ایک جن برائے فروخت
Stay tuned with 24 News HD Android App
اخبار میں ایک اشتہار چھپا تھا، "ایک جن برائے فروخت ہے" میں نے اشتہار دو بار پڑھا، تیسری بار اس لیے کہ کہیں میری نظر دھوکا تو نہیں کھا رہی!۔
اخبار میں کیا کیا نہیں بکتا، دنیا کے اولین معلوم اخباری اشتہارات میں سے ایک اشتہار، جنوری 1620ء میں اُس زمانے کے ہسپانوی نیدرلینڈز کے شہر انٹورپ سے شائع ہونے والے Nieuwe Tijdinghen میں چھپا تھا، دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ ایک کتاب کا اشتہار تھا، اس کے بعد دنیا بہت آگے نکل آئی، اب گاڑی، موبائل، فرنیچر، دکان، مکان، پلاٹ، سب کچھ اخبار میں بک جاتا ہے، کچھ لوگ تو اپنی خدمات بھی ایسے بیچتے ہیں جیسے کوئی پراڈکٹ ہوں، ہمارے پڑوسی ملک انڈیا کے شہر دہلی میں خود دیکھا کہ گاوٴ موتر اور اس سے بنی مصنوعات کی فروخت کے اشتہارات تک اخبارات میں شائع ہورہے ہیں، مگر جن؟ یہ پہلی بار دیکھا تھا۔
دل میں خیال آیا، جس آدمی کے پاس واقعی جن ہے، وہ اسے بیچ کیوں رہا ہے؟ اور جس کے پاس اسے خریدنے کے پیسے ہیں، اسے جن کی ضرورت کیا ہے؟ یہ سوال میں نے دفتر کے لیے نکلتے ہوئے راستے میں اپنے محلے کے کریانہ والے سے کردیا، وہ ایک گاہک کا حساب لکھ رہا تھا، میں نے چلتے چلتے کہا، "اگر واقعی تین خواہشیں پوری کرنے والا جن مل جائے تو تم کیا مانگو گے؟"
کریانہ والے نے قلم روک دیا، "کتنے کا ہے؟"، میں نے کہا، "پتا نہیں"، بولا، "پھر خواہشیں بھی بعد میں سوچیں گے، پہلے قیمت پتا کرو"، مجھے اس کا جواب اچھا لگا، ہمارے ہاں آدمی خواہش بھی کرے تو پہلے جیب دیکھتا ہے، میں نے کہا، "اچھا، فرض کرو قیمت کا مسئلہ نہیں، تین خواہشیں مانگ سکتے ہو"، اس نے کاؤنٹر کے نیچے ہاتھ پھیرا اور ایک موٹا سا رجسٹر نکال لیا، کہنے لگا، "پہلی خواہش یہ ہے کہ یہ سارے پیسے لوگ واپس کردیں!"، میں نے سامنے رکھا رجسٹر کھولا، کسی کے سامنے پانچ ہزار، کسی کے سامنے بارہ ہزار، کسی کے سامنے بائیس ہزار روپے!، پوچھا، "دوسری؟"، بولا، "دوسری یہ کہ آئندہ کسی کو ادھار نہ دینا پڑے!"، کہا، "اور تیسری خواہش؟"، اس نے رجسٹر بند کردیا، "وہ بعد میں بتاؤں گا، پہلے یہ دو پوری ہوں۔"
اس وقت مجھے خیال آیا کہ اگر ہمارا جن واقعی کہیں سے آ نکلا تو لوگوں سے پیسوں کی ریکوری کرتے کرتے اسے باقی دو خواہشیں پوری کرنے کی شاید ہی فرصت ملے!، پاکستان میں کاروبار کرنے والا آدمی صرف چیزیں نہیں بیچتا، اپنا صبر بھی بیچتا ہے، کسی نے ادھار لیا، کسی نے وعدہ کیا، کسی نے کل آنے کا کہا اور پھر وہ کل کبھی نہیں آتی، کوئی فون نہیں اٹھاتا، کوئی دکان بند کرکے غائب ہوجاتا ہے اور تاجر اپنے رجسٹر کے وہی پرانے صفحات الٹتا رہتا ہے، ان صفحات پر صرف اعداد نہیں ہوتے، ایک کاروباری کی کئی ماہ و سال کی محنت پھنسی ہوتی ہے۔
