جدید ریلوے انفراسٹرکچر سے سفر مزید محفوظ، تیز اور قابلِ اعتماد ہوگا:حنیف عباسی

Sep 03, 2026 | 18:41:PM
جدید ریلوے انفراسٹرکچر سے سفر مزید محفوظ، تیز اور قابلِ اعتماد ہوگا:حنیف عباسی
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24نیوز )وفاقی وزیرِ ریلوے حنیف عباسی نے کہاہے کہ جدید ریلوے انفراسٹرکچر سے سفر مزید محفوظ، تیز اور قابلِ اعتماد ہوگا،ML-1 کی اپ گریڈیشن سے کراچی تا لاہور سفر کے دورانیے میں تقریباً 5 گھنٹے کمی آئے گی  جس سے مسافروں کو نمایاں سہولت حاصل ہوگی،اس اپ گریڈیشن سے ٹرینوں کی رفتار، سفری سہولیات اور پاکستان ریلوے کی آپریشنل کارکردگی میں بھی نمایاں بہتری آئے گی۔

وفاقی وزیرِ ریلوے حنیف عباسی سے ایشیائی ترقیاتی بینک (ADB) کے نائب صدر یانگ نے وزارتِ ریلوے میں ملاقات کی،ملاقات کے دوران کراچی تا روہڑی ML-1 کی اپ گریڈیشن، فنانسنگ، ریلوے اصلاحات اور مستقبل کی حکمتِ عملی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ 

وفاقی وزیرِ ریلوے محمد حنیف عباسی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ML-1 حکومتِ پاکستان کا قومی ترجیحی منصوبہ ہے اور حکومت کراچی تا روہڑی سیکشن کا سنگِ بنیاد رواں مالی سال میں رکھنے کے لیے پرعزم ہے، کراچی تا روہڑی ML-1 سیکشن کی اپ گریڈیشن پر تقریباً 2.5 ارب امریکی ڈالر لاگت آئے گی جبکہ اس اہم منصوبے کو 3 سال میں مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

وزیرِ ریلوے کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کی ہدایات کے مطابق 183 کلومیٹر طویل نوابشاہ تا روہڑی سیکشن کو ترجیحی بنیادوں پر شروع کیا جائے گا،انہوں نے اے ڈی بی سے مرکزی سرمایہ کاری قرض کی منظوری کے عمل کو تیز کرنے کی درخواست کی۔

محمد حنیف عباسی نے مزید کہا کہ ML-1 کی اپ گریڈیشن سے کراچی تا لاہور سفر کے دورانیے میں تقریباً 5 گھنٹے کمی آئے گی  جس سے مسافروں کو نمایاں سہولت حاصل ہوگی،اس اپ گریڈیشن سے ٹرینوں کی رفتار، سفری سہولیات اور پاکستان ریلوے کی آپریشنل کارکردگی میں بھی نمایاں بہتری آئے گی۔

وزیرِ ریلوے نے ML-1 کو پاکستان ریلوے کے نظام کی شہ رگ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کی بہتری سے پورے ریلوے نظام کی کارکردگی اور پائیداری مضبوط ہوگی،اس کے علاوہ ریلوے کی مالی پائیداری، گورننس، ترقی اور آمدن میں اضافے کے لیے جامع اصلاحات پر کام جاری ہے۔ 

انہوں نے بتایا کہ پاکستان ریلوے میں اپ گریڈیشن، آؤٹ سورسنگ اور ڈیجیٹلائزیشن سمیت مختلف اصلاحاتی اقدامات پر تیزی سے عملدرآمد کیا جا رہا ہے جبکہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اور نجی سرمایہ کاری کے مواقع بڑھانے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے، جدید آئی ٹی اور ٹیکنالوجی کے استعمال سے ریلوے سروسز کو مزید مؤثر، شفاف اور مسافر دوست بنایا جا رہا ہے۔

 حنیف عباسی کے مطابق ان تمام اصلاحات کا بنیادی مقصد بہتر سفری سہولیات، آپریشنل viability، مالی استحکام اور ریلوے کی آمدن میں اضافہ ہے، انہوں نے کہا کہ مسافر ٹرانسپورٹ کے ساتھ ساتھ فریٹ آپریشنز کو بھی وسعت دینے کی حکمتِ عملی پر عملدرآمد جاری ہے،روڈ ٹرانسپورٹ کے مقابلے میں ریلوے کے ذریعے فریٹ کی نقل و حمل زیادہ محفوظ اور معاشی طور پر مؤثر ہے، اسی لیے ریلوے کی فریٹ صلاحیت بڑھانے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے اور ML-1 کی اپ گریڈیشن سے فریٹ ٹرینوں کی رفتار اور مجموعی freight capacity میں اضافے کے مواقع پیدا ہوں گے۔ 

وزیرِ ریلوے نے یہ خواہش بھی ظاہر کی کہ وہ روہڑی تا پشاور ML-1 کے دیگر حصوں کی فنانسنگ کے لیے اے ڈی بی اور دیگر ترقیاتی شراکت داروں کے ساتھ تعاون جاری رکھنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے ایشیائی ترقیاتی بینک کے مسلسل تعاون کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہوئے اے ڈی بی وفد کو جاری اصلاحات اور مستقبل کی حکمتِ عملی سے آگاہ کیا۔ 

اس موقع پر اے ڈی بی کے نائب صدر نے پاکستان ریلوے کی بہتری اور پائیدار ترقی کے لیے اپنا تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
یہ بھی  پڑھیں :  40 اور 25 ہزار روپے مالیت کے پرائز بانڈ رکھنے والوں کیلئےبڑی خوشخبری