علیمہ خان اور ڈرائیور محمد امیر کی نظر بندی کے خلاف درخواست، لاہور ہائیکورٹ کے فریقین کو نوٹس

Sep 28, 2026 | 10:10:AM
علیمہ خان اور ڈرائیور محمد امیر کی نظر بندی کے خلاف درخواست، لاہور ہائیکورٹ کے فریقین کو نوٹس
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ملک اشرف)لاہور ہائیکورٹ نے بانی پی ٹی آئی کی ہمشیرہ علیمہ خان اور ان کے ڈرائیور محمد امیر کی نظر بندی کے خلاف متفرق درخواست پر ڈی سی سمیت دیگر فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا۔

درخواست کی سماعت جسٹس عہبر گل خان نے علیمہ خان کے بیٹے شہریز خان کی درخواست پر کی۔ درخواست گزار کی جانب سے ایڈووکیٹ سلیمان اکرم راجہ، رانا مدثر سمیت دیگر وکلا عدالت میں پیش ہوئے، جبکہ حکومت کی جانب سے اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل محمد فرخ خان عدالت میں پیش ہوئے۔

دوران سماعت درخواست گزار کے وکیل رانا مدثر نے عدالت کو بتایا کہ علیمہ خان چار روز سے بھوک ہڑتال پر ہیں۔ اس پر جسٹس عہبر گل خان نے وکیل سے استفسار کیا کہ ’’اس کا مطلب آپ ان سے رابطے میں ہیں۔‘‘

وکیل نے جواب دیا کہ ’’نہیں، ہمیں یہ بات میڈیا سے پتا چلی ہے۔‘‘

جسٹس عہبر گل خان نے ریمارکس دیے کہ میڈیا پر تو اور بھی بہت کچھ چل رہا ہے، عدالت میڈیا کی بات نہیں کرتی۔

یہ بھی پڑھیں:بنکاک میں 300 ملی میٹر بارش،اہم شاہراہوں پر سیلاب آگیا ، 2 روزہ تعطیل کا اعلان

وکیل درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ علیمہ خان 68 سالہ خاتون ہیں اور حکام نے وکلا یا اہلخانہ کو ان سے ملاقات کی اجازت نہیں دی۔ انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ علیمہ خان کو دوائی اور کپڑے فراہم کرنے کی اجازت دی جائے۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ درخواست میں ملاقات کی اجازت طلب کی گئی ہے، اس معاملے کو جیل مینول کے تحت دیکھا جائے گا۔

وکیل درخواست گزار نے استدعا کی کہ سرکار کو نوٹس کرکے جواب طلب کیا جائے اور اگر سرکاری وکیل فون پر معلومات لے لیں تو عدالت آج ہی حکم جاری کرسکتی ہے۔

اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ علیمہ خان کی آج ہوم ڈیپارٹمنٹ میں سماعت ہے اور درخواست گزار وہاں اپنے خدشات پیش کرسکتے ہیں۔

مزید پڑھیں:لاہور ہائیکورٹ کا ٹیکس دہندہ کے حق میں اہم فیصلہ، رجسٹریشن سے قبل شوکاز نوٹس غیر قانونی قرار

اس پر جسٹس عہبر گل خان نے استفسار کیا کہ ’’کیا عدالت اس طرح کالوں پر اور میڈیا کی خبروں پر انحصار کرسکتی ہے؟‘‘

بعد ازاں عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد ڈی سی سمیت دیگر فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا اور سماعت ملتوی کردی۔