یہ مسئلہ حکومت کی توجہ بھی مانگتا ہے، پنجاب میں کاروبار اور چھوٹے تاجروں کے لیے مختلف سہولتیں اور مالی سکیمز موجود ہیں، لیکن تاجر کے لیے یہ بھی اتنا ہی ضروری ہے کہ جس شخص کے ذمے اس کی جائز رقم واجب الادا ہے، وہ اسے واپس لینے کے لیے برسوں عدالتوں اور دفتروں کے چکر نہ کاٹتا رہے، حکومت اگر کوئی ایسا مؤثر اور سخت مگر منصفانہ قانونی طریقہ کار وضع کرے جس سے جائز نجی واجبات کی وصولی جلد ہو، نادہندہ کے لیے معاملہ لٹکائے رکھنا آسان نہ ہو اور حق دار کو اپنی رقم کے لیے برسوں انتظار نہ کرنا پڑے تو یہ قدم کاروباری ماحول بہتر بنانے کی طرف ایک اہم قدم ہوسکتا ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی حکومت نے کاروبار اور کاروباری طبقے کے لیے مختلف سہولتوں پر توجہ دی ہے، خصوصاً چھوٹے اور درمیانے کاروبار کے لیے آسان کاروباری قرضوں اور دیگر سہولتوں کا سلسلہ سامنے آیا ہے، اس کے ساتھ اگر تاجروں کی اس بنیادی پریشانی کو بھی قانون سازی یا مؤثر انتظامی طریقہ کار کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی جائے تو فائدہ صرف دکاندار کو نہیں، پورے کاروباری ماحول کو ہوگا، جس سے حکومتِ وقت نیک نامی کی صورت میں خوب فائدہ اٹھا سکتی ہے، پنجاب کے سیکرٹری اطلاعات طاہر رضا ہمدانی جیسے تجربہ کار افسر، جنہوں نے اہم انتظامی ذمہ داریاں نبھائی ہیں اور حکومت اور عوام کے درمیان رابطے کی اہمیت کو بخوبی سمجھتے ہیں، بہترین انداز میں امور تعلقات عامہ چلارہے ہیں، وہ اگر سرکار کو یہ مشورہ بھی دیں کہ تاجروں کی جائز رقوم کی بروقت وصولی کے لیے کوئی ایسا سخت مگر منصفانہ قانون بنایا جائے جس میں نادہندہ کے لیے معاملہ لٹکانا آسان نہ ہو اور حق دار کو اپنی رقم کے لیے کسی جن کی خدمات نہ لینا پڑیں، تو شاید یہ ایسا مشورہ ہو جس کا فائدہ کسی پریس ریلیز میں نہیں بلکہ بازار میں عملی طور پر حکومت کی ناموری میں اضافہ کرتا نظر آئے۔
ایک دور وہ تھا جب بادشاہ اکبر بازار کا حال معلوم کیا کرتے تھے، شاید انہیں معلوم تھا کہ حکومت کی اصل نبض بازار میں چلتی ہے، مشاہدہ یہ بتاتا ہے کہ حکومت کی کامیابی صرف بڑے منصوبوں سے نہیں ناپی جاتی، کبھی کبھی یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ کسی تاجر کے رجسٹر میں ادھار کے کتنے صفحات کم ہوئے، یہ صفحات ہی بتاتے ہیں کہ لوگوں کے درمیان اعتماد کتنا ہے اور کسی معاشرے میں امن و امان کی صورت حال کیا ہے۔
کریانہ والے کے رجسٹر نے مجھے ایک اور بات یاد دلائی، ہر آدمی کے پاس اپنی تین خواہشیں ہیں، کسی کو بیٹے کی نوکری چاہیے، کسی کو بیٹی کی شادی کرنی ہے، کسی کو مکان کا کرایہ دینا ہے، کسی کو قرض اتارنا ہے، کسی کی دکان نہیں چل رہی، کسی کی فصل خراب ہوگئی، کسی کے گھر میں علاج کے پیسے نہیں، کوئی اپنے جائز کاموں کے لیے بیوروکریسی کے نظام سے ادھ موا ہوا پڑا ہے، اور کچھ ایسے بھی ہیں جن کے پاس یہ سب کچھ ہے، بس انہیں دوسروں سے زیادہ چاہیے!
