گیانیش کمار نے  13 کروڑ ووٹ کیسے خارج کئے، الیکشن کمیشن کے اندر کیا  جنگ ہوئی؟ بھارت میں میڈیا رپورٹ سے بھونچال آ گیا

Sep 26, 2026 | 01:36:AM
گیانیش کمار نے  13 کروڑ ووٹ کیسے خارج کئے، الیکشن کمیشن کے اندر کیا  جنگ ہوئی؟ بھارت میں میڈیا رپورٹ سے بھونچال آ گیا
کیپشن: فائل فوٹو
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play


 (ویب ڈیسک) بھارت کے الیکشن کمیشن کا سربراہ نریندر مودی کی معاونت کرنے کے سکینڈل میں بری طرح پھنس گیا۔ ممتاز  نیوز آؤٹ لیٹ انڈین ایکسپریس نے الیکشن کمیشن کے اندر کی دستاویزات سامنے لا کر چیف الیکشن کمشنر  گیانیش کمار کے ووٹر لسٹوں مین بہت بڑے پیمانہ پر دھاندلے اور دیگر  متنازعہ اقدامات پر الیکشن کمیشن کے  سینئیر ترین لوگوں کی سخت مخالفت اور چیف الیکشن کمشنر گیانش کمار کی ہٹ دھرمی کا بھانڈا پھوڑ دیا۔ اب چیف الیکشن کمشنر گیانش کمار کے خلاف تحریک زور پکڑ گئی ہے اور اس کے استعفے سے زیادہ اس کی گرفتاری کا مطالبہ ہونے  لگا ہے۔

 بھارتی اخبار  انڈین ایکسپریس نے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ دو الیکشن کمشنرز نے گزشتہ 10 ماہ کے دوران کم از کم 14 مرتبہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے سامنے ووٹر لسٹوں کو  "اپ ڈیٹ کرنے" کے نام سے ہر ریاست میں لاکھوں مسلمانوں اور مذہبی اقلیتوں اور دلت کمیونٹی کے شہریوں کے ووٹ  خارج کر دینے کے ظالمانہ عمل کے حوالے سے سوالات اٹھائے یا اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا۔

انڈین ایکسپریس کے مطابق اعتراضات نئے ووٹرز کے اندراج اور ووٹرز کے نام فہرست سے نکالنے اور دوبارہ شامل کرنے کے طریقہ کار سے متعلق تھے۔

گیانش کمار کی پالیسیوں اور اقدامات سے سخت اختلاف کرنے والے دونوں کمشنرز نے نئے ووٹرز کے لیے آن لائن فارم 6 میں کی گئی تبدیلی پر بھی اعتراض کیا تھا، فارم میں پوچھا گیا تھا کہ آیا نئے ووٹر، ان کے والدین یا دادا دادی کا نام پرانی ووٹر فہرست میں موجود تھا یا نہیں۔

انڈین ایکسپریس  Indian Express کی حالیہ رپورٹ 23 ستمبر 2026 کی ایک بڑی تحقیقاتی سٹوری ہے، اور یہ محض کانگرس پارٹی کے  پون کھیڑا یا کانگریس کا بیان نہیں ہے۔ رپورٹ کا بنیادی دعویٰ  الیکشن کمیشن آف انڈیا کے اندرونی ریکارڈ پر مبنی ہے۔

اس سکینڈل کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ تین رکنی الیکشن کمیشن  Election Commission میں سے دو الیکشن کمشنر  Election Commissioners، سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی، نے گزشتہ تقریباً 10 ماہ میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کی سربراہی میں کیے گئے اقدامات پر کم از کم 14 مرتبہ تحریری اعتراضات کیے۔  انڈین ایکسپریس کی تحقیق کے مطابق ان اعتراضات میں یہ بھی کہا گیا کہ بعض فیصلے ان دونوں الیکشن کمشنروں کو بتائے بغیر کیے گئے۔

دو الیکشن کمشنروں کے اہم اعتراضات یہ تھے:

فارم چھ Form 6 میں تبدیلی : نئے ووٹر سے پوچھا گیا کہ آیا وہ، اس کے والدین یا دادا دادی پچھلی SIR کی ووٹر لسٹ میں موجود تھے۔ دونوں الیکشن کمشنروں نے اسے غیر قانونی اور اختیار سے تجاوز پر مبنی اقدام  “unauthorised/illegal” قرار دیا اور کہا کہ سیچوریٹری فارم   statutory form کو متعلقہ رولز  میں ترمیم کے بغیر تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔
ووٹروں کے نام حذف کرنے کا طریقہ: بہت متنازعہ ایس آئی آر  SIR کے تحت ووٹر لسٹوں سے بہت بڑے پیمانے پر نام خارج کرنے کے عمل پر اعتراضات ہوئے۔
الیکٹورل ڈیٹا بیس کی سنٹرلائزیشن:  دونوں الیکشن کمشنروں نے شکایت کی کہ  ووٹرز ڈیٹا بیس voter database کا کنٹرول بتدریج دہلی میں مرکزی سطح پر منتقل ہو رہا ہے، جس سے مقامی  الیکٹورل رجسٹریشن دفتروں  کا اختیار محدود ہو رہا ہے۔
آئی ٹی سسٹم:  کو تھوپنے میں گیانیش کی آمریت:  یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ  دونوں الیکشن کمشنروں نے کیبنٹ سیکرٹری  تک شکایت پہنچائی کہ الیکٹورل رول اور  اس کے آئی ٹی بیک بون  IT backbone کی نگرانی سے متعلق اختیارات ان کی اطلاع یا منظوری کے بغیر تبدیل کیے گئے ہیں۔

ووٹروں کو ہر صورت میں ووٹرز لسٹ سے باہر رکھنے کی کوشش

الیکشن کمشنر سندھو نے ی اعتراض کیا کہ ایس آئی آر اپیلیں کس کے اختیار سے کس کی اجازت سے دائر کی گئیں۔ یہ اپیلیں ان ووٹروں کے انتخابی فہرست مین واپس آنے پر دائر کی گئیں جن کو ایس آئی ٓر مین تو نکال دیا گیا تھا لیکن ان کو ٹریبونل نے بحال کر دیا تھا۔ اب یہ انکشاف ہو رہا ہے کہ ان ووٹروں کو ہر قیمت پر ووٹرز لسٹ سے باہر ہی رکھنے کے لئے جو حرکتیں ہوئیں، ان میں دو الیکشن کمشنر وں سے پوچھا تک نہیں گیا۔ 

انڈین ایکسپریس نے اپنی تہلکہ مچا دینے الی رپورٹ میں یہ نہیں کہا کہ ان اعتراضات سے الیکشن رزلٹ میں دھاندلی ثابت ہوگئی ہے۔ الیکشن رزلٹ میں دھاندلی کے شواہد تو کئی ریاستی الیکشن کے رزلٹ سامنے ٓٓنے کے بعد ڈسکس ہوئے تھے ، انڈین ایکسپریس کی رپورٹ خود نوٹ کرتی ہے کہ جن نشستوں میں ایس آئی آر ڈیلیشن  جیت کے مارجن سے زیادہ تھیں وہاں نتائج کا پیٹرن یک طرف نہیں تھا، یعنی کہیں کسی کو فائدہ ہوا ، کہیں کسی اور کو۔

یہ بھی پڑھیئے:  چیف الیکشن کمشنر  گیانیش کمار کی گرفتاری کے لئے بھارت بھر میں احتجاج، جلوسوں کی الیکشن کمیشن دفاتر پر یلغار 

لیکن رپورٹ کی بڑی انسٹی ٹیوشنل فائنڈنگ یہ ہے کہ  الیکشن کمشن آف اندیا کے اندر ہی دو ارکان بار بار  چیف الیکشن کمشنر CEC کے زیر نگرانی اقدامات پر قانونی اور انتظامی اعتراضات ریکارڈ کر رہے تھے۔ اندین ایکسپریس اس الیکشن کمشن کے اندر  ایک غیر معمولی ٹوٹ پھوٹ rupture کی حیثیت سے  پیش کرتا ہے۔

یہ پہلی بار نہیں کہ  الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے فیصلوں پر صرف اپوزیشن نے اعتراض کیا ہو۔ اس رپورٹ کے مطابق خود الیکشن کمشن کے دو  ارکان نے کمشن کے  ریکارڈ پر  اپنے اعتراضات درج کیے ہیں۔

