چیف الیکشن کمشنر کی گرفتاری کا مطالبہ کرنے والوں کی دہلی میں گرفتاریاں، نیہا بورا بھی پکڑی گئی
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک) آج بھارت بھر میں نریندر مودی کے چیف الیکشن کمیشن کی گرفتاری اور برطرفی کے لئے احتجاج ہوا لیکن دہلی میں احتجاج کے لئے مقرر علاقہ جنتر منتر مین نریندر مودی کی پولیس نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کی گرفتاری کا مطالبہ کرنے والوں کو ہی گرفتار کر لیا۔
نئی دہلی میں جنتر منتر باغ میں چیف الیکشن کمشنر گنیش کمار ک کی گرفتاری کے لئے احتجاج کرنے والے پر امن تھے۔ لیکن ان پر پولیس ن کے درجنوں اہلکاروں نے ڈنڈوں کے ساتھ دھاوا بول دیا۔
دارالحکومت نئی دہلی میں پولیس نے احتجاج مین شامل شہریوں کو اندھا دھند گرفتار کیا ۔ سٹوڈنٹ لیڈر نیہا بورا کو بھی پولیس نے گرفتار کر لیا اور یوگیندر یادو سمیت متعدد افراد پولیس کارروائی کی زد میں آئے۔
مودی اور گیانش کا گٹھ جوڑ
نیہا بورا نے اس احتجاج مین بات کرتے ہوئے کہا کہ مودی حکومت نے گیانیش کمار کو چیف الیکشن کمشنر بنایا جس نے ’ووٹ چوری‘ کے ذریعے حکمران جماعت بی جے پی کو فائدہ پہنچایا۔
بھارت میں اس دوران یہ بھی پہوا ہے کہ ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ نے چیف الیکشن کمشنر کو مستعفی ہونے کیلئے 48 گھنٹوں کا الٹی میٹم دے دیا ۔ گزشتہ روز ہی 'کاکروچ جنتا پارٹی' نے وارننگ دی تھی کہ اگر بھارت کے چیف الیکشن کمشنر نے 48 گھنٹوں کے اندر استعفیٰ نہ دیا تو وہ ملک گیر احتجاج شروع کر دیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: نریندر مودی کے الیکشن کمیشن نے ایک اور ریاست میں مسلم ووٹوں کا صفایا کر دیا
کانگرس پپارٹی کا گیانش کمار کی گرفتاری کا مطالبہ، آج ملک گیر احتجاج اور اس کے ساتھ کاکروچ جنتا پارٹی کا الٹی میٹم انڈین ایکسپریس میں گیانش کمار کے جمہوریت کو برباد کرنے، نریندر مودی کے ساتھ گٹھ جوڑ کرنے اور الیکشن کمیشن کو عملاً برباد کر ڈالنے وا؛لی حرکتوں کے متعلق رپورٹ شائع ہونے کے بعد سامنے آیا تھا ۔
انڈین ایکسپریس کی اس رپورٹ میں انکشاف کیا گیا تھا کہ ووٹر لسٹوں میں تبدیلیوں (مسلمانوں اور دوسری اقلیتوں کے ساتھ زبردست دھاندلے) پرالیکشن کمیشن کے اندر سخت مزاحمت ہوئی اور ماتحت افسران نے اعتراضات اٹھائے تھے۔
یہ بھی پڑھیئے: چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کی گرفتاری کے لئے بھارت بھر میں احتجاج، جلوسوں کی الیکشن کمیشن دفاتر پر یلغار
بھارت کی کئی ریاستوں میں بھارتیہ جنتا پارٹی کو فائدہ پہنچانے، مسلمانوں کو خاص طور سے ووٹ کے حق سے محروم کرنے والی مسلسل سازش پر سیاسی جماعتیں دبا دبا احتجاج کرتی رہیں، مسلمان اور دوسری اقلیتوں کے لوگ ووٹ کے حق سے محروم ہو کر روتے رہے لیکن گیانش کمار کے الیکشن کمیشن نے دھاندلا بند نہیں کیا۔ اس دھاندلے کو الٹا ووٹر لسٹوں کی سفائی اور جعلی ووٹ نکالنے کا نام دیا گیا۔ اب یہ ہوا کہ انڈین ایکسپریس نے بھانڈا پھوڑ دیا کہ خود الیکشن کمیشن کے اندر گیانش کو بار بار منع کیا جاتا رہا ہے کہ وہ جمہوریت کو تباہ کر رہا ہے اور اس کے ساتھ الیکشن کمیشن کو بھ یتباہ کر رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیئے: آج مزید 11 جہنم واصل؛ آپریشن شعبان میں مارے گئے بھارتی کٹھ پتلی دہشتگردوں کی تعداد 33 ہو گئی
وزیر اعظم نریندر مودی کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کو فائدے پہنچانے اور مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کی سازش میں گیانش اتنا آگے چلا گیا کہ آج اس کے خلاف بھارت بھر مین جلوس نکالے گئے اور اس کی برطرفی اور گرفتاری کا مطالبہ کیا گیا۔