وزارتِ خارجہ کا کرپشن سکینڈل، شہریوں کو لوٹنے والے چھ افسر گرفتار، کئی ایجنٹ بھی پکڑے گئے
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک) ایف آئی اے کے اینٹی کرپشن سرکل اسلام آباد نے وزارت خارجہ میں شہریوں سے دستاویزات کی تصدیق کے 12 ارب روپے کرپشن کے سکینڈل کی تحقیقات کو آگے برھاتے ہوئے وزارت خارجہ کے کئی افسروں کو گرفتار کر لیا۔ اسلام آباد میں کورئیر کمپنی کے اہلکاروں اور ایجنٹوں کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق آبپارہ میں واقع ایک کوریئر کمپنی اور ایک کنسلٹینسی فرم کے دفاتر میں ایف آئی کے اہلکاروں نے چھاپے مارے۔ جعلی اپوسٹل سٹیکرز اور سرکاری مہریں استعمال کرنے کے الزام میں وزارت خارجہ کے 6 افسروں اور اہلکاروں کو گرفتار کیا گیا۔ ان کے ساتھ کئی ایجنٹوں کو بھی کو گرفتار کیا گیا۔ ایف آئی اے نے اس سکینڈل میں ملوث پائے گئے 22 افراد پر مقدمہ درج کیا ہے۔
مزید کئی گرفتاریاں متوقع ہیں
ایف آئی اے ک حکام نے بتایا کہ اینٹی کرپشن سرکل اسلام آباد نے جعلی اپوسٹل سٹیکرز اور سرکاری مہریں استعمال کرنے والے 22 ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کیا اور اس سلسلے میں وزارت خارجہ کے 6 افسران اور اہلکاروں سمیت متعدد نجی ایجنٹس کو گرفتار کرلیا۔
چھاپوں کے دوران جعلی اپوسٹل اسٹیکرز، سرکاری مہروں اور دستاویزات کی تیاری، ترسیل اور استعمال کے گھناؤنے گٹھ جوڑ (ریکٹ) کو بے نقاب کیا گیا اور اس میں ملوث 22 افراد پر مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
اب تک گرفتار کئے جا چکے افراد میں وزارت خارجہ کے 6 افسران شامل ہیں جن میں پی اے اور ایل ڈی سی شامل ہیں۔ دوسرے شناخت کئے جا چکے ملزموں میں 16 ایجنٹ اور کورئیر، کنسلٹنسی آپریٹر شامل ہیں۔
ایف آئی اے نے اسلام آباد کے علاقے آبپارہ میں ایف اینڈ ایف پلازہ میں واقع کنسلٹنسی اور کورئیر دفاتر پر چھاپے مارے، اس دوران جعلی اپوسٹل اسٹیکرز، سرکاری مہریں اور متعلقہ دستاویزات برآمد کی گئیں۔
تحقیقات کے دوران ا نکشاف ہوا کہ اپوسٹل اور تصدیقی خدمات کے عمل کو تیز کروانے کے عوض درخواست گزاروں سے اضافی رقوم وصول کی جا رہی تھیں، جس میں وزارت خارجہ کے بعض سینئیر افسروں کی ملی بھگت بھی شامل تھی۔
ملزمان پر مقدمہ دفعات 420، 468، 471 اور 109 پی پی سی بمع 5(2) پریونشن آف کرپشن ایکٹ 1947 کے تحت درج کیا گیا ہے اور ایف آئی اے نے عدالت سے گرفتار ملزمان کا 3 روزہ جسمانی ریمانڈ بھی منظور کرا لیا ہے۔
ایف آئی اے نے بتایا کہ جعلی اپوسٹل دستاویزات کے ذرائع اور ترسیل نیٹ ورک کی مکمل چھان بین اور دیگر ملوث افراد کی شناخت کے لیے تفتیش جاری ہے جبکہ کوریئر کمپنیز اور ایجنٹس کے دفاتر بھی سیل کیے گیے ہیں۔
