جنسی استحصال کے عادی مجرم فلمساز ہاروی وائنسٹائن کو  آج سزا ہو گئی، کتنے سال جیل میں رہے گا؟

Sep 24, 2026 | 01:08:AM
جنسی استحصال کے عادی مجرم فلمساز ہاروی وائنسٹائن کو  آج سزا ہو گئی، کتنے سال جیل میں رہے گا؟
کیپشن: ہاروی خود پر چلنے والے مقدمہ کی ایک سماعت کے دوران عدالت میں کھڑا ہے۔
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک)  اپنے ساتھ کام کرنے والی عورتوں اور بچیوں کے سنگین جنسی استحصال کے عادی مجرم  فلم سازی ہاروی وائن سیٹائن کو طویل مقدمہ کے بعد آج  15 سال قید کی سزا ہو گئی۔ یہ وہ شخص ہے جس کے استحصال کا شکار ہونے والی کواتین نے  دنیا میں ہراسانی کے معاملات پر خاموش رہنے کا کلچر بد ڈالا اور "metoo#"  (می ٹو/ میں بھی)کا   2006 سے موجود ہیش ٹیگ جنسی استحصال اور خواتین کو ہراساں کرنے والوں کے لئے سماجی سزا کی کھلی عدالت بن گیا۔ 

وائنسٹائن کے استحصال کا نشانہ بننے والی عورتوں کی تعداد درجنوں میں ہے جن میں سے کئی بعد میں از حد قابل احترام شخصیات بن کر دنیا میں جگمگائیں۔  ایک عرصہ تک وہ سب خود کے ساتھ ہوئے جبر اور استحصال پر نام نہاد عزت کی خاطر خاموش رہیں پھر جب  2017 میں ایک نے جرات کر کے الزام لگایا تو پھر ایک ایک کر کے وائنسٹائین کی بہت سی وکٹمز بول پڑیں۔

8 مئی  2025 کو  ایک سابق ماڈل  کجا سوکولا نے عدالت میں آنسو بہاتے ہوئے گواہی دی کہ ہاروی وائنسٹائن نے ان کو ریپ کیا  جب وہ صرف  16 سال کی تھیں، اور  انہوں نے اس حرکت کو  اس مقام تک کی سب سے "خوفناک چیز" قرار دیا۔ چار سال بعد،، وائن اسٹائن نے اس پر دوبارہ حملہ کیا۔

Caption اسسٹنٹ ڈسٹرکٹ اٹارنی میگھن ہسٹ نے  جنسی زیادتی کے مقدمے کے دوران ہاروی وائنسٹائن کی طرف اشارہ کر رہی ہیں، اسی وقت ہاروی پر مقدمہ کرنے والی والی ممی ہیلی سکرین پر نمودار  ہو رہی تھیں۔

کجا سوکولا نے پہلی بار جیوری کے سامنے الزامات کو تفصیل سے بیان کیا جب اس نے وائن اسٹائن کے #MeToo کے دوبارہ ٹرائل میں گواہی دی۔ وہ گواہی دینے والے تین الزام لگانے والوں میں سے دوسری تھیں، اور وہ واحد فرد تھیں جو 2020 میں ہالی ووڈ ہونچو کے پہلے ٹرائل کا حصہ نہیں تھی۔  یہ ہاروی وائنسٹائن کے جرائم کی پہلی گواہی نہیں تھی اور اس کے جرائم کی آخری گواہی بھی نہیں تھی لیکن یہ ایک سولہ سال کی عمر میں وکٹم بننے والی بچی کی گواہی تھی۔

2017 سے آغاز ہونے والا جبر اور استحصال کا سکینڈل آج بہرحال انجام کو پہنچ گیا ہے۔ آج  طاقت اور کاروباری پوزیشن کے بل پر جنسی استحصال کے مشہور  مقدمے میں ہالی وڈ کے بدنام  فلم ساز اور 80 سے زیادہ عورتوں کے ریپ  اور ہراسانی کے عادی مجرم ہاروی وائن سیٹائن کو  15 سال قید کی سزا سنادی گئی ہے۔

74 سالہ ہاروی پر اس کی ​​پروڈکشن اسسٹنٹ مریم ہیلی سے 2006 میں جنسی زیادتی کا الزام تھا۔یہ الزام  2017 میں سامنے آیا تھا۔  ایک سال پہلے ہاروی وائن سٹائن پر جنسی زیادتی کا جرم ثابت ہوچکا تھا تاہم  اس عادی مجرم نے  ڈھٹائی کے ساتھ  جرم سے انکار کیا تھا۔ آج جج کرٹس فاربر نے سزا سُنانے سے پہلے مجرم کی سخت سرزنش کی۔

ہاروی وائن اسٹائن کو  اس سے پہلے 2020 میں  ریپ کے 2  مقدموں میں 23 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔  لیکن یہ سزا عملدرآمد سے پہلے منسوخ ہو گئی تھی۔

سنہ  2020 میں سنائی گئی وائن اسٹائن کی سزا کو 2024 میں اپیل کورٹ نے کالعدم قرار دے دیا تھا۔

Caption اداکارہ روز میک گوون، روزانا آرکیٹ اور دیگر خواتین نے  ہاروی کے عدالت میں پہنچنے کے بعد عدالت کے باہر احتجاج کیا۔  ایسے کئی احتجاج ہوتے رہے لیکن وائنسٹائن اپنے جرائم سے انکار کر کے سزا سے بچنے کی کوشش کرتا رہا کیونکہ عدالتین گواہیں اور ثبوت مانگتی ہیں اور اسے یقین تھا کہ اس کے جرائم کا ثبوت کہیں نہیں۔ 

