کرایہ دار آخر غیر محفوظ کیوں؟
تحریر: شازیہ کنول
Stay tuned with 24 News HD Android App
پاکستان میں مہنگائی صرف بازار میں نہیں بڑھی،زندگی کی قیمت بڑھ گئی ہے,مہنگا کرایہ، بھاری بل، کم تنخواہیں اور بروکرز کے کمیشن آخر عام آدمی جائے تو جائے کہاں؟
آٹا، دال، سبزی، دودھ، علاج، تعلیم، سفر، بجلی، گیس، پانی ہر بنیادی ضرورت عام آدمی کی آمدن سے آگے نکلتی جا رہی ہے ایسے میں جس شخص کے پاس اپنا گھر نہیں اس کی زندگی مزید مشکل ہو جاتی ہےکیونکہ اسے اپنی محدود آمدن میں سب سے پہلے کرایہ ادا کرنا ہوتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ جو شخص اپنا گھر خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتاجو مجبوراً کرائے کے مکان میں رہتا ہے، کیا ریاست اور قانون اسے مزید مالی بوجھ تلے دبا دیں؟
کیا کرایہ دار ہونا اس کا جرم ہے؟
ایک عام تنخواہ دار شخص کی آمدن 25، 30، 40 یا 50 ہزار روپے ہو سکتی ہے۔ دوسری طرف ایک چھوٹے سے ایک بیڈ روم یا اسٹوڈیو کا کرایہ 25، 26، 30 یا اس سے بھی زیادہ ہزار روپے ہو سکتا ہے۔
پھر کرایہ دار سے سکیورٹی مانگی جاتی ہے ایڈوانس کرایہ لیا جاتا ہے، سوسائٹی کے چارجز الگ، پانی الگ، صفائی الگ، بجلی الگ، گیس الگ اور اگر پراپرٹی ڈیلر درمیان میں موجود ہو تو اس کی brokerage بھی۔
آخر عام آدمی اپنی زندگی کیسے چلائے؟
گھر لینے سے پہلے ہی تقریباً ایک لاکھ روپے!
مثلاً ایک چھوٹے سے یونٹ کا ماہانہ کرایہ 26 ہزار روپے ہے۔
اگر مالک دو ماہ کی سکیورٹی لے 52 ہزار روپے,ایک ماہ کا ایڈوانس کرایہ26 ہزار روپےیہاں تک رقم78 ہزار روپےہو گئی۔
اب اگر پراپرٹی ڈیلر 20 دن کا کرایہ بطور کمیشن مانگے توتقریباً 17 ہزار 333 روپے یعنی گھر میں داخل ہونے سے پہلے ہی تقریباً 95 ہزار روپے کا بندوبست درکار ہو سکتا ہے۔
اس کے بعد shifting کا خرچ، گھر کی بنیادی ضروریات، بجلی، گیس، پانی، سوسائٹی اور روزمرہ کا راشن الگ۔
یہ سوال حکومت قانون سازوں اور متعلقہ اداروں سے پوچھنا ہوگا
کیا 25، 30 یا 40 ہزار روپے ماہانہ آمدن والا عام پاکستانی یہ سب بیک وقت برداشت کر سکتا ہے؟
اگر وہ اتنی رقم ادا کرنے کی استطاعت رکھتا ہوتا تو شاید وہ کرائے کے مکان میں رہنے پر مجبور ہی نہ ہوتا۔
پراپرٹی ڈیلر کی اجرت جائز، مگر شفافیت بھی ضروری
پراپرٹی ڈیلر بھی ایک کاروبار کرتا ہے۔ مکان دکھانا، مالک سے رابطہ کرانا اور معاملہ طے کرانے میں مدد دینا اس کی خدمت ہے۔ اس خدمت کی مناسب اجرت پر اصولاً اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔
لیکن سوال یہ ہے
کمیشن پہلے کیوں نہیں بتایا جاتا؟
اگر کسی ڈیلر کا کمیشن 10 ہزار ہے، 15 ہزار ہے یا 20 دن کے کرائے کے برابر ہے تو کرایہ دار کو مکان دیکھنے اور بات آگے بڑھانے سے پہلے بتایا جائے۔
