پراپرٹی ٹیکس سےحاصل فنڈز کو انفراسٹرکچر کی بہتری ، عوامی ریلیف کیلئے استعمال کرنے کا فیصلہ
Stay tuned with 24 News HD Android App
(اعجاز جمالی)وزیر بلدیات، ہاؤسنگ و ٹاؤن پلاننگ سید ناصر حسین شاہ کی زیرِ صدارت ورلڈ بینک وفد کے ساتھ اجلاس، ورلڈ بینک کے نمائندوں کے علاوہ چیئرمین پی اینڈ ڈی نجم احمد شاہ، ایڈیشنل چیف سیکریٹری بلدیات و ہاؤسنگ وسیم شمشاد، پی ڈی محترمہ عائشہ حمید اور ڈائریکٹر یو آئی پی ٹی مرتضیٰ آغا سمیت دیگر افسران نے شرکت کی۔
سید ناصر حسین شاہ کی زیرِ صدارت اجلاس میں صوبے کی غیر منقولہ جائیداد پر پراپرٹی ٹیکس کی کلیکشن کے حوالے سے تفصیلی جائزہ لیا گیا، محترمہ عائشہ حمید اور مرتضیٰ آغا نے پراپرٹی ٹیکس کی وصولیابی کے حوالے سے اجلاس کو تفصیلات سے آگاہ کیا۔
اس موقع پر سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ ٹاؤن کی سطح پر پراپرٹی ٹیکس کی وصولیوں کا مقصد لوکل کونسلز کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنا ہے، گراس روٹ لیول پر بلدیاتی نمائندوں کا استحکام عوام کو ان کی دہلیز تک ریلیف کی فراہمی کی ضمانت ہے۔
انھوں نے کہا کہ پراپرٹی ٹیکس سے حاصل ہونے والے فنڈز کی خصوصی نگرانی کی جائے گی،عوام سے حاصل ہونے والے ٹیکس کا پیسہ منصفانہ اور شفاف طریقے سے خرچ کرنے کو یقینی بنایا جائے گا۔
وزیر بلدیات نے کہا کہ پراپرٹی ٹیکس سے حاصل ہونے والے فنڈز گلیوں، سڑکوں، اسٹریٹ لائٹس اور بنیادی انفرااسٹرکچر کی بہتری کے لیے استعمال کیے جائیں گے، عوام کو ان کی دہلیز تک ریلیف کی فراہمی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا وژن اور وزیراعلیٰ سندھ کا مشن ہے۔
سید ناصر حسین شاہ نے بتایا کہ عوام کو ریلیف دینے کے حوالے سے صوبے کے تمام ٹاؤنز کے درمیان مقابلے کا رجحان قائم کیا جائے گا۔ بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے ٹاؤنز کو بالترتیب فرسٹ، سیکنڈ اور تھرڈ انعام کے طور پر خصوصی ترقیاتی گرانٹ دی جائے گی۔
وزیر بلدیات، ہاؤسنگ و ٹاؤن پلاننگ کے مطابق عوام کو بہتر سہولیات فراہم کرنے کے لیے بہترین کارکردگی دکھانے والے ٹاؤن افسران کی حوصلہ افزائی کی جائے گی، جبکہ ناقص کارکردگی کے حامل افسران کو عہدوں سے فارغ کیا جائے گا، پراپرٹی ٹیکس وصولیابی کا پروپر ریکارڈ رکھا جائے۔
ورلڈ بینک کے وفد نے سندھ حکومت کی جانب سے عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے حوالے سے اقدامات کو سراہا، ورلڈ بینک کے وفد اور سندھ حکومت کی جانب سے ایک دوسرے کو مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی گئی۔
یہ بھی پڑھیں :دھرنوں سے بھاگ گئے، ہمت ہے تو آؤ ، عطا تارڑ کا تحریک انصاف کو چیلنج