یہ بھی پڑھیئے:  دہلی میں ایک اور لڑکی کا ریپ،  کالجوں کی لڑکیاں احتجاج کے لئے سڑکوں پر آ گئیں 

اب تک بھارت مین الیکشن کمیشن کا بھارتیہ جنتیا پارٹی کے قتدار کو برقرار رکھنے میں مدد کرنے کا الزام صرف سیاستدان ہی لگا رہے تھے وہ بھی دبے لفظوں میں ڈرتے ڈرتے، لیکن اب یہ سب کچھ ایک حقیقت بن کر سامنے آ رہا ہے کہ بھارت کا کبھی مثالی غیر جانبدار الیکشن کمیشن اب جانبدار ہے اور وہ بھی ایسا کہ الیکشن کمیشن کے طاقت ور ارکان بھی ادارہ کی اس بربادی پر سخت احتجاج کرتے کرتے تھک گئے ہیں۔ غالباً یہی وجہ ہے کہ اب تک الیکشن کمیشن کے  اندر ہونے والی ساری جنگ باہر نکل کر میڈیا میں آ گئی۔

آج کی سورتحال

 (ایس آئی آر)  کے مسائلہ پر اور دوسرے متعلقہ مسائل پر   الیکشن کمیشن کے اندر اختلافات س اور گیانیش کمار کی سخت مخالفت اور مزاحمت کے متعلق  صرف ایک رپورٹ کے سامنے آنے کے بعد اپوزیشن جماعتوں نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف اپنے حملے تیز کر دیے ہیں۔ اب مبطالبہ استعفے کا ہی نہیں گرفتاری کا بھی ہے۔

پون کھیڑا نے کیا کہا؟

 کانگریس کے سینئر لیڈر پون کھیڑا نے ایک پریس کانفرنس کر کچھ اہم باتیں میڈیا کے سامنے رکھیں۔ انھوں نے کہا کہ ’’جب آئین بنا، تب ایک بات پر بہت زور دیا گیا تھا کہ ملک کے ہر شہری کے ووٹ کی قیمت یکساں ہوگی۔ لیکن آج اقتدار میں ایسے آئین مخالف لوگ بیٹھ گئے ہیں، جنھوں نے وی آئی پی اور عام ووٹر کو الگ الگ زمروں میں تقسیم کر دیا ہے۔‘‘ پورن کھیڑٓ نے  13 کروڑ ووٹروں کو ووٹر لسٹوں سے خارج کرنے  کا انکشاف کیا۔

پون کھیڑا نے بڑی تعداد میں ووٹرز کو حق رائے دہی سے محروم رکھے جانے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’’ملک بھر میں ایس آئی آر کے ذریعہ گیانیش کمار نے 13 کروڑ سے زیادہ لوگوں کو ووٹ کے حق سے محروم کر دیا۔ اس کی قلعی راہل گاندھی کافی وقت سے کھول رہے تھے، لیکن کئی لوگ ماننے کو راضی نہیں تھے۔ لیکن آج حقیقت سب کے سامنے آ گئی ہے۔‘‘

 وہ آگے کہتے ہیں کہ ’’الیکشن کمیشن نے تقریباً نصف دہلی والوں کے ووٹ کاٹ دیے، لیکن وی آئی پی ووٹرس کی الگ کیٹگری بنا دی۔‘‘ اس بارے میں اہم حقائق پیش کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’’حال ہی میں رپورٹرس کلیکٹیو نے رپورٹ میں بتایا تھا کہ ایس آئی آر سے منسلک افسران کو ہدایت دی گئی ہے کہ جلد از جلد وی آئی پی ووٹرس کو شناخت کر کے نشان زد کیا جائے۔

 اب ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بی ایل او ایپ میں ایک نئی ’وی آئی پی‘ ووٹر کیٹگری بنا دی گئی ہے۔‘‘ وہ یہ بھی بتاتے ہیں کہ ’’بی ایل او ایپ میں جوڑے گئے اس فیچر میں کئی ورژن ہیں، جن میں ’وی آئی پی‘ ووٹر کیٹگری کا ذکر ہے اور الیکشن کمیشن سے جڑے عہدیدار ان وی آئی پی ووٹرس کے گھر گھر جا کر انھیں مارک (نشان زد) کریں گے۔‘‘