نریندر مودی کے الیکشن کمیشن نے ایک اور ریاست میں مسلم ووٹوں کا صفایا کر دیا
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک) کئی ریاستوں میں ووٹر لسٹوں سے مخالف ووٹوں کا صفایا کرنے کے بعد بھارت پر قابض ہندوتروا کے بجاریوں کا الیکشن کمیشن اب اتراکھنڈ میں ووٹر لسٹوں سے مودی کے مخالف ووٹروں کو چن چن کر نکال رہا ہے۔ 95 ہزار ووٹروں کے ووٹ منسوخ کئے جانے کی شکایات سامنے آ چکی ہیں۔
اب اتراکھنڈ کی ووٹر لسٹ تنازعہ سامنے آ رہا ہے، 95 ہزار سے زیادہ ووٹر نااہل قرار دیئے جا چکے ہیں۔ کئی دوسری ریاستوں مین ووٹر لسٹوں میں مسلمانوں اور دوسری مذہبی اقلیتوں اور دلت برادریوں کے ووٹوں کی بھاری تعداد کو نکال دیئے جانے پر بھی اپوزیشن کانگرس اور دوسری اپوزیشن پارٹیوں نے احتجاج اور واویلا کیا تھا لیکن کوئی انصاف نہیں ملا تھا، اب اتراکھنڈ میں ووٹر لسٹوں کے اندر گھس کر دھاندلا کرنے کا آغاز ہوا ہے تو یہاں بھی کانگرس اور دوسری پارٹیوں نے شور مچانے کا آغاز کر دیا ہے۔
کانگریس نے اٹھائے سوال
کانگرس پارٹی کی لیڈر کماری شیلجا نے الزام لگایا کہ 42,030 فارم-7 درخواستیں اے ای آر او کے نام پر اور 22,443 درخواستیں ای آر او کے نام پر درج ہوئی ہیں، جبکہ یہ تمام ووٹرز پہلے سے ڈرافٹ لسٹ میں شامل تھے۔
چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو لگاتار تنقید کا سامنا ہے۔ کچھ میڈیا رپورٹس نے ایسے انکشافات کیے ہیں، جس سے الیکشن کمیشن آف انڈیا کٹہرے میں کھڑا نظر آ رہا ہے۔ اب اتراکھنڈ میں ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظرثانی تنازعہ کا شکار ہو گئی ہے۔ چیف الیکشن افسر کے دفتر نے واضح کیا ہے کہ 14 جولائی 2026 کو جاری کی گئی ڈرافٹ ووٹر لسٹ پر دعوے اور اعتراضات کی سماعت ابھی جاری ہے اور حتمی فہرست 3 اکتوبر 2026 کو جاری کی جائے گی۔ اس دوران تقریباً 1 لاکھ 73 ہزار فارم-7 درخواستیں موصول ہوئی ہیں، جن میں سے 95 ہزار سے زیادہ ووٹرز کو ’اَن ایلیجبل‘ یعنی نااہل کے زمرے میں رکھا گیا ہے۔ اس معاملے پر کانگریس نے سوال اٹھایا ہے۔
واضح طور پر بھارتیہ جنتا پارٹی اور نریندر مودی کے زیر اثر الیکشن دفتر کے مطابق جن ووٹرز کو نااہل قرار دیا گیا ہے، وہ یا تو سماعت کے وقت طلب کی گئی دستاویزات پیش نہیں کر سکے یا خود یا خاندان کے کسی رکن کے ذریعہ سماعت میں شامل ہی نہیں ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں دراندازی کی ناپاک جسارت کرنے کی سزا، کئی افغان طالبان جہنم پہنچا دیئے گئے
ایسے معاملات میں متعلقہ ای آر او یا اے ای آر او نے ای-سائن کے ذریعہ ووٹروں کو نااہل قرار دے دیا، جس کے بعد سسٹم نے خود بخود فارم-7 تیار کر کے اس نام کو فہرست سے ہٹانے کے لیے نشان زد کر دیا۔
اسی دوران کانگریس کی اتراکھنڈ کی انچارج کماری شیلجا نے الزام لگایا کہ 42,030 فارم-7 درخواستیں اے ای آر او کے نام پر اور 22,443 درخواستیں ای آر او کے نام پر درج ہوئی ہیں، جبکہ یہ تمام ووٹرز پہلے سے ڈرافٹ لسٹ میں شامل تھے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جس افسر کو فیصلہ کرنا ہے، درخواست اسی کے نام سے کیسے درج ہو گئی۔ انہوں نے اتراکھنڈ اور پنجاب کے اعداد و شمار میں فرق پر بھی سوال اٹھایا اور پوچھا کہ کیا یہ فارم خود الیکٹورل سافٹ ویئر کے ذریعے تیار ہو گئے؟
قابل ذکر بات یہ ہے کہ الیکشن آفس نے یقین دلایا ہے کہ حتمی ووٹر لسٹ جاری ہونے کے بعد بھی فارم-6 کے ذریعے نیا نام شامل کرایا جا سکے گا۔ اس کے لیے ضروری دستاویزات پیش کرنے ہوں گے۔ اس کے ساتھ ہی نئے اہل ووٹرز کے نام شامل کرنے کے لیے خصوصی مہم چلانے کی ہدایات بھی دی گئی ہیں۔