کلکتہ کا ڈپٹی کمشنر، آج کے بیوروکریٹس، نئے صوبے اور احسن اقبال

Sep 27, 2026 | 16:09:PM
کلکتہ کا ڈپٹی کمشنر، آج کے بیوروکریٹس، نئے صوبے اور احسن اقبال
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: 24نیوز
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

کلکتہ کی نم آلود گلیاں، بمبئی کی گنجان بستیاں، آلودہ پانی، وبائیں اور بیماری سے لڑتے ہوئے غریب لوگ، یہاں بھی حکومت تھی، قانون تھا، خزانہ تھا اور اقتدار تھا، مگر سوال یہ تھا کہ اس اقتدار کی ترجیحات کیا تھیں؟

1890 کے آس پاس، جب لندن کی سڑکوں پر پبلک ہیلتھ ایکٹ کے تحت صفائی اور صحت کے نظام کو عوامی حق مانا جا رہا تھا، ٹھیک اسی دور میں کلکتہ اور بمبئی کے ڈپٹی کمشنرز کو برطانوی سرکار کی طرف سے خفیہ احکامات جاری ہو رہے تھے کہ دیسی آبادیوں میں وبائی امراض سے مرتے ہوئے لوگوں پر سرکاری خزانہ ضائع کرنے کے بجائے، تمام تر توانائیاں صرف ٹیکس کی وصولی اور بغاوت کچلنے پر صرف کی جائیں، یہ تاریخ کا وہ جیتا جاگتا کڑوا سچ ہے جو ہمیں بتاتا ہے کہ انگریز بہادر کے ہاں "شہری" کا تصور جغرافیے کے بدلنے سے بدل جاتا تھا، لندن میں جو شخص ریاست کا شہری اور اپنے حقوق کا حق دار تھا، برصغیر کی مٹی پر قدم رکھتے ہی وہ محکوم اور رعایا بن جاتا تھا، اس کا کام صرف گردن جھکانا اور خزانہ بھرنا تھا۔

ایک بھاری بھرکم لکڑی کی میز، میز پر سبز کپڑا، روشنائی کی دوات، موٹی موٹی فائلیں، رجسٹروں کے ڈھیر، اور سامنے کرسی پر بیٹھا ایک ایسا آدمی جس کے پاس اختیار بہت تھا، مگر اس اختیار کا انسانی استعمال شاید اسے خود بھی معلوم نہیں تھا۔

برصغیر میں نوآبادیاتی بیوروکریسی کی تصویر کچھ ایسی ہی تھی، یہ وہ زمانہ تھا جب لندن میں صنعتی انقلاب کے بعد شہری مسائل نے ریاست کو مجبور کیا کہ صفائی، نکاسی آب، صاف پانی اور صحت کو شہری انتظام کا باقاعدہ حصہ بنایا جائے، 1875 کا Public Health Act اسی عمل کی ایک اہم کڑی تھا، ہندوستان میں بھی طبی اور صحت کے ادارے قائم ہوئے، مگر نوآبادیاتی ریاست کا انتظامی ڈھانچہ ایک برابر شہری خدمت کے تصور پر قائم نہیں تھا، فوج، یورپی آبادی، بندرگاہیں، تجارت اور انتظامی ضرورتیں اس کی ترجیحات میں نمایاں تھیں، جبکہ وسیع مقامی آبادی کے لیے صحت عامہ کی سہولتیں کہیں زیادہ محدود رہیں۔

