قتل کیس میں گواہوں کو دوبارہ بیان دینے کی اجازت برقرار کا فیصلہ جاری
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ملک اشرف)لاہور ہائیکورٹ نے قتل کیس میں گواہوں کو دوبارہ بیان دینے کی اجازت برقرار کا فیصلہ جاری کردیا،جسٹس امجد پرویز نے شمشاد بانو کی درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کیا ،چھ صفحات کا فیصلہ عدالتی نظیر قرار دیا جارہا ہے۔
عدالت نے شمشاد بانو کی جانب سے گواہوں کے دوبارہ بیان کے خلاف درخواست خارج کردی،فیصلے میں کہا گیا ہے کہ گواہوں کا دوبارہ بیان دینا پراسیکیوشن کے کیس کی خامیاں دور کرنا نہیں، انصاف کے منصفانہ فیصلے کے لیے گواہ کو دوبارہ طلب کیا جاسکتا ہے، ضابطہ فوجداری کی دفعہ 540 کے تحت عدالت کو گواہ دوبارہ بلانے کا وسیع اختیار حاصل ہے، دفعہ 540 کا اختیار محض تکنیکی بنیادوں پر انصاف روکنے کے لیے نہیں۔
قتل کیس میں گواہوں نے اسلحہ برآمدگی کے میمو سے متعلق بیان نہیں دیا تھا،لاہور ہائیکورٹ نے کہاکہ اسلحہ برآمدگی کے میمو پہلے ہی عدالتی ریکارڈ کا حصہ تھے، عدالتی فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ برآمدگی کے متعلق دستاویزات کی نقول ملزمان کو پہلے ہی فراہم کی جاچکی تھیں، گواہوں کے دوبارہ بیان سے ملزمان کا جرح کا حق متاثر نہیں ہوگا، دفاع کو دوبارہ بیان دینے والے گواہوں پر جرح کا مکمل موقع حاصل ہوگا۔
پراسیکیوشن کی جانب سے گواہوں کو دوبارہ طلب کرنے کی درخواست منظور کرنے کا فیصلہ برقراررکھا گیا ہے،فیصلے میں کہا گیا ہے کہ فوجداری کارروائی تکنیکی خامیوں کے باعث انصاف کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتی ۔
ملزم شمشاد بانو نے ٹرائل کورٹ کے 17 جون کے فیصلے کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کیا تھا،فیصلے میں کہا گیا ہے کہ درخواست گزار ٹرائل کورٹ کے فیصلے میں قانونی خامی ثابت نہ کرسکی ۔
یہ بھی پڑھیں:موٹر سائیکل سواروں کو 600 روپے کا پیٹرول ڈلوانے پر صرف 100 روپے ادا کرنے ہوں گے