آخر میں اچانک یہ کہنا کہ میرے 17 ہزار 333 روپے commission بنتے ہیں,کرایہ دار کے لیے ایک غیر متوقع مالی بوجھ بن سکتا ہے۔
شفاف نظام میں ہر خرچ پہلے سے معلوم ہونا چاہیے۔
کرایہ کتنا؟
سکیورٹی کتنی؟
ایڈوانس کتنا؟
سوسائٹی چارجز کتنے؟
پانی کون دے گا؟
مرمت کون کرے گا؟
اور پراپرٹی ڈیلر کی فیس کتنی؟
سب کچھ پہلے سے واضح اور تحریری ہونا چاہیے۔
کمیشن کی قانونی حد کیوں نہ ہو؟
یہاں قانون سازوں کے لیے ایک اہم سوال ہے
اگر ریاست مختلف شعبوں میں فیس، چارجز اور قیمتوں کے حوالے سے قواعد بنا سکتی ہے تو رینٹل پراپرٹی brokerage کے لیے بھی ایک معقول maximum limit کیوں نہ مقرر کی جائے؟
مثلاً قانون ساز اس امر پر غور کر سکتے ہیں کہ رہائشی کرائے کے معاملے میں broker کی brokerage ایک مقررہ حد سے زیادہ نہ ہو۔
اس کے ساتھ یہ بھی زیرِ غور آنا چاہیے کہ اگر broker نے مالک اور کرایہ دار دونوں کے لیے intermediary کا کردار ادا کیا ہے تو کمیشن کی ذمہ داری دونوں فریقوں کے درمیان واضح اور منصفانہ طریقے سے تقسیم کی جائے۔
مثلاً ایک ممکنہ ماڈل یہ ہو سکتا ہے کہ مالک نصف اور کرایہ دار نصف ادا کرے۔
یہ موجودہ قانون کا دعویٰ نہیں، بلکہ قانونی اصلاح کی تجویز ہے۔
اصل مقصد یہ ہونا چاہیے کہ کسی مجبور کرایہ دار سے آخری لمحے پر ایسی رقم نہ مانگی جائے جس کے بارے میں اسے پہلے بتایا ہی نہ گیا ہو۔
کرایہ دار کی آمدن بھی تو دیکھی جائے
ہمارے ہاں ایک عجیب معاشی تضاد پیدا ہو چکا ہے,ایک طرف کم آمدن، دوسری طرف بلند رہائشی اخراجات
اگر کسی شخص کی آمدن 40 ہزار روپے ہے اور کرایہ 26 ہزار ہے تو اس کی آمدن کا تقریباً 65 فیصد صرف کرائے میں چلا جاتا ہے۔
اب وہ بجلی کیسے دے؟
گیس کیسے دے؟
پانی کیسے دے؟
راشن کیسے خریدے؟
بچوں کی فیس کیسے ادا کرے؟
علاج کیسے کرائے؟
سفر کیسے کرے؟
اور زندگی میں آنے والے اچانک اخراجات کیسے برداشت کرے؟
انسان صرف کرایہ دینے کے لیے پیدا نہیں ہوا۔
اسے زندگی کے باقی حقوق اور ضروریات بھی پوری کرنی ہیں۔
بجلی کا بل الگ قیامت
آج ایک کرایہ دار کے لیے بجلی کا بل بھی ایک مستقل خوف بن چکا ہے۔
گرمی میں پنکھا، کولر یا ایئر کنڈیشنر چلائیں تو بجلی کا خرچ بڑھتا ہے۔ نہ چلائیں تو شدید گرمی اور حبس میں زندگی مشکل ہو جاتی ہے۔
یعنی عام آدمی کے سامنے انتخاب یہ رہ جاتا ہے
بجلی استعمال کرو تو بل کا خوف
بجلی کم استعمال کرو تو گرمی کا عذاب۔
اگر ایک عام گھر کا بجلی کا بل کئی ماہ کے بجٹ کو ہلا دے تو ریاست کو اس مسئلے کو صرف "بل ادا کرنے والے کی ذمہ داری" سمجھ کر نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔
یہ توانائی، آمدن اور رہائش کی مجموعی affordability کا مسئلہ ہے۔
پرائیویٹ اداروں میں تنخواہ بھی وقت پر ملنی چاہیے
کرایہ دار کے مسئلے کو صرف Rent Act تک محدود کرنا بھی درست نہیں۔
