروع ہوسکتی ہے۔

نئے قواعد کے تحت ہر معاملے کا انفرادی جائزہ لینے کے بعد ایسے شخص کو حراست میں لیا جاسکتا ہے جو حکام سے تعاون نہ کرے، فرار ہونے کا خطرہ رکھتا ہو یا سلامتی کے لیے خطرہ تصور کیا جائے، مخصوص حالات میں حراست کی مدت 24 ماہ تک ہوسکتی ہے جبکہ بعض صورتوں میں مزید چھ ماہ کی توسیع کی گنجائش بھی رکھی گئی ہے۔

سلامتی کے لیے خطرہ سمجھے جانے والے افراد پر طویل مدتی داخلے کی پابندی بھی عائد کی جاسکتی ہے، جو بعض حالات میں 10 سال سے زیادہ یا غیر معینہ مدت تک ہوسکتی ہے۔

نئے نظام میں تیسرے ممالک کے ساتھ معاہدوں کے ذریعے واپسی مراکز قائم کرنے کی بھی گنجائش رکھی گئی ہے۔ ایسے مراکز میں واپسی کے فیصلے کا سامنا کرنے والے بعض افراد کو منتقل کیا جاسکتا ہے، جہاں سے انہیں ان کے ملکِ اصل یا کسی دوسرے ایسے ملک واپس بھیجا جاسکتا ہے جو انہیں قبول کرنے پر رضامند ہو۔

تاہم کسی شخص کو خودکار طور پر ایسے مرکز منتقل نہیں کیا جائے گا، اس کے لیے متعلقہ تیسرے ملک کی رضامندی اور باقاعدہ معاہدہ ضروری ہوگا، یورپی قواعد کے تحت انسانی حقوق اور بین الاقوامی قانون کا احترام بھی لازم ہوگا، کسی فرد کو ایسے ملک نہیں بھیجا جاسکے گا جہاں اسے تشدد، ظلم یا کسی سنگین نقصان کا حقیقی خطرہ لاحق ہو، اجتماعی ملک بدری کی بھی اجازت نہیں ہوگی۔

نابالغ بچوں کو واپسی مراکز میں منتقل نہیں کیا جاسکے گا۔ اس کے علاوہ واپسی کے فیصلے کے خلاف قانونی کارروائی اور دستیاب قانونی تحفظ حاصل کرنے کا حق بھی موجود ہوگا، تاہم بعض معاملات میں اپیل کی مدت مختصر ہوسکتی ہے۔

یورپی ممالک کا سفر کرنے کے خواہش مند پاکستانی شہریوں کو قانونی طریقہ اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ غیر قانونی راستوں سے یورپ پہنچنے، جعلی پناہ کی درخواست دینے، سیاحتی ویزے کی شرائط کی خلاف ورزی کرنے یا ویزا اور رہائشی اجازت نامے کی مدت ختم ہونے کے بعد قیام جاری رکھنے کے نتیجے میں گرفتاری، حراست، جبری واپسی اور یورپی ممالک میں داخلے پر پابندی جیسے اقدامات کا سامنا ہوسکتا ہے،اس کے علاوہ غیر قانونی قیام مستقبل میں قانونی ویزا یا رہائشی اجازت نامہ حاصل کرنے میں بھی مشکلات پیدا کرسکتا ہے۔

کسی کی باتوں میں ہرگز نہ آئیں
ماہرین کے مطابق یورپ جانے کے خواہش مند افراد کو ایسے دعوؤں پر اعتماد نہیں کرنا چاہیے کہ وہاں پہنچنے کے بعد کاغذات باآسانی بن جاتے ہیں یا پناہ لازماً مل جاتی ہے۔ سفر سے پہلے ویزا اور دیگر قانونی دستاویزات کی شرائط کو اچھی طرح سمجھنا ضروری ہے،اگر کسی شخص کے ویزا یا رہائشی اجازت نامے کی مدت ختم ہونے والی ہو تو اسے بروقت تجدید یا قانونی طور پر واپسی کا انتظام کرنا چاہیے۔

واپسی کا فیصلہ موصول ہونے کی صورت میں اسے نظرانداز کرنے یا حکام سے چھپانے کے بجائے فوری طور پر مستند امیگریشن وکیل یا قانونی امداد فراہم کرنے والے ادارے سے رابطہ کرنا چاہیے۔

اسی طرح رضاکارانہ واپسی اور دوبارہ آبادکاری سے متعلق دستیاب سہولتوں کے بارے میں بھی معلومات حاصل کی جاسکتی ہیں۔ حراست یا کسی قانونی مشکل کی صورت میں پاکستانی شہری اپنے سفارت خانے یا قونصل خانے سے بھی فوری رابطہ کرسکتے ہیں۔

بیورو آف امیگریشن کے مطابق یورپی یونین کے نئے قواعد کے تناظر میں قانونی راستے سے سفر اور قیام کی شرائط پر عمل کرنا انتہائی اہم ہوگیا ہے، کیونکہ غیر قانونی قیام مستقبل میں طویل حراست، ملک بدری اور یورپی ممالک میں دوبارہ داخلے کے مسائل کا باعث بن سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں :این اے 77 ضمنی الیکشن میں مسلم لیگ ن کا راشد بشیر ورک کو ٹکٹ دینے کا فیصلہ