پاکستان، بیلاروس اور ٹریکٹر سے آگے کی کہانی

Sep 26, 2026 | 15:42:PM
پاکستان، بیلاروس اور ٹریکٹر سے آگے کی کہانی
سورس: 24 News
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

منسک کی ایک فیکٹری میں کھڑا ایک ٹریکٹر بظاہر صرف ایک مشین ہے، لوہے، ربڑ، انجن اور ہائیڈرولک نظام سے بنی ہوئی ایک مشین، لیکن اس ٹریکٹر کا تعلق پاکستان سے بھی ہے، کچھ ہی برسوں میں 70 ہزار سے زیادہ ٹریکٹر بیلاروس سے پاکستان پہنچے ہیں، سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان اور بیلاروس اس تعلق کو صرف ٹریکٹر کی خرید و فروخت تک محدود رکھیں گے یا اس ناطے کو محدود تعلق سے نکال کر ایک بڑے صنعتی اور معاشی رشتے میں تبدیل کر سکتے ہیں؟ 

چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی کا حالیہ دورہ بیلاروس اسی سوال کو دوبارہ ہمارے سامنے لے آیا ہے، منسک میں بیلاروس کی کونسل آف دی ری پبلک کی چیئرپرسن نتالیہ کوچانووا سے ملاقات، پارلیمانی مفاہمت کی یادداشت پر دستخط، صدر الیگزینڈر لوکاشینکو کیساتھ راز و نیاز اور پھر منسک ٹریکٹر پلانٹ کا دورہ، ان سب واقعات کو الگ الگ دیکھا جائے تو یہ ایک سرکاری دورے کی معمول کی سرگرمیاں دکھائی دیتی ہیں، لیکن اگر انہیں ایک ساتھ رکھا جائے تو ایک مختلف تصویر بنتی ہے، ایک بڑی خبر کہ پاکستان اور بیلاروس تعلقات کو سیاسی دوستی سے معاشی شراکت داری کی طرف لے جانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

پاکستان ایک زرعی ملک ہے، ہماری معیشت، روزگار، خوراک اور دیہی زندگی کا بڑا حصہ زراعت سے جڑا ہوا ہے، اور پھر دوسری طرف بیلاروس! اس نے تو زرعی مشینری کو اپنی صنعتی شناخت کا اہم حصہ بنالیا ہے، مگر بڑی خبر یہ ہے کہ MTZ کے دورے میں محض ٹریکٹروں کی خریداری کی بات نہیں ہوئی، بلکہ پاکستان میں ٹریکٹر اسمبلنگ دوبارہ شروع کرنے، برآمدات بڑھانے، جدید زرعی آلات اور ٹیکنالوجی میں تعاون پر بھی گفتگو ہوئی۔

یہاں لفظ " اسمبلنگ" خاص اہمیت رکھتا ہے، ایک تیار ٹریکٹر خریدنا تجارت ہے، لیکن کسی ملک میں اس کی اسمبلنگ یا پیداوار کا نظام قائم کرنا صنعت ہے، صنعت کے ساتھ مقامی سپلائی چین آتی ہے، تربیت آتی ہے، ہنرمند افرادی قوت پیدا ہوتی ہے، پرزہ سازی کا امکان پیدا ہوتا ہے اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کا دروازہ کھلتا ہے، اگر پاکستان اس موقع کو درست انداز میں استعمال کرے تو بیلاروس سے آنے والا ٹریکٹر صرف پاکستان میں چلنے والی مشین نہیں رہے گا، ممکن ہے وہ پاکستان میں بننے والی ٹیکنالوجی بھی بن جائے!۔

اور یہاں سے خبر مزید دلچسپ ہوجاتی ہے،آپ کو یاد ہوگا کہ اگست 2026 میں پاکستان اور بیلاروس کے درمیان مشترکہ وزارتی کمیشن کے نویں اجلاس میں بھی صنعتی تعاون، ٹیکنالوجی ٹرانسفر، چھوٹی اور درمیانی صنعتوں کے درمیان روابط، زرعی تجارت اور زرعی مشینری پر تعاون کو آگے بڑھانے پر اتفاق ہوا تھا، یعنی دونوں ممالک نے دوطرفہ خدماتی تجارت کے معاہدے کے امکانات کا جائزہ لینے کے لیے مشترکہ فزیبلٹی سٹڈی گروپ بنانے پر بھی اتفاق کیا یعنی منسک میں ہونے والی حالیہ ملاقاتیں خلا میں نہیں ہوئیں، ان کے پیچھے پہلے سے بننے والا ایک ادارہ جاتی راستہ موجود ہے۔