1896 میں بمبئی کے طاعون کا زمانہ دیکھیے، وبا پھیل گئی تو انگریز سرکار نے1897 کو وبائی امراض ایکٹ  Epidemic Diseases Act بنایا، اس قانون نے مقامی بیوروکریسی کو غیر معمولی اختیارات دے دیے، بیوروکریسی متحرک ہوئی، معائنے شروع ہوئے، قرنطینہ قائم ہوا اور جراثیم کشی کی گئی، گھروں کی تلاشی، نقل و حرکت پر پابندی تو قابل تسلیم، مگر متاثرہ عمارتوں کو گرانے کا کیا تُک تھا؟ وبا پر قابو پانے کی کوششیں قابلِ تحسین ٹھہریں، مگر طاقت کا اس قدر وحشیانہ استعمال مقامی آبادی میں ایسا خوف ایسی مزاحمت لایا جس کا نتیجہ بالآخر انگریز سرکار کو indian independence act 1947 پاس کرکے بھگتنا پڑا۔

یہاں کالم نگار ایک سوال پوچھنا چاہتا ہے، ریاست آخر کس کے لیے ہوتی ہے؟ برطانوی ہندوستان میں اس سوال کا جواب آج کے آزاد شہری اور ریاست کے تعلق سے مختلف تھا، وہاں رعایا تھی، شہری نہیں، حکم تھا، شراکت نہیں، نگرانی تھی، اعتماد نہیں، نوآبادیاتی نظام میں فرد کو ریاست کا شریک نہیں، ریاست کے انتظام کا موضوع سمجھا جاتا تھا، شاید یہی فرق بعد کی پوری انتظامی تاریخ کو سمجھنے کی ایک اہم کنجی ہے، اور شاید یہی وہ مقام ہے جہاں آکر تاریخ ختم نہیں ہوتی، بلکہ یہاں سے ہماری اپنی کہانی شروع ہوتی ہے۔

انگریز چلا گیا، پرچم بدل گیا، ملک آزاد ہوگیا، مگر جو انتظامی مشینری اس نے بنائی تھی، اس کا بڑا حصہ ہمارے پاس رہ گیا، ایک نئی ریاست کو انتظامیہ بہرحال درکار تھی، پاکستان کو پولیس چاہیے تھی، ضلعی انتظامیہ چاہیے تھی، خزانہ اور ریونیو کا نظام چاہیے تھا، مسئلہ یہ نہیں کہ پرانا ڈھانچہ کیوں استعمال کیا گیا، سوال یہ ہے کہ کیا آزاد ریاست نے اس ڈھانچے کی روح بھی بدلی؟

نوآبادیاتی افسر کے لیے نظم و نسق کا مطلب حکومت کا حکم نافذ کرنا، ٹیکس جمع کرنا اور ریاستی اختیار برقرار رکھنا تھا، آزاد پاکستان کے افسر کے لیے اس کے ساتھ ایک اور سوال شامل ہونا چاہیے تھا، عام آدمی کی زندگی اس کے فیصلے سے کتنی آسان ہوئی؟ یہ فرق بظاہر چھوٹا ہے، مگر ریاست کے مزاج کا فرق ہے۔

آج بھی کسی سرکاری دفتر میں چلے جائیں، ایک طرف فائلوں کا انبار ہے، دوسری طرف ایک سائل صبح سے اپنی باری کا انتظار کر رہا ہوتا ہے، کسی نے زمین کے کاغذات درست کرانے ہیں، کسی کو ڈومیسائل چاہیے، کسی کا کاروباری معاملہ کئی افسروں کے درمیان سفر کر رہا ہوتا ہے، اور اسی دفتر میں ایک ایسا افسر بھی بیٹھا ہوسکتا ہے جو شاید خود اس صورت حال سے خوش نہیں۔

یہاں ایک بات واضح رہنی چاہیے، ہر بیوروکریٹ کرپٹ نہیں ہوتا، اس نظام میں ایسے بہت سے افسر موجود ہیں جو ایمانداری سے کام کرنا چاہتے ہیں، اپنے محکمے کو بہتر دیکھنا چاہتے ہیں اور اپنی ملازمت میں کوئی ایسا کام چھوڑ جانا چاہتے ہیں جسے ان کے بعد بھی یاد رکھا جائے۔