آج سزا سنانے سے قبل جج نے ریمارکس دیئےکہ ہاروی وائن سٹائن کو ’می ٹو‘ metoo#  کیمپین کے حوالے سے بھی یاد رکھا جائےگا۔ 

 ہالی وڈ اور پھر دنیا بھر میں ’می ٹو‘   ہیش ٹیگ پر پوسٹ کر کے خود سے ہوئی جنسی زیادتیوں اور ہراساں کئے جانے کے متعلق انکشاف کرنے کی نئی سماجی روایت  کا آغاز   2006 میں ہوا تھا لیکن اس کو ہاروی وائن اسٹائن کے استحصال سے عاجز آئی ہوئی عورتوں کے  پبلک کے سامنے اعترافات سے دنیا مین غیر معمولی توجہ ملی اور اسے ایک سونامی جیسی طاقت ملی گئی۔

می ٹو  کیمپین2006 میں کس نے آغاز کی

تارانا برک نے #MeToo تحریک ہاروی وائن اسٹین کے خلاف شروع نہیں کی تھی۔ انہوں نے اسے 2006 میں جنسی تشدد اور جنسی ہراسانی کا سامنا کرنے والی لڑکیوں اور خواتین کو، خاص طور پر کم وسائل اور پسماندہ کمیونٹیز کی خواتین کو، اپنی کہانی بیان کرنے اور یہ احساس دلانے کے لیے شروع کیا کہ "آپ اکیلی نہیں ہیں"۔

اس کی بنیاد ایک واقعے پر بھی تھی۔ برک نے ایک نوجوان لڑکی کی جنسی استحصال کی کہانی سنی، مگر اس وقت اسے مناسب جواب دینے کے لیے الفاظ نہ ملنے کا احساس ہوا۔ بعد میں انہوں نے "Me Too" کو اس احساس کے اظہار کے طور پر استعمال کیا کہ میرے ساتھ بھی ایسا ہوا ہے۔

ایلیسا میلانو کی اپیل جو وائرل ہو گئی

وائن اسٹین سکینڈل نے 2017 میں اس پہلے سے موجود #MeToo تصور کو عالمی سطح پر وائرل کیا۔ اداکارہ ایلیسا میلانو نے اکتوبر 2017 میں لوگوں سے #MeToo لکھنے کی اپیل کی، اور یوں برک کی 2006 کی مقامی تحریک عالمی مہم بن گئی۔

 اکتوبر 2017 میں شائع ہونے والی نیویارک ٹائمز کی تحقیقاتی رپورٹ نے اس سکینڈل کا انکشاف کیا تھا جس کے بعد خواتین کی بڑی تعداد نے ہالی وڈ پروڈیوسر سے متعلق ہوش رُبا حقائق سے پردہ اٹھایا تھا۔ پہلے ایک خاتون نے  سوشل پلیٹ فارم پر اعتراف کیا کہ ہاروی وائن سٹائن نے اس کو ریپ کیا لیکن وہ اپنا کیرئیر بنانے کے لئے اس استحصال کو خاموشی سے برداشت کرتی رہیں۔ اس کے بعد کئی دوسری اداکاراؤں اور فلم  اندسٹری سے متعلق خواتین نے انکشافات کئے کہ ہاروی وائن اسٹائین نے کیسے ان کی زندگیاں تباہ کیں۔   جنسی استحصال کے ان انکشافات پر  امریکہ اور اس کے ساتھ ساری دنیا میں شدید ردعمل آیا اور معاشرہ نے جبر، ریپ، ہراسانی اور جنسی استحصال پر مستحکم رائے بنا لی کہ یہ سنگین جرائم ناقابل برداشت ہیں۔ کام کرنے والی کسی عورت کو استحصال کا نشانہ بنانے کی کسی کو بھی اجازت نہیں ہو نا چاہئے خواہ وہ کیسا ہی طاقتور کیوں نہ ہو۔

جب طاقت ور کی طاقت کمزوری بن گئی

ان ابتدائی انکشافات کے بعد ’می ٹو‘ مہم کے پھیلنے کا بھی آغاز ہوا تھا۔ ان جادوئی الفاظ کے زیر اثر دنیا بھر میں خواتین خصوصاً سیلیبریٹز نے طاقتور اور اہم عہدوں پر فائز مردوں کی جانب سے انہیں ہراساں کیے جانے پر اپنی خاموشی توڑی تھی۔

وائن اسٹائن کے جرائم کا انکشاف اور اپنی مظلومیت کا  پبلک کے سامنے اعتراف کرنے والی خواتین میں ہالی وڈ کی صف اول کی اداکارائیں انجیلینا جولی، سلمیٰ ہائیک، گائینتھ پیلٹرو، ایشلے جَڈ، روز میک گوئن اور ہیتھر گراہم شامل ہیں۔

 سماجی سزا  کی لہر اتنی سٹرونگ تھی کہ تب تک طاقتور سمجھے جانے والے سٹائین کا  اکتوبر 2017 میں الزامات سامنے آنے کے بعد ہی زوال شروع ہو گیا تھا اور   اس کی اپنی فلمساز کمپنی کے بورڈ سے اسے نکال دیا  تھا۔ اس کے بعد اس طاقت ور فلمساز اور ہدایت کار پر  پر ہالی وڈ کے دروازے ہی بند کردیئے گئے۔

ہاروی وائن اسٹائن پر الزامات کے بعد فلمی دنیا کا سب سے معتبر ایوارڈ ’آسکر‘ دینے والے ادارے ’دی اکیڈمی ایوارڈ آف موشن پکچرز آرٹس اینڈ سائنس‘ نے ان کی رکنیت معطل کردی تھی۔