فیک ویڈیو کیس میں عظمیٰ بخاری  عدالت میں بیان دینے پہنچ گئیں، فیلک جاوید سے شدید جھڑپ

Sep 02, 2026 | 19:55:PM
فیک ویڈیو کیس میں عظمیٰ بخاری  عدالت میں بیان دینے پہنچ گئیں، فیلک جاوید سے شدید جھڑپ
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

لاہور: ( ویب ڈیسک)  لاہورکے جوڈیشل  میجسٹریٹ کی عدالت میں صوبائی وزیر عظمیٰ بخاری کی فیک ویڈیو وائرل کرنے کے مقدمے کی سماعت  کے دوران عظمیٰ بخاری نے عدالت پیش ہو کر  اپنا بیان ریکارڈ کروا دیا۔ ملزمہ فلک جاوید عدالت میں موجود تھی۔

ضلع کچہری کے جوڈیشل مجسٹریٹ نعیم وٹو نے صوبائی وزیر عظمیٰ بخاری کی فیک ویڈیو وائرل کرنے کے مقدمے کی سماعت کی۔ عظمیٰ بخاری اپنے وکیل علی بخاری کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئیں۔

عظمیٰ بخاری نے روسٹرم پر بیان دیتے ہوئے کہا کہ اگر اجازت دیں تو دو تین باتیں کرنی ہیں، میں  اس کیس میں شکایت کنندہ  ہوں، مجھ سے زیادتی ہوئی ہے، آپ کو پتہ ہے کہ مجھ پر کیا گزرتی ہے۔

عظمیٰ بخاری نے بتایا کہ میں نے اس عدالت میں اپنا شکایت ککندہ کی حیثیت سے بیان دینے کے لئے آنا تھا۔ ایک یوٹیوبر نے میری یہاں آمد پر جھوٹ گھڑا اور یہ  ٹویٹ کیا کہ میرے وارنٹ گرفتاری جاری ہوئے، بتایا جائے کہ کب وارنٹ جاری ہوئے، یہ یوٹیوبر خود اس وقت  کمرہ عدالت میں کھڑا ہے، اس سے پوچھیں کہ کیا وارنٹ جاری ہوئے ہیں، اس شخص نے  کمرہ عدالت میں عظمیٰ بخاری سے فوراً  معافی مانگ لی۔

یہ بھی پڑھیں:  ہری پور؛ طوفانی بارشوں اور لینڈ سلائیڈنگ سے تباہی، متعدد دیہاتوں کا زمینی رابطہ منقطع 

عظمیٰ بخاری نے کہا کہ یہ ایک عورت کی عزت کا معاملہ ہے، یہ کوئی عام سول کیس نہیں تھا، میری ایک فیک ویڈیو بنا کر وائرل کی گئی، میں کس کرب سے گزری ہوں، آپ سوچ بھی نہیں سکتے، میری استدعا تھی کہ مجھے ویڈیو لنک پر بیان ریکارڈ کرانے دیا جائے۔

عظمیٰ بخاری نے مزید کہا کہ دکھ سے کہنا پڑتا ہے کہ اگر ایسے چلنا ہے تو پھر عدالتوں کو بند کر دینا چاہیے۔ مجھے سکیورٹی خدشات ہیں، اس لئے میں نے استدعا کی تھی کہ مجھے ویڈیو لنک پر بیان ریکارڈ کروانے کی اجازت دی جائے۔

جوڈیشل مجسٹریٹ نعیم ووٹو نے ریمارکس دیے کہ ہمارے لیے عورت کا بہت احترام ہے، ہمارے فیصلے بتاتے ہیں کہ ہم ایسے کیسز سے کیسے ڈیل کرتے ہیں، تاخیر عدالت کی وجہ سے نہیں ہے، آپ کے ایسوسی ایٹس آ کر تاریخ لیتے رہے، تنقید ہم نے برداشت کی۔

عدالت کے حکم پر ملزمہ فلک جاوید کو عدالت میں پیش کیا گیا، جس کے بعد عظمیٰ بخاری نے اپنا بیان ریکارڈ کرایا۔

