وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا 4اکتوبر تک لانگ مارچ ملتوی کرنے کا اعلان
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز)خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کا اسلام آباد کی طرف لانگ 4 اکتوبر تک ملتوی کرنے کا اعلان کردیا۔
پشاور میں پریس کانفرنس کے دوران وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ لانگ مارچ 4 اکوبر تک ملتوی کیا گیا ہے اور یہ فیصلہ متفقہ طور پر کیا گیا ہے۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ پولیٹکل کمیٹی میں تمام معاملات پر مشاورت کی گئی اور اتفاق ہوا کہ مارچ 4 اکتوبر کو پشاور سے روانہ ہوگا۔
وفاقی وزرا پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وفاقی وزیر یونین کونسل کا الیکشن بھی نہیں جیت سکتا، وفاقی وزیر کی منتخب ویراعلیٰ کے خلاف زبان جو استعمال کی گئی اس کی مذمت کی جاتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ راستے بند کرکے کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں، سیاسی لوگ ہیں سیاسی جدوجہد کریں گے، ان کا خیال ہے 9 مئی جیسا آپریشن کریں گے۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ اگرعدالتوں نے کام کرنا شروع کیا تو آدھے گھنٹے میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کی ضمانت ہو جائے گی، سپریم کورٹ نے عمران خان کو اسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا لیکن عمل نہیں ہوا۔
انہوں نے کہا کہ کچھ عرصہ پہلے مریم صفدر نے بیان دیا کہ مجھے انڈیا سے نہیں اپنے دیگر صوبوں سے خطرہ ہے، رانا ثنا اللہ ہمیں کہتے ہیں کہ دہشت گرد ہیں، یہ خیبر پختونخوا کو کیا پیغام دینا چاہتے ہیں،
سہیل آفریدی نے کہا کہ ہمارے ایم پی ایز کو اٹھایا جا رہا ہے، خیبرپختونخوا کی سرحد پر راستے بند کیے گئے ہیں، ہم سیاسی اور پر امن لوگ ہیں لیکن یہ چاہتے ہیں کہ 9 مئی کی طرح پھر تحریک انصاف کے خلاف مقدامت بنائیں۔
اس سے قبل ایک پریس کانفرنس میں خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے لانگ مارچ روکنے کے لیے وفاقی حکومت کی جانب سے کیے گئے اقدامات پر تشویش ناک قرار دیتے ہوئے خبردار کیا تھا کہ اس اس دفعہ جب نکلیں گے تو اس کرپٹ نظام اور جعلی حکمرانوں کا ہمیشہ کے لیے بندوبست کریں گے۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ خیبرپختونخوا کی باؤنڈری پر کیلیں گاڑھنے کا مطلب ہے کہ اس صوبے کو باقی پاکستان سے کاٹنے کی سازش ہورہی ہے، یہ انتہائی تشویش ناک اور خطرناک پیغام ہے، سوال یہ ہے کہ کیا اس صوبے کے عوام یہ سمجھیں کہ خیبرپختونخوا کو باقی پاکستان سے کاٹنے کی کسی سازش پر باقاعدہ کام شروع کردیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایک طرف مسلسل یہ بیانیہ بنایا جاتا رہا کہ پاکستان کو بھارت سے خطرہ نہیں بلکہ باقی تین صوبوں سے خطرہ ہے اور دوسری طرف خیبرپختونخوا کے عوام کو مسلسل دہشت گرد اور جنگلی قرار دینے کا بیانیہ چلایا گیا اور صوبے کی حدود کے اندر سڑکوں میں کیلیں گاڑھنا اسی سلسلے کی ایک انتہائی خطرناک کڑی ہے تاہم یہ کیلیں ان کے جعلی نظام کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوں گی۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے واضح کیا کہ پاکستان کسی صورت نہیں ٹوٹے گا اور ہم پاکستان کو بچائیں گے، دوسرے صوبے کے سرکاری اہلکار خیبرپختونخوا میں داخل ہوکر ہمارے سرکاری اہلکاروں سے گتھم گتھا ہو رہے ہیں، کیا خیبرپختونخوا کی انتظامیہ اور پولیس پر اعتماد ختم ہوچکا ہے، یا خیبرپختونخوا میں کسی دوسرے صوبے کی پولیس اور انتظامیہ لانچ کی جارہی ہے۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے پارلیمانی لیڈر اور وزیر اطلاعات کو میڈیا پر بند کردیا گیا ہے، خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ کی کوریج سے بھی میڈیا کو روکنے کی اطلاعات ملی ہیں، ریاست پاکستان پر قابض لوگ جو غلط پالیسیاں نافذ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، وہ انتہائی خطرناک ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا کے وزرا کو سادہ کپڑوں میں ملبوس غنڈوں کے ذریعے اغوا کیا جا رہا ہے، کبھی وزرا پر گولی چلائی جاتی ہے اور کبھی انہیں اغوا کیا جاتا ہے، یہ تمام اقدامات ملک کو ایک خطرناک سمت میں لے جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارا لانگ مارچ ہر صورت ہوگا اور یہ پرامن ہوگا، سڑکوں پر کیلیں ٹھوکیں، کنٹینرز رکھیں یا گولیاں چلائیں، ہم نکلیں گے، اس دفعہ جب نکلیں گے تو اس کرپٹ نظام اور جعلی حکمرانوں کا ہمیشہ کے لیے بندوبست کریں گے اور آئندہ کا لائحہ عمل جلد میڈیا کے سامنے رکھا جائے گا۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ ریاستی اداروں اور حکمرانوں کو سیاست میں اتنا نہیں گرنا چاہیے کہ کل ایک دوسرے سے آنکھ ملانے کے قابل نہ رہیں۔
انہوں نے کہا کہ جس سیکریٹریٹ کو تھریٹ کا بہانہ بنا کر بند کیا گیا، وہ خود وہاں گئے اور چہل قدمی کی، اسی طرح جس مسجد کو تھریٹ کے نام پر بند کیا گیا وہاں جاکر خود نماز ادا کی، کوئی تھریٹ نہیں تھا بلکہ جعلی تھریٹس کے ذریعے پورے صوبے کا نظام بند کروایا گیا۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ سیکریٹریٹ کینٹ کے اندر ہے اور کینٹ مکمل طور پر ان کے قبضے میں ہے، اگر کینٹ سے سیکریٹریٹ تک دہشت گرد پہنچ سکتا ہے تو قانون نافذ کرنے والے ادارے تنخواہیں کس کام کی لے رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ان کی دلچسپی صرف خیبرپختونخوا کے وزرا کو پکڑنے اور پاکستان تحریک انصاف کو ختم کرنے میں ہے۔
وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ اگر یہ سمجھتے ہیں کہ ان ہتھکنڈوں سے وہ ہمیں ڈرا دیں گے یا اپنے مقصد سے پیچھے ہٹنے پر مجبور کردیں گے تو یہ ان کی غلط سوچ ہے۔
یہ بھی پڑھیں:وزیر اطلاعات پنجاب عظمی بخاری کا پی ٹی آئی کا مارچ ملتوی ہونے پر مزاحیہ تبصرہ