نیشنل جوڈیشل آٹومیشن کمیٹی کا اجلاس، مقدمات کی ای فائلنگ کے نفاذ کی حکمتِ عملی کا جائزہ لیا گیا
Stay tuned with 24 News HD Android App
(امانت گشکوری)چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیر صدارت نیشنل جوڈیشل آٹومیشن کمیٹی کا اجلاس ہوا،چیئرمین نیشنل جوڈیشل آٹومیشن کمیٹی جسٹس محمد علی مظہر نے اجلاس میں شرکت کی،اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس ارباب محمد طاہر اور جسٹس اعظم خان بھی اجلاس میں شریک ہوئے،نیشنل جوڈیشل آٹومیشن کمیٹی کے دیگر اراکین نے ویڈیو لنک سے شرکت کی۔
اعلامیہ کے مطابق اجلاس میں ملک بھر میں مقدمات کی ای فائلنگ کے نفاذ کی حکمتِ عملی کا جائزہ لیا گیا،اجلاس میں یکساں ڈیجیٹل فائلنگ کیلئے مجوزہ معیاری ای فائلنگ ٹیمپلیٹس پر غور ہوا۔
چیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ ای فائلنگ کا آغاز صوبوں اور اسلام آباد کی منتخب عدالتوں میں خاندانی مقدمات سے آزمائشی بنیادوں پر کیا جائے گا۔
چیف جسٹس پاکستان نے “ایک مقدمہ، ایک شناخت” اقدام پر نیشنل جوڈیشل آٹومیشن کمیٹی کو بریفنگ دی،چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ
"ایک مقدمہ، ایک شناخت” اقدام کے تحت ہر مقدمے کو عدالتی عمل کے آغاز سے اختتام تک منفرد شناخت دی جائے گی،“ایک مقدمہ، ایک شناخت” اقدام پر متعلقہ شراکت داروں سے مشاورت مکمل کر لی گئی۔
اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ ابتدائی مسودہ تفصیلی جائزے اور بہتری کیلئے نیشنل جوڈیشل آٹومیشن کمیٹی کو فراہم کر دیا گیا،جائزے کے بعد “ایک مقدمہ، ایک شناخت” اقدام قومی عدالتی پالیسی ساز کمیٹی کے سامنے حتمی غور کیلئے پیش کیا جائے گا۔
جسٹس محمد علی مظہر نے کہاکہ ملک بھر کیلئے صوبائی تفریق کے بغیر ایک جامع اور یکساں ای فائلنگ ٹیمپلیٹ تیار کیا جائے۔
اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ نیشنل جوڈیشل آٹومیشن کمیٹی کے اراکین دو ہفتوں میں مجوزہ ای فائلنگ ٹیمپلیٹ پر تجاویز پیش کریں گے۔
جیل خانہ جات سے عدالتی ڈیٹا ایک ماہ تاخیر سے موصول ہونے پر جسٹس محمد علی مظہر نے اظہار تشویش کرتے ہوئے کہاکہ ڈیٹا میں ایک ماہ کی تاخیر فوری نگرانی کے مقصد کو متاثر کرتی ہے۔جسٹس محمد علی مظہر نے کہاکہ سیکرٹری لا اینڈ جسٹس کمیشن کو جیل خانہ جات سے ڈیٹا کی تاخیر کا معاملہ ترجیحی بنیادوں پر متعلقہ حکام کے ساتھ اٹھانے کی ہدایت کی۔
یہ بھی پڑھیں:موٹر سائیکل سواروں کو 600 روپے کا پیٹرول ڈلوانے پر صرف 100 روپے ادا کرنے ہوں گے