ایف آئی اے نے مزید بتایا کہ سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعل سازی اور دستاویزی فراڈ میں ملوث عناصر چاہے وہ نجی ہوں یا سرکاری، قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
ایپوسٹل اسٹیکر (Apostille Sticker) کیا ہے؟
یہ ایک خاص قسم کا تصدیقی اسٹیکر ہوتا ہے جو کسی ملک کی وزارتِ خارجہ (جیسے پاکستان میں Ministry of Foreign Affairs یا MOFA) کی طرف سے آپ کے تعلیمی، ذاتی یا کاروباری دستاویزات پر لگایا جاتا ہے۔ یہ اسٹیکر اس بات کا ثبوت ہوتا ہے کہ آپ کی دستاویزات اصل اور قانونی ہیں، تاکہ انہیں بیرونِ ملک (ایپوسٹل کنونشن میں شامل ممالک میں) بلا خوف و تردید قبول کیا جا سکے۔
بارہ ارب روپے کرپشن کا سکینڈل کیا ہے؟
بیرون ملک جانے کے لئے شہریوں کو بعض دستاویزات کی اسلام آباد میں وزارت خٓرجہ سے تصدیق کروانا ہوتی ہے۔ بیرون ملک مقیم شہریوں کو بھی بعض دستاویزات کی وزارت خارجہ سے تصدیق کروانا پڑتی ہے۔ اسلام آباد میں وزارت خارجہ کے کچھ سینئیر افسروں نے دستاویزات کی تصدیق کے عمل کو مشکل بنا کر، شہریوں سے پیسے ہڑپ کرنے کے لئے ایک پیچیدہ ریکٹ بنا رکھا تھا۔ اس ریکٹ کے ذریعہ ای کسال کے دوران بارہ ارب روپے کی کرپشن کی گئی۔ اس سکینڈل کا انکشاف ہونے پر وزارت خارجہ کی ایک داخلی کمیٹی نے اس معاملہ کی مکمل تحقیقات کین اور ایک رپورٹ مرتب کی جس میں سکینڈل کے مرکزی کرداروں اور ان کے آلہ کار اہلکاروں اور اس کے ساتھ ادارہ سے باہر کورئیر کمپنی کے لوگوں کی مکمل نشاندہی شامل تھی۔
شہریوں کی دستاویزات کی تصدیق کے عمل میں شہریوں سے اربوں روپے لوٹ لئے جانے کے کرپشن سکینڈل کا گزشتہ ہفتے پھوٹا جب داخلی تحقیقات کی رپورٹ سامنے آ گئی۔ اس رپورٹ سے پتہ چلا کہ شہریوں کی دستاویزات کی تصدیق کے عمل میں غیر قانونی طور پر 12 ارب روپے اینٹھے گئے ہیں۔
وزارت خارجہ میں جمع کرائی گئی تحقیقاتی رپورٹ کی نقل سامنے آنے کے بعد ایف آئی اے نے اس سکینڈل میں ملوث افراد کے متعلق تحقیقات کین اور گرفتاریوں کا آغاز کیا گیا ہے۔
انٹرنل تحقیقاتی رپورٹ ڈی جی آڈٹ انسپیکشن ڈاکٹر احمد علی سروہی کی سربراہی میں چار رکنی کمیٹی نے تیار کی۔ اس رپورٹ میں کاغذات کی تصدیق میں عوام سے پیسے بٹورنے کے مافیا کی نشاندہی کی گئی ہے۔
اس رپورٹ مین تصدیق کی گئی ہے کہ شہریوں سے کاغذات کی تصدیق کے غیر قانونی چینل استعمال کرنے کے آٹھ لاکھ روپے لیے جاتے رہے۔ صرف ایک سال کے عرصہ میں 12 ارب روپے کی رقم غیر قانونی طور پر اکٹھی کی گئی۔ ہر ماہ شہریوں کے جیبوں سے ایک ارب روپے نکلے۔
یہ بھی پڑھیئے: وزارت خارجہ کے افسروں نے دستاویزات کی تصدیق کیلئے شہریوں سے اربوں روپے لوٹ لئے، تحقیقات میں انکشاف