کوئی میجر راجہ عزیز بھٹی شہید پانچ دن تک مسلسل بھوک اور پیاس کی پروا کیے بغیر بی آر بی نہر پر دشمن کو روکے رکھتا ہے، کوئی چوہدری اسلم کراچی میں دہشت گردوں کیخلاف آخر دم تک بے خوفی کا مظاہرہ کرکے تاریخ میں امر ہوجاتا ہے، کوئی مدثر ریاض ضلع ضلع تحصیل تحصیل نظام تعلیم کی بہتری میں جتا دکھائی دیتا ہے، کوئی  ڈاکٹر جاوید اکرم، کوئی ڈاکٹر امجد ثاقب ہسپتال کا نظام درست کرنے کیلئے ہر حد سے گزر جانا چاہتا ہے، کوئی شہبازشریف پٹواریوں کی اجارہ داری ختم کرکے زمین کے ریکارڈ کو ڈیجیٹل بنادیتا ہے، کوئی فرقان احمد خان سیلاب کے دنوں میں دفتر سے گھر نہیں جاتا اور 31 اگست 2025 کو مسلسل کام کے شدید دباؤ کے باعث دورانِ ڈیوٹی برین ہیمرج سے انتقال کرجاتا ہے، تو کوئی غازی صلاح الدین پنجاب اور سندھ کے شہریوں کیلئے خوف کی علامت بنے کچے کے ڈاکوئوں کا فرنٹ لائن پہ جا کر ایسے مقابلہ کرتا ہے کہ پولیس فورس کے اندر موجود کالی بھیڑوں اور مجرموں کا نیٹ ورک ٹوٹ جاتا ہے۔

لیکن پھر تبادلے کی ایک فہرست آتی ہے، افسر چلا جاتا ہے، فائل رہ جاتی ہے، منصوبہ ادھورا رہ جاتا ہے، نیا افسر آتا ہے، اپنی ترجیحات کے ساتھ، یوں ہمارے ہاں بعض منصوبوں کی عمر افسر کی پوسٹنگ سے زیادہ نہیں رہتی، ہم نے افسر بدلنے کا نظام تو بنا لیا، مگر نظام بدلنے کا طریقہ نہیں بنایا۔

ایک افسر کو اگر ہر چند ماہ بعد نئی جگہ بھیج دیا جائے تو اس سے نتائج کیسے مانگے جاسکتے ہیں، جس درخت کو جڑ پکڑنے سے پہلے بار بار اکھاڑ کر دوسری جگہ لگا دیا جائے، اس سے سایہ مانگنا بھی کچھ عجیب سا مطالبہ ہے؟ شاید یہی وہ مقام ہے جہاں میر کا مصرع ہمارے انتظامی مزاج پر بھی عجیب طرح پورا اترتا ہے، پتّا پتّا، بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے، مگر مسئلہ یہ ہے کہ ہمارا حال جاننے والا ہر افسر اپنے ساتھ وہی علم اگلے دفتر تک لے جائے تو ادارہ کب سیکھے گا، اسی لیے سول سروس ریفارمز کی بحث محض بیوروکریسی کو برا بھلا کہنے کی بحث نہیں ہونی چاہیے، یہ اچھے افسر کو بہتر نظام دینے کی بحث بھی ہے۔

یہیں ایک اور سوال بھی اٹھتا ہے، اگر ریاستی مشینری کو شہری کے قریب لانا ہے، انتظامی فیصلوں کو مؤثر بنانا ہے اور ریاستی خدمات کی رسائی بہتر کرنی ہے تو کیا ہمیں اپنی انتظامی اکائیوں کے حجم پر بھی دوبارہ غور نہیں کرنا چاہیے، پاکستان میں نئے صوبوں کی بحث کو محض سیاسی یا انتخابی عینک سے نہیں بلکہ انتظامی کارکردگی، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور شہریوں تک ریاستی خدمات کی رسائی کے سوال کے طور پر بھی دیکھنے کی ضرورت ہے، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی حالیہ عرصے میں نئے صوبوں کی اہمیت کی بات شروع کی ہے، اس پر توجہ اس لیے اہم ہے کہ اگر نئی انتظامی اکائیاں بنائی جائیں تو انہیں صرف نقشے پر نئی لکیر نہیں بلکہ واضح اختیارات، وسائل، پیشہ ورانہ انتظامیہ اور جوابدہی کے ساتھ بنانا ہوگا، کیونکہ صوبہ نیا ہو یا پرانا، شہری کے لیے اصل سوال یہی ہے کہ ریاست اس کے دروازے تک کتنی جلدی اور کتنی ذمہ داری کے ساتھ پہنچتی ہے۔