زراعت میں بھی امکانات صرف ٹریکٹر تک محدود نہیں، پاکستان نے بیلاروس کے ساتھ بیج، لائیوسٹاک، فشریز، پھل، سبزیاں، چاول اور زرعی ٹیکنالوجی میں تعاون کی بات کی ہے، یہاں تک کہ پاکستان میں زرعی مشینری کی مشترکہ ٹیسٹنگ سہولت قائم کرنے کی تجویز بھی زیرِ غور ہے، جس کے لیے تکنیکی ماہرین کے تبادلے کی بات ہوئی ہے۔ 

یہ چھوٹی خبر نہیں، ایک زرعی مشین پاکستان میں آتی ہے تو ہم اسے استعمال کرتے ہیں، لیکن اگر اسی مشین کی ٹیکنالوجی، ٹیسٹنگ، تربیت، پرزہ سازی اور تحقیق پاکستان میں آنا شروع ہوجائے تو فائدہ کئی گنا بڑھ سکتا ہے، پھر ایک اور دروازہ ہے، پاکستانی برآمدات، پاکستان اور بیلاروس کے درمیان تجارت کی موجودہ سطح ابھی اس تعلق کی ممکنہ صلاحیت کے مقابلے میں محدود ہے، دستیاب اعدادوشمار کے مطابق گزشتہ برسوں میں دوطرفہ تجارت تقریباً 25 سے 95 ملین ڈالر سالانہ کے درمیان رہی ہے، جبکہ 2024 کے دستیاب تجارتی اعدادوشمار دونوں طرف کی تجارت میں خاصا عدم توازن دکھاتے ہیں، پاکستان کی برآمدات میں طبی آلات، چمڑے کی مصنوعات اور ملبوسات شامل رہے ہیں، جبکہ بیلاروس سے پاکستان کو ٹریکٹر اور زرعی مشینری نمایاں اشیا میں شامل ہیں۔ 

یہی وہ مقام ہے جہاں خوش فہمی کے بجائے حقیقت پسندی ضروری ہے، صرف یہ کہنا کافی نہیں کہ پاکستان اور بیلاروس کے تعلقات بہترین ہیں، سوال یہ ہے کہ پاکستان بیلاروس کو کیا فروخت کرے گا؟ چاول؟ پھل؟ سبزیاں؟ ٹیکسٹائل؟ سرجیکل آلات؟ آئی ٹی سروسز؟ انجینئرنگ مصنوعات؟ اور اس سے بھی اہم سوال یہ ہے کہ پاکستانی مصنوعات بیلاروس کی منڈی تک کس قیمت، کس معیار اور کس لاجسٹک نظام کے ذریعے پہنچیں گی؟ یہ وہ سوالات ہیں جو سفارتی ملاقاتوں کے بعد کاروباری میز پر بیٹھ کر حل ہونے چاہئیں۔

پاکستان کے لیے اچھی خبر یہ ہے کہ دونوں حکومتیں اب محض سیاسی بیانات تک محدود نہیں رہیں، کاروباری برادری کے روابط، سرمایہ کاری فورمز، بیلا روس، پاکستان بزنس کونسل مشترکہ منصوبوں، ٹیکنالوجی ٹرانسفر اور صنعتی شراکت داری پر بات ہو رہی ہے، پاکستان نے اپنی جغرافیائی حیثیت کو بھی اجاگر کیا ہے کہ وہ جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ تک رسائی کا راستہ فراہم کر سکتا ہے۔ 

مگر یہاں بھی اصل امتحان کاغذ نہیں عمل ہے، 2015 میں دونوں ملکوں نے تعلقات کے لیے اہم معاہدے کیے، 2025 میں اعلیٰ سطح کے دورے ہوئے، 2026 میں مشترکہ وزارتی کمیشن کے اجلاس اور اب پارلیمانی سطح پر مفاہمت کی نئی کوشش سامنے آئی ہے، اس کے باوجود تجارت ابھی محدود ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ مسئلہ دوستی کی کمی نہیں دوستی کو معاشی نتیجے میں تبدیل کرنے کا طریقہ کار کا ہے،
یہاں پارلیمنٹ کا کردار بھی دلچسپ ہوجاتا ہے۔

