سولر پاور انڈسٹری کیلئے مقامی سولر مینوفیکچرنگ پالیسی بنائی جائے، گورنر سلیم حیدر
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز) گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان نے مقامی سولر مینوفیکچرنگ پالیسی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔ گورنر سردار سلیم حیدر نے تیسری بین الاقوامی سولر پاور کانکلیو و سولر ٹیکنالوجی ایکسیلنس ایوارڈز 2026 س کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے یہ مطالبہ کیا۔گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان نے کہا ہے کہ پاکستان میں سولر سسٹمز کی مقامی تیاری کے فروغ کے لیے جامع پالیسی تشکیل دی جائے تو ملک میں لاکھوں روزگار کے مواقع پیدا، سستی اور ماحول دوست توانائی فراہم اور قیمتی زرمبادلہ کمایا جا سکتا ہے، جبکہ صوبائی وزیر توانائی فیصل ایوب نے سولر توانائی کے شعبے کی توسیع کے لیے حکومت پنجاب کی مکمل معاونت کی یقین دہانی کرائی ہے۔
گورنر پنجاب نے ان خیالات کا اظہار لاہور میں انرجی اپ ڈیٹ کے زیر اہتمام پاکستان سولر ایسوسی ایشن، رینیوایبل انرجی ایسوسی ایشن آف پاکستان اور پاکستان آلٹرنیٹو انرجی ایسوسی ایشن کے تعاون سے منعقدہ تیسری بین الاقوامی سولر پاور کانکلیو و سولر ٹیکنالوجی ایکسیلنس ایوارڈز 2026 سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
یہ بھی پڑھیئے: چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کی گرفتاری کے لئے بھارت بھر میں احتجاج، جلوسوں کی الیکشن کمیشن دفاتر پر یلغار
سردار سلیم حیدر خان نے کہا کہ یہ افسوسناک امر ہے کہ حکومتی پالیسی کے فقدان کے باعث پاکستان میں سولر سسٹمز کی بڑے پیمانے پر مقامی مینوفیکچرنگ شروع نہیں ہو سکی۔ انہوں نے کہا کہ اگر ملک میں سولر مینوفیکچرنگ کی صنعت قائم کی جائے تو اس سے لاکھوں ملازمتیں پیدا ہونے کے ساتھ ساتھ صاف، سبز اور نسبتاً کم لاگت توانائی بھی دستیاب ہو سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بجلی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث عام پاکستانی کے لیے شمسی توانائی کی اہمیت مسلسل بڑھ رہی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو وافر دھوپ کی نعمت عطا کی ہے، جس سے فائدہ اٹھا کر عوام پر بجلی کے بلوں کا بوجھ کم کیا جا سکتا ہے اور ماحول کو بھی تحفظ فراہم کیا جا سکتا ہے۔ گورنر پنجاب نے سولر کاروباری برادری پر زور دیا کہ وہ حکومتی پالیسی کا انتظار کرنے کے بجائے ملک میں سولر سسٹمز کی مقامی تیاری کے لیے عملی اقدامات شروع کرے۔
گورنر سلیم حیدر خان نے کہا ، سولر صنعت نے ماضی میں بھی محدود حکومتی معاونت کے باوجود پاکستان میں ٹیکنالوجی متعارف کرانے میں اہم کردار ادا کیا، اسی طرح مقامی مینوفیکچرنگ کی بنیاد بھی رکھی جا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقامی سطح پر سولر سسٹمز کی تیاری سے نہ صرف ملک کی بڑھتی ہوئی ضروریات پوری ہوں گی بلکہ پاکستان سولر مصنوعات برآمد کرکے قیمتی زرمبادلہ بھی حاصل کر سکے گا۔ گورنر پنجاب نے ملک میں سولر پینلز کے تیزی سے بڑھتے استعمال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ شہروں میں بڑی تعداد میں گھروں کی چھتوں پر سولر پینلز نصب ہو چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ شمسی توانائی کا بڑھتا ہوا استعمال اس شعبے میں عوامی دلچسپی کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے حکومتوں کی جانب سے سولر توانائی کے فروغ کے لیے کیے جانے والے اقدامات کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ سندھ حکومت نے مویشی پال کسانوں اور سیلاب سے متاثرہ افراد میں بڑی تعداد میں سولر پینلز مفت تقسیم کیے ہیں۔ سردار سلیم حیدر خان نے کہا کہ حالیہ علاقائی جنگ کے باعث توانائی کی سپلائی میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں کے نتیجے میں ایل این جی کی ترسیل متاثر ہوئی، جس سے بجلی کی لوڈشیڈنگ میں اضافہ ہوا، تاہم سولر توانائی کی بڑھتی ہوئی دستیابی مستقبل میں گھریلو صارفین کے لیے مہنگی گرڈ بجلی پر انحصار کم کر سکتی ہے۔
اس تقریب میں پنجاب کے وزیر توانائی فیصل ایوب نے بھی گفتگو کی۔
