وزیراعظم شہباز شریف کے خطاب کے دوران جنرل اسمبلی میں تالیاں بجتی رہیں
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز) وزیر اعظم شہباز شریف کے جنرل اسمبلی میں خطاب کے دوران سامعین نے کئی مرتبہ تالیاں بجائیں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے خطاب کے دوران اس وقت دنیا کو درپیش سب سے بڑے مسئلے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی پر تفصیل سے بات کی، اسلام آباد مفاہمت کا ذکر کیا، آبنائے ہرمز اور آبنائے باب المندب کو کھولنے کا مطالبہ کیا۔
شہباز شریف نے علاقائی کشیدگی کم کرنے کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کی ضرورت پر زور دیا جبکہ آبنائے ہرمز اور آبنائے باب المندب کو کھولنے کی ضرورت بھی اجاگر کی۔
کشمیر کی آزادی پر پاکستان کے مؤقف کو دہرایا اور کہا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے۔ شہباز شریف نے سندھ طاس معاہدہ کی بھارت کی خلاف ورزیوں پر بھارت کو تنبیہہ کی، انہوں نے بھارت کے گزشتہ سال چھ مئی کو پاکستان پر حملے کا ذکر کیا اور بتایا کہ پاکستان نے بھارت کو اس جارحیت پر سبق سکھایا، آئندہ بھی بھارت نے پاکستان پر کوئی جارحیت کی تو آئندہ بھی پاکستان بھارت کو سبق سکھائے گا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے افغانستان کی طالبان ریجیم کو بھی سخت الفاظ مین تنبیہہ کی۔ وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان کے دہشتگردی میں ایک لاکھ لوگ شہید ہوئے ہیں۔ افغانستان سے پاکستان مین دہشتگردی ہو رہی ہے۔ افغان سرزمین کو فتنہ الخوارج اور بی ایل اے کے دہشت گرد استعمال کر رہے ہیں۔ وزیراعظم نے تنبیہہ کی کہ افغانستان اپنی سرزمین سے ہونے والے تمام حملوں کو بند کرے۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے کئی دوسرے اہم مسائل پر بھی بات کی۔
شہباز شریف کی تقریر میں علاقائی و عالمی سلامتی، مکالمہ و سفارت کاری، پائیدار ترقی، موسمیاتی تبدیلی، دہشت گردی، اسلاموفوبیا، عالمی اقتصادی مسائل، کشمیر اور فلسطین شامل تھے۔
وزیراعظم شہباز شریف کے خطاب کے دوران جنرل اسمبلی میں موجود ممالک کے مندوبین نے تالیاں بجا کر وزیر اعظم شہباز شریف کے نکتہِ نظر کو سراہا۔
یہ بھی پڑھیئے: آج مزید 11 جہنم واصل؛ آپریشن شعبان میں مارے گئے بھارتی کٹھ پتلی دہشتگردوں کی تعداد 33 ہو گئی