اسلام آباد انتظامیہ کے ڈرافٹ پر کام جاری ،کوئی بھی بیوروکریٹ اختیارات اپنے ہاتھوں سے نہیں جانے دیتا ،طارق فضل چودھری
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز)وفاقی وزیر طارق فضل چودھری نے کہاہے کہ کوئی بھی بیوروکریٹ اختیارات اپنے ہاتھوں سے نہیں جانے دیتا ،اسلام آباد انتظامیہ کے ڈرافٹ پر کام جاری ہے سب سے مشاورت ہو رہی ہے اس کے بعد وزیراعظم اور پھر پارلیمنٹ میں پیش کریں گے ،بااختیار اسمبلی اور حکومت ہو گی ،فیڈرل کیپیٹل کو مدنظر دیکھتے ہوئے پولیس اس نئی حکومت اور انتظامیہ کے ماتحت نہیں ہو گی۔
وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چودھری نے اسلام آباد چیمبر میں صوبوں کے مکالمے میں شرکت اور خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیر داخلہ محسن نقوی اس تقریب کے مہمان خصوصی تھے لیکن ایک فیملی میں وفات کی وجہ سے نہیں آ سکے اور انہوں نے معذرت کا خصوصی پیغام بھجوایا ہے۔
طلال چودھری کاکہناتھا کہ 1100 ارب روپے مالیت کی تجاوزات کا خاتمہ کیا گیا، اسلام آباد میں ٹریفک مسائل حل کئے،پاکستان میں پہلا سمارٹ سٹی بنانے جا رہے ہیں اسلام آباد کو ،ان کاکہناتھا کہ 70 فیصد موجودہ اسلام آباد پولیس 50 سال عمر سے زیادہ کے ہیں ،نئی بھرتی ہو رہی ہے اسلام آباد میں ، اسلام آباد ایف سکس میں رہنے والا صرف 260 روپے پانی کا بل دیتا ہے اور وہ بھی مکمل نہیں دیتے ،تین نئے ڈیمز محسن نقوی اور شہباز شریف اسلام آباد کو دیں گے ،سالڈ ویسٹ کا کوئی نظام نہیں۔
ڈاکٹر طارق فضل چودھری نے چیمبر میں صوبوں کے حوالے سے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ اکتوبرمیں پارلیمنٹ اجلاس میں بھی یہ معاملہ زیر بحث آئے گا،اسلام آباد کو وفاقی یونٹ بنانے کا فیصلہ اسلام آباد والے کریں گے،وزیراعظم اور وزیر داخلہ محسن نقوی نے اسلام آباد کو وفاقی یونٹ اور انتظامی ڈھانچے کو تبدیل کرنے کے حوالے سے بہترین کام کیااور اب عوام اور چیمبر بھی یک زباں ہیں۔
ان کاکہناتھاکہ اسلام آباد میں قانون سازی اور ٹیکس کے معاملات جیسے مسائل درپیش ہیں،اسلام آباد میں ٹیکس لینے کے باوجود یہاں ترقیاتی مسائل ہیں ،ٹیکس لینے کے باوجود وفاقی حکومت آگے آگے اور اسلام آباد کے نمائند ے پیچھے پیچھے ہوتے ہیں ترقیاتی کاموں کیلئے،آج بھی اسلام آباد کے نواحی علاقے پنجاب کے نواحی علاقوں کی طرح ہی ہیں۔
وفاقی وزیر کاکہناتھا کہ کوئی بھی بیوروکریٹ اختیارات اپنے ہاتھوں سے نہیں جانے دیتا ،اسلام آباد انتظامیہ کے ڈرافٹ پر کام جاری ہے سب سے مشاورت ہو رہی ہے اس کے بعد وزیراعظم اور پھر پارلیمنٹ میں پیش کریں گے ،بااختیار اسمبلی اور حکومت ہو گی ،فیڈرل کیپیٹل کو مدنظر دیکھتے ہوئے پولیس اس نئی حکومت اور انتظامیہ کے ماتحت نہیں ہو گی۔
یہ بھی پڑھیں:دھرنوں سے بھاگ گئے، ہمت ہے تو آؤ ، عطا تارڑ کا تحریک انصاف کو چیلنج