اگر ایک شخص کی تنخواہ 30 یا 40 ہزار ہے لیکن اسے تنخواہ وقت پر ہی نہ ملے تو وہ یکم تاریخ کو کرایہ کہاں سے دے گا؟
بہت سے ملازمین کے لیے تنخواہ کی تاخیر خود ایک معاشی بحران بن جاتی ہے۔
ریاست کو مزدور اور ملازم کی اجرت کے قوانین کے موثر نفاذ پر بھی توجہ دینی چاہیے تاکہ جائز طور پر واجب الادا اجرت بروقت ملے۔
کیونکہ کرایہ دار کو مالک مکان کہتا ہے
"کرایہ وقت پر دو۔
بجلی والا کہتا ہے
"بل وقت پر دو۔
گیس والا کہتا ہے
"بل وقت پر دو۔
سوسائٹی کہتی ہے
"چارجز وقت پر دو
لیکن اگر ملازم کا آجر کہے
"تنخواہ چند دن بعد ملے گی
تو اس تاخیر کا بوجھ آخر کس پر پڑتا ہے؟
اسی کرایہ دار پر
بچے بھی تو اسی گھر میں پلتے ہیں
ایک گھر کا بجٹ صرف کرایہ اور بلوں کا نام نہیں۔اس گھر میں بچے بھی ہوتے ہیں,ان کی سکول فیس ہوتی ہے,کتابیں اور یونیفارم ہوتی ہیں,کبھی بیماری آتی ہے,کبھی دوا چاہیے,کبھی گھر میں کوئی ہنگامی خرچ آ جاتا ہے۔
کبھی راشن مہنگا ہو جاتا ہے۔
کبھی سفر کا خرچ بڑھ جاتا ہے۔
زندگی صرف حساب کی ایک سیدھی لکیر نہیں۔
زندگی میں دکھ بھی ہیں، سکھ بھی ضرورتیں بھی ہیں اچانک آنے والی آزمائشیں بھی۔
اگر آمدن کا بیشتر حصہ رہائش پر چلا جائے تو باقی زندگی کہاں سے چلے گی؟
بے گھر یا کم آمدن والے شہری کو مزید سزا کیوں؟
کرایہ دار اکثر پہلے ہی معاشی طور پر کمزور ہوتا ہے۔
وہ اپنا گھر خرید نہیں سکتا، اسی لیے کرائے پر رہتا ہے۔
ایسے شہری کے لیے قانون کا مقصد یہ ہونا چاہیے کہ اسے استحصال، غیر شفاف charges اور غیر متوقع مالی بوجھ سے تحفظ ملے۔
یہ نہیں کہ اسے ہر طرف سے ادائیگیوں کے درمیان پھنسا دیا جائے۔
مکان مالک کے حقوق بھی ہیں۔
کرایہ دار کے حقوق بھی ہیں۔
پراپرٹی ڈیلر کے جائز کاروباری حقوق بھی ہیں۔
ریاست کو ان تینوں کے درمیان توازن پیدا کرنا ہوگا۔
قانون میں اعتدال ضروری ہے
نہ مالک مکان کو اس کا جائز حق نہ ملے یہ درست نہیں۔
نہ پراپرٹی ڈیلر کی جائز محنت کی اجرت ختم کی جائے یہ بھی درست نہیں۔
لیکن یہ بھی قابلِ غور مسئلہ ہے کہ کم آمدن والے کرایہ دار کو اتنے ابتدائی اخراجات کے نیچے دبا دیا جائے کہ وہ گھر میں داخل ہونے سے پہلے ہی مالی بحران میں چلا جائے۔
اس لیے قانون سازوں کو غور کرنا چاہیے کہ
ایک ماہ کی سکیورٹی؟
ایک ماہ کا ایڈوانس؟
brokerage کی maximum قانونی حد؟
brokerage کی پیشگی disclosure؟
مالک اور کرایہ دار کے درمیان brokerage کی واضح تقسیم؟
تمام charges کا تحریری rental agreement؟
رہائشی یونٹ کی بنیادی سہولتوں کا کم از کم معیار؟
یہ سب سوالات قومی سطح پر زیرِ بحث آنے چاہئیں۔
ہر چیز اعتدال میں ہونی چاہیے
اسلام ہمیں معاملات میں اعتدال، دیانت اور حقوق العباد کا درس دیتا ہے۔
کسی کی مجبوری سے ناجائز فائدہ اٹھانا کسی بھی معاشرے کے اخلاقی نظام کو کمزور کرتا ہے۔