عظمیٰ بخاری نے بیان میں کہا کہ 24 اور 25 جولائی 2025 کی درمیانی رات اپنے کمرے میں سوشل میڈیا دیکھ رہی تھی، نظر سے کچھ ویڈیوز گزریں جنہیں میرے نام سے لیبل کیا جا رہا تھا۔ ویڈیو کا کیپشن میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ میری کوئی ویڈیو لیک ہوئی ہے۔

عظمیٰ بخاری نے بیان میں کہا کہ فلک جاوید نے ٹویٹ میں وہ ویڈیو لگائی تھی، جس کے بعد وہ پورے سوشل میڈیا پر  پھیل گئی تھی۔

بیان کے دوران ملزمہ کے وکیل کے اعتراض پر عظمیٰ بخاری اور ملزمہ فلک جاوید کے درمیان کمرہ عدالت میں شدید تلخ کلامی ہوئی۔

عظمیٰ بخاری نے فلک جاوید سے کہا کہ تم جھوٹی عورت ہو، کچھ تو شرم کر لو ۔ فلک جاوید نے دعویٰ کیا کہ ثبوت تمہارے پاس ہے کوئی نہیں، مجھے ایک سال سے جیل میں ڈالا ہوا ہے۔

جج نعیم وٹو نے ریمارکس دیئے کہ میری عدالت میں اونچا بولنے کا اختیار صرف مجھے ہے، بالکل پسند نہیں کہ کسی کی آواز مجھ سے اونچی ہو، عدالت نے ملزمہ فلک جاوید اور عظمیٰ بخاری کو خاموش کرا دیا۔

عظمیٰ بخاری کا بیان مکمل ہونے پر ملزمہ کے وکیل علی اشفاق نے کہا کہ مجھے جرح کے لیے کم از کم چھ گھنٹے درکار ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں:  میر رضا قتل کیس میں جے آئی ٹی نہیں بنے گی، سندھ ہائی کورٹ کے جج کا فیصلہ 

عدالت میں وکیل نے کہا کہ آج آپ نے عدالتی وقفے میں کیس کی کارروائی چلا کر بتایا ہے کہ یہ غیر معمولی کیس ہے۔ ایک سال سے کیس تاخیر کا شکار ہے۔

عظمیٰ بخاری کے وکیل نے کہا کہ ہماری طرف سے کبھی تاخیری حربے نہیں ہوئے، ہم تو شروع دن سے کہہ رہے ہیں کہ ویڈیو لنک پر بیان ریکارڈ  کر لیں۔

جج نعیم وٹو نے ریمارکس دیئے کہ اس کیس میں کوئی سپیشل ٹریٹمنٹ نہیں دی گئی ، اگر کوئی عدالت میں آ کر کہتا ہے کہ کیس کی سماعت ایک بجے رکھ لیں تو میں انکار نہیں کرتا۔

عظمیٰ بخاری نے جواب دیا کہ سپیشل ٹریٹمنٹ ملزمہ کو مل رہی ہے، ملزمہ عدالت میں آ کر بیٹھی رہتی ہے،  ملزمہ فلک جاوید جیل سے تیار ہو کر آتی ہیں۔

عدالت نے عظمیٰ بخاری کے بیان پر جرح کے لیے 12 ستمبر کی تاریخ مقرر کرتے ہوئے کارروائی ملتوی کردی۔

این سی سی آئی اے نے فیک ویڈیو وائرل کرنے کے مقدمے میں اپنی تحقیقات کر کے  فلک جاوید اور  دیگر ملزمان کے خلاف چالان پیش کر رکھا ہے تاہم اب تک صرف فلک جاوید کو گرفتار کیا گیا ہے

جس روز یہ گھٹیا ویڈیو عظمیٰ بخاری کے علم میں آئی، انہوں نے اس پر فوراً انہوں نے لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کیا۔ وفاقی وزیرِ مملکت شزہ فاطمہ خواجہ نے بھی 26 جولائی 2024 کو اعلان کیا تھا کہ اصل ویڈیو اور متعلقہ معلومات حاصل کرلی گئی ہیں اور معاملے میں قانونی کارروائی شروع کی جائے گی۔

فلک جاوید کے ایکس سے کیا پوسٹ ہوا تھا؟

فلک جاوید جو پی ٹی آئی کی مشہور کارکن ہیں، ان کے ایکس اکاؤنٹ سے ایک ویڈیو پوسٹ کی گئی تھی، اس ویڈیو کے کیپشن میں لکھا تھا، "ابھی تک کس نے عظمیٰ بخاری کی لیک ویڈیو نہیں دیکھی؟"“Who hasn't seen Azma Bokhari's leaked video yet?”

