لانگ مارچ ملتوی کرنےکی تجویز کہاں سے آئی؟ پی ٹی آئی سیاسی کمیٹی کے اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آگئی

Sep 25, 2026 | 19:46:PM
 لانگ مارچ ملتوی کرنےکی تجویز کہاں سے آئی؟ پی ٹی آئی سیاسی کمیٹی کے اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آگئی
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک)  پی ٹی آئی  کی سیاسی کمیٹی کے اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آگئی۔

میڈیا مین سامنے آنے والی رپورٹس میں انکشاف ہوا ہے کہ پی ٹی آئی کی سیاسی کمیٹی کے آج ہونے والے اجلاس میں  لانگ مارچ ملتوی کرنے کی تجویز ابتدا مین صوابی سے تعلق رکھنے والے ایک رکن نے پیش کی۔

بتایا جا رہا ہے کہ  سیاسی کمیٹی کا اجلاس شروع ہوا تو ابتدائی طور پر وزیراعلیٰ سمیت تمام پارٹی رہنماؤں نے اب تک کے لانگ مارچ سے متعلق بننے والی صورتحال پر تفصیلی بات چیت کی اور راستے کی رکاوٹوں، بالخصوص موٹروے پر موجود رکاوٹوں کے حوالے سے بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

ذرائع نے بتایا کہ اجلاس میں ابتدائی طور پر صوابی سے تعلق رکھنے والے ایک رکن نے تجویز دی کہ فی الحال مارچ کو ملتوی کر دینا چاہیے کیونکہ مختلف اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ بات چیت چل رہی ہے، دیگر اپوزیشن جماعتوں کو ہمارے ساتھ احتجاج میں شرکت پر آمادہ کرلیا جائے تو احتجاج کا اثر زیادہ ہوگا۔ اس تجویز پر پارٹی اجلاس میں موجود کئی دیگر ارکان نے بھی اتفاق کیا۔

یہ بھی پڑھیئے:  پی ٹی آئی کی زوم میٹنگ کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی ، رہنما تذبذب کا شکار
 
بیرونِ ملک مقیم ایک پارٹی رہنما نے اجلاس میں تجویز دی کہ اگر فی الحال مارچ ملتوی کرنا ہے تو کر دیا جائے تاہم تاریخ کا اعلان نہ کیا جائے۔ جس پر اجلاس میں موجود ایک رہنما نے اعتراض کیا کہ اگر تاریخ نہیں دی جائے گی تو کارکن مشتعل ہوں گے جس کی دیگر ارکان نے بھی حمایت کی۔

اجلاس میں اس بات پر اتفاق ہوا کہ 4 اکتوبر کو صوابی کے لیے روانہ ہوا جائے گا اور 5 اکتوبر کو صوابی سے اسلام آباد کے لیے روانگی ہوگی، اس تجویز پر تمام ارکان نے اتفاق کیا تاہم پارٹی اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ باضابطہ اعلان اس وقت تک نہیں کیا جائے گا جب تک محمود اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر کو اعتماد میں نہ لے لیا جائے۔

ذرائع کے مطابق اجلاس میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر سے کہا کہ آپ سینیٹ میں لیڈر آف اپوزیشن علامہ راجہ ناصر عباس اور قومی اسمبلی میں لیڈر آف اپوزیشن محمود اچکزئی کو فون کریں تاہم بیرسٹر گوہر نے کہا کہ آپ خود انہیں فون کر لیں تو زیادہ بہتر ہوگا جس پر وزیراعلیٰ نے حامی بھر لی اور کہا کہ وہ دونوں رہنماؤں سے خود بات کریں گے۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ دونوں رہنماؤں کو اعتماد میں لینے کے بعد وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا مارچ ملتوی کرنے کا باضابطہ اعلان کریں گے جبکہ پارٹی کی جانب سے اس حوالے سے اعلامیہ بھی جاری کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیئے:  چیف الیکشن کمشنر  گیانیش کمار کی گرفتاری کے لئے بھارت بھر میں احتجاج، جلوسوں کی الیکشن کمیشن دفاتر پر یلغار 

ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کو فنڈز کے معاملے کا بھی سامنا ہے جو لانگ مارچ کی راہ میں ایک رکاوٹ بن رہا ہے۔ ماضی میں علی امین گنڈاپور پارٹی کے ساتھ مالی طور پر تعاون کرتے رہے ہیں تاہم اس بار پارٹی کو شدید مالی مشکلات کا سامنا ہے۔ 

پی ٹی آئی رہنما جنید اکبر بھی ایک جلسے میں پارٹی کو درپیش مالی مشکلات کا اظہار  کرچکے ہیں اور انہوں نے تمام ارکانِ اسمبلی سے مالی تعاون کرنے کا مطالبہ بھی کیا تھا۔

ذرائع کے مطابق گزشتہ کئی دنوں سے مارچ کے حوالے سے پارٹی کے اجلاس جاری تھے اور گزشتہ اجلاسوں میں بھی مارچ کی تاریخ تبدیل کرنے کی رائے سامنے آ چکی تھی۔

یہ بھی پڑھیئے:  موسم آج رات اور کل کیا گل کھلائے گا؟ میٹ ڈیپارٹمنٹ کی نئی فورکاسٹ آ گئی