فیصل ایوب نے کہا کہ پاکستان نے 2009-10 میں بجلی کی شدید قلت اور لوڈشیڈنگ کا سامنا کیا، جس پر ان کے مطابق 2013 سے 2018 کے دوران مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے بجلی پیدا کرنے والے منصوبے قائم کرکے قابو پایا۔ انہوں نے کہا کہ اب ملک کو بجلی کی قلت سے زیادہ مہنگی بجلی کے چیلنج کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ بجلی کا شعبہ وفاقی دائرہ اختیار میں آتا ہے، تاہم پنجاب حکومت مہنگی بجلی کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے سولر توانائی کے شعبے کی معاونت کرے گی۔ فیصل ایوب نے کہا کہ حکومت سولر توانائی کے شعبے کو فروغ دینے کے لیے وفاقی وزیر توانائی سے رابطہ کرے گی اور پاکستان سولر ایسوسی ایشن کے نمائندوں کو بھی مشاورت میں شامل کیا جائے گا تاکہ ایسی پالیسی تشکیل دی جا سکے جو پاکستان میں شمسی توانائی کے پھیلاؤ میں معاون ثابت ہو۔
فیصل ایوب نے توانائی کے ماہرین سے تجاویز طلب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت سولر شعبے کے فروغ کے لیے تجاویز کا خیرمقدم کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ مرحلے پر سولر صنعت کی معاونت نہ کی گئی تو اس کے ملکی مفادات پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ پاکستان سولر ایسوسی ایشن کے صدر عادل محمود نے کہا کہ شمسی توانائی اس وقت پاکستان کی توانائی ضروریات میں تقریباً 40 ہزار میگاواٹ تک حصہ ڈال رہی ہے۔ ان کے مطابق اگر سولر توانائی کا یہ حصہ موجود نہ ہوتا تو ملک کو روزانہ پانچ سے سات گھنٹے تک لوڈشیڈنگ کا سامنا کرنا پڑ سکتا تھا۔ انہوں نے سولر پینلز پر ٹیکس اور دیگر اقدامات کے باعث صنعت کو درپیش مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے حکومت سے بیٹریوں پر ڈیوٹی اور سیلز ٹیکس ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے ملک میں لیتھیم بیٹریوں کی مقامی مینوفیکچرنگ کے پلانٹس قائم کرنے کی تجویز بھی دی، تاکہ مستقبل میں پاکستان بیٹریاں برآمد کرنے کے قابل ہو سکے۔
کانفرنس کے پہلے پینل مباحثے میں لمز انرجی انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر نوید ارشد، نیشنل گرڈ کمپنی کے مینیجنگ ڈائریکٹر الطاف حسین، گروواٹ پاکستان کے ٹیکنیکل ہیڈ زوہیب الحق اور ٹی بی ای اے وسطی و جنوبی ایشیا کے ریجنل ہیڈ میاں فہد نے توانائی ذخیرہ کرنے کے نظام اور پاکستان میں قابل تجدید توانائی کے بدلتے منظرنامے پر اظہار خیال کیا۔ اس موقع پر انویریکس سولر انرجی کے سی ای او محمد ذاکر علی نے بھی خطاب کیا۔
مقررین نے کہا کہ پاکستان ان ممالک کے ایک منفرد گروپ میں شامل ہو گیا ہے جہاں شمسی توانائی کا حصہ 25 فیصد تک پہنچ چکا ہے۔ ان کے مطابق ملک میں سولر توانائی کی تیز رفتار ترقی بڑی حد تک مارکیٹ کے حالات اور صارفین کی ضروریات کے نتیجے میں ہوئی ہے، نہ کہ کسی جامع حکومتی پالیسی کے تحت۔ ڈاکٹر نوید ارشد نے بیٹری اسٹوریج کو توانائی کے شعبے کے لیے ایک اہم نئی سمت قرار دیتے ہوئے کہا کہ 2035 تک پاکستان میں توانائی کی منتقلی موجودہ تقسیم شدہ توانائی کے ماڈل سے آگے بڑھ کر تقسیم شدہ توانائی ذخیرہ کرنے کے نظام، مائیکرو گرڈز، عمودی پاور پلانٹس، مصنوعی ذہانت اور ڈیٹا اینالیٹکس، توانائی کی بچت اور مؤثر استعمال سمیت دیگر شعبوں تک پھیل سکتی ہے۔
دوسرے پینل مباحثے میں فوٹو وولٹک نظام اور سولر بیٹریوں میں سرمایہ کاری کے مواقع کا جائزہ لیا گیا۔ مباحثے کی میزبانی ڈائریکٹر سسٹین ایبلٹی، ایسور انٹرنیشنل، ڈاکٹر جواریہ شکیل نے کی۔ مباحثے میں دیوان انٹرنیشنل کے حسین دیوان، سی اینڈ آئی انرجی اسٹوریج پاکستان کے ڈائریکٹر جوزف چو، پاور ہائی وے کے چیف ایگزیکٹو محمد فرحان، پاکستان سولر ایسوسی ایشن کے سینئر نائب صدر حسنت خان اور اے ای ایس ایل کے ماروف احمد زبیری نے شرکت کی۔
ڈاکٹر جواریہ شکیل نے صنعت سے وابستہ افراد کو مشورہ دیا کہ سولر توانائی کی جانب منتقلی کے لیے مناسب وقت اور دستیاب صلاحیت کو مدنظر رکھا جائے۔ محمد فرحان نے بنگلہ دیش کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں بھی 5 سے 10 کلوواٹ کی تنصیب رکھنے والے گھریلو صارفین اضافی پیدا ہونے والی بجلی اپنے پڑوسیوں کو فراہم کر سکتے ہیں۔ انہوں نے سولر آلات کی انشورنس کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

تقریب کے اختتام پر مہمان خصوصی گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان نے قابل تجدید توانائی اور سولر شعبے میں نمایاں خدمات انجام دینے والی شخصیات اور اداروں میں تیسری سولر ٹیکنالوجی ایکسیلنس ایوارڈز 2026 تقسیم کیے۔ تقریب میں قابل تجدید توانائی کے شعبے سے وابستہ تقریباً 30 نمایاں کمپنیوں کو ان کی خدمات اور کارکردگی کے اعتراف میں اعزازات سے نوازا گیا۔