برطانوی دور کی بیوروکریسی کا ایک بڑا مسئلہ یہ تھا کہ افسر کو اختیار استعمال کرنا سکھایا جاتا تھا، مگر بدلتے ہوئے معاشرے کو سمجھنا کم سکھایا جاتا تھا، آج دنیا بدل چکی ہے، اب ایک افسر کے لیے قانون جاننا کافی نہیں، اسے یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ اس قانون کا اثر عام آدمی کی زندگی پر کیا پڑتا ہے، اسی لیے سول سروس میں تربیت کی اہمیت بڑھ گئی ہے، پنجاب کا مینجمنٹ اینڈ پروفیشنل ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ اسی سوچ کو آگے بڑھاتے ہوئے افسران کو محض کتابی علم نہیں بلکہ عملی مسائل، بہترین قیادت، انتظامی فیصلوں اور جدید ٹیکنالوجی سے روشناس کرانے پر توجہ دے رہا ہے، اقبال حسین اور مصور احمد خان نیازی ایسے محنتی اساتذہ کی کوششیں قابلِ ذکر ہیں، جو سکھا رہے ہیں کہ اچھا افسر صرف امتحان پاس کرکے نہیں بنتا، اسے ہر مرحلے پر سیکھنا بھی پڑتا ہے، اور یہی وہ فرق ہے جو ایک سرکاری ملازم کو محض کرسی پر بیٹھے شخص سے ریاست کا ذمہ دار نمائندہ بنادیتا ہے۔

موجودہ سول سروس اصلاحات امید کی ایک کھڑکی کھولتی محسوس ہوتی ہیں، ستمبر کے اسی ماہ 2026 میں وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کی سربراہی میں سول سروس ریفارمز پر مشاورت ہوئی، وزیراعظم کی کمیٹی نے تقریباً 15 اجلاسوں کے بعد 46 سفارشات مرتب کیں، جن میں سے 43 پر وسیع اتفاق رائے ہوا، مجوزہ اصلاحات میں سول سروس کو خصوصی مہارت، میرٹ، جوابدہی، ٹیکنالوجی اور کارکردگی سے ہم آہنگ کرنے پر زور دیا گیا۔

یہاں ایک لفظ بہت اہم ہے، سپیشلائزیشن، آج کی ریاست وہ ریاست نہیں رہی جس میں عمومی انتظامی تربیت کے بعد ایک شخص ہر شعبے کا ماہر سمجھا جائے، تعلیم الگ علم ہے، صحت الگ، زراعت الگ، آئی ٹی الگ، تجارت، خزانہ اور انجینئرنگ الگ دنیائیں ہیں، اس لیے بھرتیوں، ترقی اور تعیناتیوں کو متعلقہ قابلیت، تجربے اور عملی کارکردگی کے ساتھ جوڑنے کی بحث بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔

اگر ایک افسر نے اپنے علاقے میں تعلیم بہتر کی، کوئی ڈیجیٹل نظام کامیاب بنایا، ہسپتالوں کی کارکردگی بڑھائی، پولیس کو مجرم کے لیے خوف اور مظلوم کے لیے داد رسی کی علامت بنایا یا کاروبار کے لیے رکاوٹیں کم کیں تو اس کام کا حساب ہونا چاہیے، ترقی اس لیے نہ ہو کہ فائل میں سینیارٹی کا نمبر آگیا ہے، ترقی اس لیے ہو کہ کام ہوا ہے۔