جن کے لیے مشکل یہ ہے کہ سب اپنی اپنی فہرست لیے اس کے سامنے کھڑے ہیں، یہاں مجھے علاءالدین یاد آتا ہے، ہم نے بھی بچپن میں کبھی نہ کبھی سوچا تھا کہ کاش ہمیں وہ چراغ مل جائے، اسے رگڑیں اور جن سامنے آکر کہے، "حکم کیجیے"، ہم الف لیلہ و لیلہ کو ایک ایسی قدیم کتاب سمجھتے رہے جس میں شروع سے علاءالدین، علی بابا، سندباد اور نہ جانے کتنے مشہور قصے موجود تھے، حقیقت اس سے کہیں زیادہ دلچسپ ہے۔
الف لیلہ و لیلہ کسی ایک آدمی کی لکھی ہوئی کتاب نہیں، یہ مختلف زمانوں کی داستانی روایتوں کا مجموعہ ہے، جس کے قصے صدیوں کے سفر میں جمع ہوتے، پھر نقل ہوتے اور مختلف ادوار میں مرتب ہوتے رہے، دسویں صدی کے عرب مؤرخ المسعودی نے ہزار افسان نامی داستانی مجموعے کا ذکر کیا اور اسے الف لیلہ کے نام سے معروف روایت سے جوڑا، اس کے کچھ عرصے بعد ابن الندیم نے بھی اس روایت کا تذکرہ کیا اور بتایا کہ اس مجموعے میں ایک ہزار راتیں تھیں، مگر داستانیں دو سو سے کم تھیں، یعنی ایک ہزار راتیں، ایک ہزار کہانیاں نہیں تھیں، ایک قصہ کئی راتوں تک چل سکتا ہے، وہ قدیم مجموعہ اپنی اصل شکل میں آج ہمارے پاس مکمل موجود نہیں۔
اٹھارہویں صدی میں فرانسیسی عالم انطوان گالاں نے ان داستانوں کو فرانسیسی زبان میں منتقل کرنا شروع کیا، اس نے تین عربی مخطوطات سے کام لیا اور 1704ء میں اس کے ترجمے کی پہلی جلد شائع ہوئی، بعد کی جلدیں کئی برس تک آتی رہیں، لیکن ایک وقت ایسا بھی آیا جب گالاں کے پاس موجود مواد کم پڑنے لگا، اور شاید قصہ گو کے لیے اس سے بڑی پریشانی کوئی نہیں کہ قصے ختم ہوجائیں، پھر 1709ء میں پیرس میں گالاں کی ملاقات حلب سے آئے ایک مارونی قصہ گو حنا دیاب سے ہوئی، گالاں کے روزنامچے سے معلوم ہوتا ہے کہ حنا عربی کے علاوہ ترکی اور فرانسیسی سمیت دوسری زبانوں سے بھی واقف تھا، اس نے گالاں کو کئی عربی قصے سنائے، جن کے خلاصے گالاں نے اپنے روزنامچے میں درج کیے۔
انہی قصوں میں علی بابا بھی تھا، 27 مئی 1709ء کو گالاں نے اپنے روزنامچے میں علی بابا اور چالیس چوروں کا قصہ حنا سے سننے کا اندراج کیا، علاءالدین کی کہانی کا معاملہ کچھ مختلف تھا، گالاں کے روزنامچے سے معلوم ہوتا ہے کہ اسے حنا سے ملنے والے عربی متن سے بھی مدد ملی، بعد میں یہی قصے گالاں کے فرانسیسی الف لیلہ و لیلہ کے ان حصوں میں شامل ہوئے جنہوں نے مغرب میں علاءالدین اور علی بابا کو غیر معمولی شہرت دی۔
حنا کے پاس کوئی ایسی کتاب نہیں تھی جسے وہ گالاں کے سامنے رکھ کر کہتا، "یہ لو، میری لکھی ہوئی الف لیلہ و لیلہ"، وہ قصہ گو تھا، اس نے قصے سنائے، گالاں نے سنے، لکھے، ان پر کام کیا اور انہیں فرانسیسی کتاب کا حصہ بنا دیا، یوں حلب کا ایک قصہ گو اور فرانس کا ایک عالم ملے تو وہ جن دنیا تک پہنچا جسے آج تقریباً ہر بچہ جانتا ہے، علی بابا بھی اسی سفر کا مسافر تھا۔
