نیشنل فیس لیس سینٹر کاقیام؛ ٹیکس گزار اور ٹیکس افسر کا براہ راست رابطہ ختم

Sep 26, 2026 | 10:10:AM
  نیشنل فیس لیس سینٹر کاقیام؛ ٹیکس گزار اور ٹیکس افسر کا براہ راست رابطہ ختم
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک) ایف بی آر نے نیشنل فیس لیس سینٹر قائم کردیا جس سے ٹیکس گزار اور ٹیکس افسر کا براہ راست رابطہ ختم ہو گیا۔
فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے اسلام آباد میں نیشنل فیس لیس سینٹر قائم کر دیا ، یہ فیصلہ بورڈ ان کونسل نے گزشتہ روز اپنے اجلاس میں کیا۔
نیشنل فیس لیس سینٹر کے ذریعے پاکستان میں ٹیکس آڈٹ اور اسیسمنٹ کے طریقہ کار کو بدل دیا گیا ہے، اب تک اگر کسی ٹیکس دہندہ کا گوشوارہ آڈٹ کے لیے منتخب ہوتا تو اسے ایک مخصوص دفتر کے ایک مخصوص افسر سے اکثر بالمشافہ، معاملہ کرنا پڑتا تھا، تاہم نئے نظام میں یہ رابطہ ختم ہو جائے گا۔
اب کیسز کا انتخاب کوئی افسر نہیں بلکہ ایک کمپیوٹرائزڈ رسک پر مبنی نظام کرے گا، اس کے بعد ہر کیس خودکار طریقے سے ملک میں کہیں بھی موجود کسی افسر کو تفویض کر دیا جائے گا، ٹیکس دہندہ کو معلوم نہیں ہوگا کہ افسر کون ہے اور افسر کا اس بات میں کوئی اختیار نہیں ہوگا کہ کون سا کیس اس کے پاس آئے گا۔

یہ بھی پڑھیں:لاہور ہائیکورٹ کا منی لانڈرنگ کیس سے متعلق اہم فیصلہ
ہر کیس 3 الگ الگ ہاتھوں سے گزرے گا، ایک افسر آڈٹ کرے گا، دوسرا اسیسمنٹ اور تیسرا کوئی بھی فیصلہ جاری ہونے سے پہلے اس کام کے معیار کا جائزہ لے گا، کوئی ایک افسر شروع سے آخر تک کسی ٹیکس دہندہ کے کیس پر اختیار نہیں رکھے گا،تمام نوٹس، جواب اور سماعتیں ایف بی آر کے آئی آر ایس نظام کے ذریعے الیکٹرانک طور پر ہوں گی جہاں قانون کے تحت موقع پر تصدیق یا ٹیکس وصولی کی ضروری ہوگی وہ کام ایک علیحدہ فیلڈ ٹیم انجام دے گی۔
نیشنل فیس لیس سینٹر کی سربراہی چیف کمشنر ان لینڈ ریونیو کرے گا اور اس میں فیس لیس آڈٹ، فیس لیس اسیسمنٹ، کوالٹی کنٹرول اور فیلڈ آپریشنز کے لیے علیحدہ شعبے ہوں گے، اس کے نفاذ کی نگرانی کے لیے پروگرام مینجمنٹ یونٹ پہلے ہی قائم کیا جا چکا ہے، ایف بی آر نے توقع ظاہر کی ہے کہ نیشنل فیس لیس سینٹر ملک بھر کے ٹیکس دہندگان کے لیے ٹیکس کارروائی کو تیز، منصفانہ اور شفاف بنائے گا۔