تبادلہ بھی سزا یا انعام کا ذریعہ نہیں ہونا چاہیے، تبادلہ انتظامی ضرورت ہوسکتا ہے، مگر ادارہ جاتی تسلسل بھی انتظامی ضرورت ہے، اگر ایک اچھا منصوبہ افسر کے ساتھ چلا جاتا ہے تو مسئلہ صرف افسر کا نہیں، ادارے کا ہے، اسی لیے جدید سول سروس کی اصل منزل شاید یہ ہونی چاہیے کہ افسر اہم ہو، مگر ادارہ افسر سے زیادہ اہم ہو، پھر نیا افسر آئے تو اسے پہلے افسر کی فائل تلاش نہ کرنی پڑے، بلکہ ایک مضبوط نظام اس کے سامنے موجود ہو، وہیں سے کام آگے بڑھے جہاں پچھلا افسر چھوڑ کر گیا تھا، یہی ادارہ سازی ہے، یہی وہ تبدیلی ہے جو نوآبادیاتی ورثے سے حقیقی آزادی کی طرف لے جاسکتی ہے۔
فیض نے لکھا تھا
یہ داغ داغ اُجالا، یہ شب گزیدہ سحر
وہ انتظار تھا جس کا، یہ وہ سحر تو نہیں

ہماری آزادی ادھوری نہیں تھی، مگر شاید ہماری ادارہ جاتی آزادی ابھی ادھوری ہے، اب سوال یہ ہے کہ کیا ہم اس ادھورے پن کو ہمیشہ اپنی قسمت سمجھ کر بیٹھے رہیں گے، یا ایک ایسی سول سروس بنائیں گے جس میں افسر حاکم نہیں، ریاست کا پیشہ ور نمائندہ ہو، جہاں شہری سائل نہیں، ریاست کا مرکز ہو، جہاں فائل آدمی کے راستے میں رکاوٹ نہ ہو بلکہ اس کے کام کو آگے بڑھانے کا ذریعہ ہو، جہاں ایک ایماندار افسر کو ہر نئی پوسٹنگ کے ساتھ اپنی محنت دوبارہ صفر سے شروع نہ کرنی پڑے۔

احسن اقبال کی سربراہی میں سامنے آنے والی اصلاحاتی کوشش کی اصل اہمیت بھی شاید یہی ہے کہ اسے کسی ایک حکومت یا ایک وزیر کی وقتی مہم بننے کے بجائے ریاستی اصلاح کا مستقل عمل بنایا جائے، بیوروکریسی کو ختم نہیں کرنا، اسے بدلنا ہے، افسر کو کمزور نہیں کرنا، اسے واضح ذمہ داری اور اختیار دینا ہے، ریاستی مشینری کو توڑنا نہیں، اسے شہری کے لیے دوبارہ ترتیب دینا ہے، اور شاید ایک دن کسی سرکاری دفتر میں وہی پرانی لکڑی کی میز، وہی سبز کپڑا اور وہی فائلیں موجود ہوں، مگر اس میز کے دوسری طرف بیٹھا افسر اپنی کرسی کو اختیار کی علامت نہیں بلکہ ذمہ داری سمجھے۔

تب شاید ہمیں یہ کہنے کی ضرورت نہیں پڑے گی کہ پاکستان نے برطانوی بیوروکریسی سے آزادی حاصل کرلی ہے، کیونکہ اس دن ایک عام شہری دفتر سے نکلتے ہوئے خود کہہ رہا ہوگا، "یہ سرکار میری ہے"۔
( کالم نگار سجاد پیرزادہ سینئر صحافی، لاہور پریس کلب فارن افیئرز کمیٹی کے سابق ممبر ہیں)