پی ٹی آئی اسلام آبادمارچ،عوام کو ہوں گی کیا مشکلات؟
تحریر: عدیل احمد
Stay tuned with 24 News HD Android App
پاکستان تحریک انصاف 27 ستمبر کو اسلام آباد کی طرف مارچ کرے گی اور ان کا مقصد قیدی نمبر 804 کی رہائی ہے، لیکن جب کسی شہر میں احتجاج، جلسہ یا ریلی ہوتی ہے تو عام شہریوں اور عوام کو معمولاتِ زندگی میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
طویل ٹریفک جام
دھرنے، احتجاج یا ریلی کی صورت میں اہم شاہراہیں، چوراہے اور گزرگاہیں بند ہونے سے ٹریفک کا نظام درہم برہم ہو جاتا ہے اور گھنٹوں ٹریفک جام رہتا ہے۔
آمدورفت میں تاخیر
دفتر جانے والے ملازمین، طلبا اور عام شہریوں کو اپنی منزل مقصود تک پہنچنے میں شدید تاخیر کا سامنا ہوتا ہے۔
ہنگامی خدمات کا تعطل
ایمبولینسز، فائر ٹینڈرز اور دیگر ریسکیو گاڑیاں راستے بند ہونے کی وجہ سے بروقت مریضوں یا حادثات کی جگہ پر نہیں پہنچ پاتیں۔
کاروبار اور معاشی نقصان
دکانیں، مارکیٹیں اور تجارتی مراکز بند رہنے یا گاہکوں کی عدم دستیابی کی وجہ سے روزانہ کی اجرت پر کام کرنے والوں اور تاجروں کو مالی نقصان ہوتا ہے۔
پبلک ٹرانسپورٹ کی کمی
بسیں اور ویگنیں سڑکیں بند ہونے کی وجہ سے معطل یا متبادل طویل راستوں پر چلنے پر مجبور ہوتی ہیں، جس سے مسافروں کو پریشانی ہوتی ہے۔
انٹرنیٹ اور مواصلات کی معطلیاں
امن و امان کی صورتحال کے پیشِ نظر بعض اوقات متعلقہ علاقوں میں موبائل ڈیٹا یا انٹرنیٹ سروسز عارضی طور پر معطل کر دی جاتی ہیں، جس سے ڈیجیٹل کام متاثر ہوتے ہیں۔
تعلیمی اداروں کی بندش
حفاظتی اقدامات کے تحت سکولوں، کالجوں اور جامعات کے اوقات کار تبدیل کیے جاتے ہیں یا انہیں بند کرنا پڑتا ہے جس سے بچوں کی پڑھائی کا حرج ہوتا ہے۔
امن و امان کا خدشہ اور خوف
احتجاج کے پرتشدد ہونے، پتھراؤ یا ہوائی فائرنگ کے ڈر سے عام شہری خوفزدہ رہتے ہیں اور بلا ضرورت گھروں سے باہر نکلنے سے گریز کرتے ہیں۔
سرکاری و نجی املاک کا نقصان
توڑ پھوڑ یا ہنگامہ آرائی کی صورت میں سڑکوں، پبلک ٹرانسپورٹ یا نجی گاڑیوں کو نقصان پہنچتا ہے جس کا خمیازہ بالآخر عوام کو بھگتنا پڑتا ہے۔
شور کی آلودگی اور ذہنی اذیت
لاؤڈ اسپیکرز، نعرے بازی اور ٹریفک کے ہارنز کے شور سے مکینوں بالخصوص مریضوں، بزرگوں اور بچوں کو شدید ذہنی دباؤ اور کوفت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