دہلی میں ایک اور لڑکی کا ریپ،  کالجوں کی لڑکیاں احتجاج کے لئے سڑکوں پر آ گئیں

Sep 26, 2026 | 00:35:AM
 دہلی میں ایک اور لڑکی کا ریپ،  کالجوں کی لڑکیاں احتجاج کے لئے سڑکوں پر آ گئیں
کیپشن: احتجاج کرنے والی دہلی کی لڑکیوں کا مطالبہ سادہ ہے؛ خاتون وزیر اعلیٰ  گھر سے باہر تحفظ کو یقینی بنائے  اور ریپسٹوں کی سسٹمیٹِک پشت پناہی بند کی جائے۔ 
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک)   جب نظام خواتین کو تحفظ دینے میں ناکام ہوتا ہے تو سب سے پہلے ان کی آزادی چھین لی جاتی ہے۔ یہ اب بھارت کے دارالحکومت دہلی میں ہو رہا ہے جہاں بچی کے ریپ کے بعد خوفزدہ  ماؤں نے اپنی بچیوں کو پڑھنے کے لئے  گھر سے باہر بھیجنا  کم کر دیا ہے۔ لڑکیاں اس عدم تحفظ اور خوف کی صورتحال پر احتجاج کے لئے ماؤں کے خوف کی پیروی کرنے کی بجائے سڑک پر احتجاج کے لئے آ گئیں۔

دہلی میں کالکاجی، ایل ایس آر کے قریب ایک 17 سالہ لڑکی کے ساتھ  کئی افراد کے ریپ کے واقعہ کے بعد، کملا نہرو یا گارگی کے طلباء نے محفوظ عوامی مقامات، بہتر پولیسنگ اور جوابدہی کا مطالبہ کرتے ہوئے یکجہتی مارچ نکالا۔
احتجاج کرنے والوں کا  مطالبہ تھا کہ لڑکیوں کو ان کی حفاظت کے لیے گھر/کالج سے دور نہیں رکھا جا سکتا۔ دہلی کی سڑکوں، پارکوں اور کیمپس کو محفوظ بنایا جانا چاہیے۔ جب دہلی کی لڑکیاں اپنی حفاظت کے لیے سڑکوں پر نکل رہی ہیں تو کب مستقل حفاظتی اقدامات آئیں گے؟


اور یہ بھی سوال کیا گیا کہ بی جے پی-آر ایس ایس کی ’’ناری شکتی‘‘ کی سیاست پر اگر آدھی آبادی اپنے  دارالھکومت میں ہی  محفوظ نہیں ہے تو یہ کس کا اختیار ہے؟
آج دہلی میں سڑک پر آ کر احتجاج کرنے والی ان لڑکیوں کا مطالبہ واضح ہے، احتساب کی ضرورت ہے، حفاظت کی ضرورت ہے اور حکومت کو سی ایم ریکھا گپتا کے استعفیٰ کے مطالبے کا جواب دینا چاہیے۔

ریپ کے واقعہ کا اثر، لرکیوں کے کالج میں حاضری گر گئی

دہلی کے سب سے باوقار کالجوں میں سے ایک، ایل ایس آر، کی طالبات آج سڑکوں پر ہیں کیونکہ دارالحکومت میں ایک 17 سالہ لڑکی کے ساتھ اجتماعی عصمت دری کے بعد، لڑکیاں کالج آنے سے ڈرتی ہیں۔ کالج کو آن لائن کلاسز شفٹ کرنا پڑی ہیں۔
 دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہلانے والے  بھارت کے دارالحکومت میں لڑکی کا ریپ کوئی نئی بات نہیں، لیکن لڑکیوں کا اس پر ہمیشہ سے زیادہ سخت  احتجاج غیر معمولی ہے۔  نوٹ کرنے کی بات ہے کہ اس وقت دہلی کی وزیر اعلیٰ ایک عورت ہے لیکن اس کا عورتوں کی آزادی اور تحفظ سے کوئی تعلق دکھائی نہیں دیتا۔ 


بی جے پی-آر ایس ایس کے ہندوتوا کو بھارت پر مسلط کرنے کے نظریہ  کو لے کر جذباتی باتیں کرنے والے سب ہی لوگ  خواتین کو بھی کنٹرول کرنے اور ان کی نقل و حرکت کو محدود کرنے کی بھی حمایت کرتے ہیں لیکن ریپ کرنے والے کسی مجرم کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے دھکیلنے کے لئے ان کا جوش کبھی سامنے نہیں آتا۔

