’’سپر ایل نینو‘‘ سے 4 لاکھ 51 ہزار اموات؟ماہرین نے خبردارکردیا
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز)ماہرین نے ’’سپر ایل نینو‘‘ سے 4 لاکھ 51 ہزار اموات کے خدشے سے خبردارکردیا۔
شکاگو یونیورسٹی کی کلائمیٹ امپیکٹ لیب کی رپورٹ کے مطابق موجودہ سپر ایل نینو کے پہلے 9 ماہ جون 2026 سے فروری 2027 کے دوران، عام سال کے مقابلے میں، شدید گرمی سے 4 لاکھ 51 ہزار اضافی اموات ہو سکتی ہیں جن میں سے 2 لاکھ 39 ہزار اموات ہونے کا آئندہ 6 ماہ میں خدشہ ہیں، یہ اموات معمول کی گرمی سے ہونے والی اموات کے علاوہ ہوں گی۔
رپورٹ میں خبردار کیا گیاہے کہ ایل نینو 2027 کی بہار تک برقرار رہے گا، اس لیے یہ اعداد مزید بڑھنے کی توقع ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایل نینو سے ہونے والی یہ اموات بڑے پیمانے پر Global South میں ہوں گی، اگلے چھ ماہ کے دوران براعظم افریقہ کے صحارا خطے میں 66 ہزار 800 اضافی اموات کا خدشہ ہے، جن میں سے تقریباً نصف صرف نائیجیریا میں 31,400 ہوں گی، خطے کے دیگر ممالک میں سوڈان میں 17,500، نائیجر میں 10,000، اور چاڈ میں 8,000 اضافی اموات کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
ماہرین کے مطابق جنوب مشرقی ایشیا میں فلپائن، ویتنام، تھائی لینڈ اور کمبوڈیا میں مجموعی طور پر 19,400 اضافی اموات، جبکہ انڈونیشیا میں 19,300 اموات کا خدشہ ہے، بھارت میں 15,800 سے زائد اموات کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے جبکہ جنوبی امریکہ میں برازیل سب سے زیادہ متاثر ملک ہوگا، جہاں ایل نینو کی گرمی سے 13,300 اموات کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ 4 لاکھ 51 ہزار اموات کا خدشہ، نیپالی فلیش فلڈ میں ہلاک یا لاپتہ ہونے والے تقریباً 6,800 افراد کے مقابلے میں تقریباً 65 گنا زیادہ ہیں۔
کلائمیٹ امپیکٹ لیب کے شریک بانی مائیکل گرین اسٹون کے مطابق ہم طویل عرصے سے درجہ حرارت کے فصلوں پر اثرات کی پیش گوئی کرتے آئے ہیں، اور اب اس کے بدترین نتیجے یعنی موت کی بھی پیش گوئی کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:ایل این جی کی قیمت میں بڑی کمی،اوگرا نےنوٹیفکیشن جاری کر دیا
کولمبیا کلائمیٹ سکول کے پروفیسر جیفری شامن کے مطابق تاریخی اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ ایل نینو کے بعد کا سال عام طور پر زیادہ گرم ہوتا ہے یعنی 2027 مزید شدید ثابت ہو سکتا ہے۔
پروفیسر شیلا فوسٹر کے مطابق شدید گرمی خاص طور پر شہری غریب آبادی کے لیے خطرناک ہے، 1982 سے اب تک شدید گرمی کے سامنے آنے والی شہری آبادی میں 200 فیصد اضافہ ہو چکا ہے جو 1 ارب 70 کروڑ افراد کو متاثر کر رہا ہے، اور گرمی سے مرنے والوں کی اکثریت دراصل گھروں کے اندر ہی جان دیتی ہے۔
یہ رپورٹ ایک واضح وارننگ ہے کہ موجودہ سپر ایل نینو محض ایک موسمی واقعہ نہیں بلکہ ایک ممکنہ عالمی انسانی المیہ ہے جو خاص طور پر افریقہ، جنوب مشرقی ایشیا، بھارت اور برازیل میں لاکھوں جانیں لے سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق پالیسی سازوں کے پاس اب بھی کارروائی کا وقت موجود ہے اور بروقت اقدامات سے ان اموات میں سے بڑی تعداد کو روکا جا سکتا ہے۔