لیکن ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ صرف مذہبی وعظ کافی نہیں۔
حقوق کی حفاظت کے لیے قابلِ عمل قانون، شفاف معاہدے اور قانون کا مؤثر نفاذ بھی ضروری ہے۔
اگر معاشرے میں ہر کمزور فریق یہ محسوس کرے کہ اس کی کوئی سننے والا نہیں تو ریاست پر اعتماد کمزور ہوتا ہے۔
اس لیے قانون ایسا ہونا چاہیے جو کمزور شہری کو سہارا دے، کاروبار کو شفاف بنائے اور طاقتور فریق کو اپنی طاقت کے غلط استعمال سے روکے۔
حکومت سے چند سیدھے سوال
حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے سوال ہے
کیا rental brokerage کے لیے کوئی واضح maximum cap ہونی چاہیے؟
کیا commission مکان دکھانے سے پہلے تحریری طور پر بتانا لازمی ہونا چاہیے؟
کیا مالک اور کرایہ دار کے درمیان brokerage کی ذمہ داری واضح نہیں ہونی چاہیے؟
کیا security deposit اور advance rent کی ایک معقول قانونی حد نہیں ہونی چاہیے؟
کیا کم آمدن والے شہری کے لیے affordable housing policy نہیں ہونی چاہیے؟
کیا پرائیویٹ ملازمین کی تنخواہوں کی بروقت ادائیگی یقینی بنانے کے قوانین کا مؤثر نفاذ نہیں ہونا چاہیے؟
کیا بجلی اور دیگر بنیادی utilities کی affordability کو housing policy کا حصہ نہیں سمجھنا چاہیے؟
یہ سوال کسی ایک شخص کے خلاف نہیں۔
یہ پاکستان کے عام شہری کے حقِ زندگی، حقِ رہائش اور معاشی تحفظ کا سوال ہے۔
آخر میں
ایک ایسا معاشرہ جس میں انسان اپنی محدود آمدن میں گھر کا کرایہ، سکیورٹی، بجلی، گیس، پانی، راشن، علاج اور بچوں کی تعلیم سب کچھ پورا کرنے کی کوشش کر رہا ہو، وہاں قانون کو صرف کاغذ پر موجود نہیں رہنا چاہیے۔
قانون کو زندگی کے حقیقی حالات بھی دیکھنے چاہئیں۔
کرایہ دار سے اس کا حق نہ چھینا جائے۔
مالک کا حق بھی محفوظ رہے۔
پراپرٹی ڈیلر کو اس کی جائز محنت کی اجرت بھی ملے۔
لیکن ہر ادائیگی واضح پیشگی، شفاف اور معقول ہو۔
ریاست کا کام صرف یہ نہیں کہ کرایہ وصول کرنے والے اور بل وصول کرنے والے کے حقوق لکھ دے؛ ریاست کا کام یہ بھی ہے کہ وہ یہ دیکھے کہ جس شہری سے یہ سب وصول کیا جا رہا ہے، اس کی آمدن، اس کی ضروریات اور اس کی انسانی زندگی کے لیے کچھ بچ بھی رہا ہے یا نہیں۔
کیونکہ اگر ایک شہری اپنا گھر نہیں خرید سکتا اور کرائے پر رہنے پر مجبور ہے تو اسے قانون کی نظر میں کمزور نہیں محفوظ شہری ہونا چاہیے۔
ہر چیز میں اعتدال چاہیے۔
کرائے میں بھی۔
سکیورٹی میں بھی۔
کمیشن میں بھی۔
بلوں میں بھی۔
اور قانون کے نفاذ میں بھی۔
کرایہ دار کو سہولت دیجیے، اسے معاشی بوجھ تلے مت کچلیے۔
کیونکہ ایک محفوظ کرایہ دار ہی ایک محفوظ خاندان بناتا ہےاور محفوظ خاندان ہی ایک پُرامن معاشرے کی بنیاد بنتا ہے۔
نوٹ:بلاگر کے ذاتی خیالات سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ایڈیٹر