ہندوتوا کے پجاری  ریپ کے واقعات کے بعد پبلک ڈسکورس میں الٹا یہ تبلیغ کرتے پائے جاتے ہیں کہ ریپ سے بچنے کے لئے  خواتین کو کس طرح زندگی گزارنی چاہیے۔ اس مسلسل جبر کی سوچ کا اب یہ اثر سامنے آیا کہ ایک بچی ریپ پہوئی تو بہت سی بچیاں کالج آنے سے خوفزدہ ہو کر گھر بیٹھ گئیں، والدین نے بھی  ان کو گھر بٹھانے میں کردار ادا کیا۔

 لیکن ایل ایس آر کالج ، کے این سی، گارگی، اور دوسرے کئی اداروں کی سڑک پر آ کر احتجاج کرنے والی سٹوڈنٹ لڑکیوں کا کہنا ہے کہ حفاظت کے نام پر خواتین کو گھر کے اندر رکھنا تحفظ نہیں ہے۔ یہ تو  کنٹرول کی ایک اور شکل ہے۔
ایل ایس آر کالج کی لڑکیا ں تحفظ کے احساس کے ساتھ تعلیم حاصل کرنے، خواب دیکھنے اور اپنے مستقبل کی تعمیر کے لی دہلی کی سڑکوں پر احتجاج کے لئے آئیں تاکہ ان کی زندگی چھوٹی نہ ہو کیونکہ نظام تو  انہیں محفوظ رکھنے میں ناکام  ہو رہا ہے۔

احتجاج میں شامل سٹوڈنٹس نے کہا کہ دہلی حکومت، دہلی سٹیٹ کی وزیر اعلیٰ اور دہلی پولیس کو جواب دینا چاہیے: جب بھی نظام ناکام ہوتا ہے خواتین کو ہی اپنی آزادی کیوں سرنڈر کر دینی چاہیے؟
انہوں نے کہا کہ اس بار خواتین کو خاموش نہیں کیا جا سکے گا، وہ مجرمانہ ذہنیت کے مردوں کی ریپ جیسی حرکتوں سے خوفزدہ ہو کر  پیچھے نہیں ہٹیں گی۔
وہ سڑکوں پر اپنا حق واپس لیں گے چاہے انہیں بار بار سڑکوں پر ہی کیوں نہ آنا پڑے۔
ان سٹوڈنٹس نے کہا، گلیاں ہماری ہیں۔ شہر ہمارا ہے۔ آزادی ہماری ہے۔✊????❤️

لڑکیوں کے گھر سے باہر محفوظ رہنے کے لئے مؤثر اقدامات کے حامیوں کا کہنا ہے کہ جب لڑکیوں کو صرف محفوظ محسوس کرنے کا حق مانگنے کے لیے سڑکوں پر آنا پڑتا ہے تو حکومت کو سننے کی ضرورت ہوتی ہے۔
ایل ایس آر، کے این سی، گارگی اور دہلی کے دیگر کالجوں کے ارد گرد ہونے والے مظاہروں نے خواتین کی حفاظت، محفوظ عوامی مقامات اور جوابدہی کے بارے میں سنگین سوالات اٹھائے ہیں۔

خواتین کے حقوق کے لئے کام کرنے والی  سابق وزیراعظم اور طاقتور  ترین خاتون اندرا گاندھی کے نام سے چل رہی تنظیم  "اندرا فیلو شپ" نے اپنی فیس بک پوسٹ میں لکھا، "دہلی سٹیٹ کی چیف منسٹر  ریکھا گپتا سے سوال بہت سادہ ہے: اگر خواتین اور طالب علم اب بھی اپنی حفاظت کے بارے میں خدشات کا اظہار کر رہے ہیں، تو زمین پر حفاظتی اقدامات کہاں ہیں؟"

اندرا فیلو شپ کی پوسٹ میں یہ بھی کہا گیا، " بی جے پی-آر ایس ایس کا "ناری شکتی" کے بارے میں بار بار پیغامات بھی جانچ کے مستحق ہیں: کیا خواتین کی بااختیاریت تقریروں کے ساتھ ختم ہوتی ہے، یا اس میں شہر میں محفوظ طریقے سے چلنے کی بنیادی آزادی شامل ہے؟"
خواتین کو ان کے باہر نکلنے پر پابندی لگا کر "محفوظ" نہیں بنایا جا سکتا۔
شہر کو محفوظ بنانا ہوگا۔
دہلی میں مظاہرین خواتین کے تحفظ سے متعلق حکومت کے انتظامات پر سی ایم ریکھا گپتا کے استعفیٰ کا مطالبہ بھی کر رہے ہیں۔
محفوظ سڑکیں کوئی استحقاق نہیں ہیں۔ وہ ایک حق ہیں۔

یہ بھی پڑھیئے:  چیف الیکشن کمشنر  گیانیش کمار کی گرفتاری کے لئے بھارت بھر میں احتجاج، جلوسوں کی الیکشن کمیشن دفاتر پر یلغار