یہ دراصل ایک پورنو ویڈیو کلپ تھی جس میں جعلسزی کر کے عورت کے چہرے کی جگہ عظمیٰ بخاری کا چہرہ دکھانے کی کوشش کی گئی تھی۔ اس سخت مرجمانہ حرکت کا بظاہر مقصد عظمیٰ بخاری کی عزت کو نقصان پہنچانا اور ان کو شدید ذہنی اذیت سے دوچار کرنا تھا۔

پھر معاملہ مقدمے تک کیسے پہنچا؟
اس شکایت پر پہلے FIA اور بعد میں نیشنل سائبر کرائم ایجنسی  National Cyber Crime Investigation Agency (NCCIA) کے ذریعے کارروائی ہوئی۔ متعدد افراد کو مقدمے میںملزم نامزد کیا گیا۔  جن میں فلک جاوید، محمد شفیق اور عتیق ریاض شامل ہیں۔ دسمبر 2025 میں لاہور کی عدالت نے فلک جاوید اور بعض دوسرے ملزمان پر فردِ جرم بھی عائد کر دی تھی۔

 مقدمے میں صرف فیک ویڈیو بنانے کا سوال نہیں بلکہ اسے سوشل پلیٹ فارم پر اپ لوڈ/شیئر  کرنےاور پھیلانے کا سوال بھی زیرِ بحث آیا۔

کن لوگوں کو گرفتار کیا گیا؟
ابتدائی FIR میں چھ افراد نامزد تھے۔ ان میں نمایاں نام فلک جاوید،  شفیق، حسن طور / علی حسن طور،  شہاب الدین، عاصمہ تبسم کے تھے۔
FIA نے اس کیس میں شفیق کو گجرات سے گرفتار کیا تھا۔ FIR میں 20 سے زائد X اکاؤنٹس اور Facebook/TikTok کے متعدد اکاؤنٹس بھی شامل کیے گئے تھے جنہوں نے اس فیک  مواد کو پوسٹ اور شئیر کر کے پھیلانے میں کردار ادا کیا تھا۔

بعد کی عدالتی کارروائی میں عتیق ریاض، حیدر علی اور طفیل احمد کے نام بھی ملزم  accused کے طور پر سامنے آئے۔ جنوری 2026 کی عدالتی رپورٹ کے مطابق فلک جاوید اور محمد شفیق judicial remand پر تھے، جبکہ عتیق ریاض، حیدر علی اور طفیل احمد ضمانت پر تھے۔

آج، 2 ستمبر 2026 کو کون کون جیل میں ہے؟
فلک جاوید اور محمد شفیق دونوں اب بھی پولیس/جیل custody میں ہیں۔  آج کی عدالت کی کارروائی میں فلک جاوید کو جیل سے عدالت لایا گیا، جہاں عظمیٰ بخاری نے اپنا بیان ریکارڈ کروایا اور  عظمیٰ بخاری اور فلک جاوید کے درمیان تلخ کلامی بھی ہوئی۔

 اہم نکات  

 اپریل 2026 میں لاہور ہائی کورٹ نے فلک جاوید کی post-arrest bail منظور کر لی تھی۔

 اپریل 2025 میں لاہور ہائی کورٹ میں ایک ملزم علی حسن طور کی ضمانت کے معاملے میں FIA نے technical report پیش کی تھی، مگر عدالت نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ جس ویڈیو کا ذکر کیا جارہا ہے، وہ ملزم کی اپنی ویڈیو معلوم ہوتی ہے اور اپنی ویڈیو اپ لوڈ کرنا اور کسی شخص کا نام اس کے ساتھ mention کرنا دو الگ چیزیں ہیں۔ یعنی عدالت نے prosecution کے دعوے کو خود بخود حتمی حقیقت نہیں مانا۔

یہ بھی پڑھیئے:  معروف کلاسیکی رقاصہ اور استاد اندو مٹھا انتقال کر گئیں