سینیٹ اور بیلاروس کی کونسل آف دی ری پبلک کے درمیان مفاہمت کی یادداشت باقاعدہ پارلیمانی روابط، ادارہ جاتی رابطوں، بین العلاقائی تعاون اور عالمی پارلیمانی پلیٹ فارمز پر رابطے کا فریم ورک فراہم کرتی ہے، بظاہر یہ ایک سیاسی نوعیت کا معاہدہ ہے، مگر اگر پارلیمانی کمیٹیاں اس کے ذریعے تجارت، تعلیم، صنعت، سائنس، زراعت اور سرمایہ کاری سے متعلق مسائل کو مسلسل اٹھاتی رہیں تو یہ معاشی سفارت کاری کا معاون کردار بن سکتا ہے، آخر کسی بھی ملک کے ساتھ دوستی کی سب سے خوب صورت تعریف یہی ہے کہ اس دوستی کا فائدہ عام آدمی تک پہنچے۔

اگر پاکستان اور بیلاروس کے درمیان تعلقات بڑھتے ہیں تو اس کا مطلب صرف یہ نہیں ہونا چاہیے کہ دونوں دارالحکومتوں میں مزید ملاقاتیں ہوں، اس کا مطلب یہ ہونا چاہیے کہ پاکستانی کسان کو بہتر مشین ملے، پاکستانی انجینئر کو نئی ٹیکنالوجی ملے، پاکستانی نوجوان کو ہنر اور روزگار کا موقع ملے، پاکستانی صنعت کو نئی منڈی ملے اور پاکستانی برآمد کنندہ بیلاروس کے راستے وسیع یوریشین مارکیٹ تک پہنچنے کی نئی گنجائش پیدا کرے۔

یہ بھی پڑھیں:منشیات کیس؛ انمول عرف پنکی اور ساتھی سمیر پر فرد جرم عائد

اس دورے میں یوسف رضا گیلانی کا ایک پہلو خاص طور پر قابلِ ذکر ہے، انہوں نے بیلاروس کے ساتھ تعلقات کو صرف سفارتی ملاقاتوں اور روایتی خیرسگالی تک محدود رکھنے کے بجائے اسے تجارت، زراعت، صنعت اور ٹیکنالوجی سے جوڑنے کی کوشش کی۔ خاص طور پر MTZ ٹریکٹر پلانٹ کا دورہ اس بات کا اشارہ تھا کہ پاکستان اب محض تیار شدہ زرعی مشینری خریدنے کے بجائے پیداوار، اسمبلی اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کے امکانات پر بھی بات کرنا چاہتا ہے۔ پارلیمانی سطح پر مفاہمت کی یادداشت اس کوشش کو ایک ادارہ جاتی شکل دینے کی طرف قدم ہے۔ کسی بھی دورے کی اصل اہمیت بہرحال اس کے بعد سامنے آتی ہے، جب ملاقاتوں کی میز سے نکلنے والی بات فیکٹری، بازار اور بالآخر عام آدمی کی زندگی تک پہنچتی ہے۔

منسک کے MTZ پلانٹ میں کھڑا وہ ٹریکٹر دراصل صرف ایک مشین نہیں، پاکستان اور بیلاروس کے درمیان ایک ممکنہ معاشی رشتے کی علامت ہے۔ اس کے پہیے کھیتوں میں چلتے ہیں، مگر ان کے ساتھ صنعت، ٹیکنالوجی، ہنر اور تجارت کے راستے بھی کھل سکتے ہیں۔ شرط صرف یہ ہے کہ پاکستان بیلاروس سے ٹریکٹر خریدنے تک محدود نہ رہے، بلکہ اس ٹیکنالوجی، تجربے اور صنعت میں اپنا حصہ مانگے۔

نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس پرفیصلہ عوامی ریفرنڈم سے ہوگا

آخرکار دوستی کی اصل پہچان بھی یہی ہے کہ اس کا فائدہ تصویروں اور بیانات سے نکل کر عام آدمی کی زندگی تک پہنچے، ستر ہزار ٹریکٹر پاکستان آچکے ہیں، اب وقت شاید اس بات کا ہے کہ اگلا ٹریکٹر بیلاروس سے پاکستان نہ آئے، بلکہ پاکستان اور بیلاروس مل کر بنائیں۔
( کالم نگار سجاد پیرزادہ سینئر صحافی، لاہور پریس کلب فارن افیئرز کمیٹی کے سابق ممبر ہیں)