قصوں کی بھی عجیب قسمت ہوتی ہے، ہم جسے صدیوں پرانی عرب داستان سمجھتے رہے، اس کی آج کی مشہور شکل بھی ایک طویل سفر سے گزر کر ہم تک پہنچی، کوئی قصہ دادی اپنے پوتے کو سناتی ہے، کوئی مسافر اسے دوسرے شہر لے جاتا ہے، کوئی اسے لکھ لیتا ہے، کوئی دوسری زبان میں ترجمہ کردیتا ہے، اور کبھی حلب کا ایک قصہ گو پیرس پہنچ کر ایسے کردار کو دنیا کے حوالے کردیتا ہے جو صدیوں تک لوگوں کے تخیل میں زندہ رہتا ہے۔
شاید جن کی کہانی اس لیے بھی نہیں مر رہی کہ خواہش کبھی نہیں مرتی، زمانہ بدل گیا، چراغ بدل گئے، محلوں کی جگہ پلازے آگئے، گھوڑوں کی جگہ گاڑیاں آگئیں، کبوتر کی جگہ موبائل آگیا، لیکن آدمی آج بھی کسی ایسے شخص کی تلاش میں ہے جو اس کے سامنے آکر کہے، "حکم کیجیے"، دفتر میں فائل پھنسی ہو تو کوئی کہے، "حکم کیجیے"، نوکری چاہیے تو کوئی کہے، "حکم کیجیے"، بچے کا داخلہ کرانا ہو تو کوئی کہے، "حکم کیجیے"، تبادلہ رکوانا ہو تو کوئی کہے، "حکم کیجیے"، اور اگر آدمی بہت بااثر ہو تو شاید اس کی خواہشوں کی فہرست بھی کچھ لمبی ہوجائے۔
جن شاید یہ سب دیکھ کر حیران ہو، وہ کہے، "بھائی، تین ہی خواہشیں ہیں"، ہم کہیں، "آپ بس شروع تو کریں"، اصل مسئلہ شاید یہی ہے، ہمیں ہمیشہ کوئی ایسا چاہیے جو ہمارے حصے کا کام کردے، ہمیں اپنی مشکل کا حل چاہیے، لیکن اس حل کی قیمت کون دے گا؟ یہ سوال ہمیں پسند نہیں، ہمیں انصاف چاہیے، مگر اپنے معاملے میں، ہمیں قانون چاہیے، مگر دوسروں کے لیے تھوڑا سخت، ہمیں سہولت چاہیے، مگر اس سہولت کا بوجھ کہاں جائے گا، یہ سوچنے کی فرصت کم ہے۔
جن بیچارہ کیا کرے؟ اس نے تو صرف تین خواہشیں پوری کرنے کا وعدہ کیا تھا، ہم نے اسے پورا معاشرہ پکڑا دیا، 1947ء سے پہلے والا بھی اور بعد والا بھی، "لو، اب تم ہی سب ٹھیک کرو!"، اور شاید اسی لیے آج کے زمانے میں جن کے لیے جگہ کم پڑ گئی ہے، پہلے آدمی چراغ رگڑتا تھا، اب موبائل کی سکرین پر انگلی رگڑتا ہے، پہلے جن سامنے آتا تھا، اب اشتہار سامنے آتا ہے، "ایک جن برائے فروخت"ْ۔
میں نے سوچا، اگر واقعی یہ جن مجھے مل جائے تو میں اس سے کیا مانگوں گا؟ پیسہ؟، گھر؟، آسان زندگی؟، اپنے لوگوں کے لیے کچھ اچھا؟، میں کافی دیر تک سوچتا رہا، پھر مجھے کریانہ والے کا رجسٹر یاد آگیا، اس کی خواہش بہت سادہ تھی، بس لوگ اس کے پیسے واپس کردیں، میں نے اخبار لپیٹ دیا، اشتہار اندر چلا گیا، جن بھی، تین خواہشیں بھی، البتہ کریانہ والے کا ادھار ابھی باقی ہے!
(سجاد پیرزادہ سینئر صحافی، لاہور پریس کلب فارن افیئرز کمیٹی کے سابق ممبر ہیں)