افغان سرزمین سے دہشت گردی ختم کئے بغیر خطے میں امن ممکن نہیں: اسحاق ڈار
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز) نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ افغانستان سے دہشت گردی کا خطرہ خطے کے امن اور ترقی کی کوششوں کو متاثر کر رہا ہے، طالبان حکومت کو پاکستان کے جائز سکیورٹی خدشات دور کرنے کیلئے کالعدم ٹی ٹی پی، بی ایل اے اور دیگر وابستہ گروہوں کیخلاف ٹھوس اور قابلِ تصدیق اقدامات کرنا ہوں گے،خطے میں امن اور ترقی اسی وقت ممکن ہے جب افغانستان سے دہشت گردی کے خطرے کا خاتمہ ہو۔
ای سی او کونسل کے غیر رسمی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان ایک پرامن، خوشحال اور مستحکم افغانستان کا خواہاں ہے جو خطے میں مکمل طور پر ضم ہو اور اپنے ہمسایوں کے ساتھ امن سے رہے، پاکستان نے اسی مقصد کے تحت افغانستان کے ساتھ تعمیری روابط کی پالیسی اپنائی اور دوطرفہ و ٹرانزٹ تجارت کیلئے مختلف سہولتیں بھی فراہم کیں،پاکستان کی واحد توقع یہ ہے کہ طالبان حکومت اس کے جائز سیکیورٹی خدشات دور کرے اور ٹی ٹی پی، بی ایل اے اور دیگر گروہوں کے خلاف ٹھوس اور قابلِ تصدیق کارروائی کرے جو پاکستان کی خودمختاری اور شہریوں کی زندگیوں کیلئے خطرہ ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور ترکیہ کے دفاعی سربراہان کا اہم اجلاس، مکہ دفاعی معاہدے کے تحت فوری تعاون پر اتفاق
نائب وزیراعظم نے کہا کہ تقریباً 80 لاکھ مربع کلومیٹر رقبے اور تقریباً 50 کروڑ آبادی پر مشتمل ای سی او خطہ اپنی حقیقی تجارتی صلاحیت کے مقابلے میں عالمی تجارت میں صرف تقریباً 2.2 فیصد حصہ رکھتا ہے، اس لیے علاقائی تجارت اور اقتصادی تعاون کے فروغ کی وسیع گنجائش موجود ہے، وسطی اور جنوبی ایشیا کو ملانے والے رابطہ کاری کے منصوبوں سے خطے کی اقتصادی صلاحیت کو بروئے کار لانے کے نئے مواقع پیدا ہوسکتے ہیں، پاکستان خطے کے لیے گیٹ وے کا کردار ادا کرنے اور وسطی ایشیا کو بحیرہ عرب کی بندرگاہوں سے ملانے والے اہم تجارتی راستوں کو فعال بنانے کے لیے تیار ہے۔
اسحاق ڈار نے ویزا نظام میں بہتری، اشیا اور افراد کی نقل و حرکت آسان بنانے، ڈیجیٹل انضمام اور ٹرانزٹ نظام بہتر بنانے کو بھی علاقائی تعاون کے اہم نکات قرار دیا،انہوں نے کہا کہ ای سی او کے 2026 سے 2035 کے سٹریٹجک اہداف آنے والی دہائی میں علاقائی تعاون کیلئے ایک عملی اور پرعزم فریم ورک فراہم کریں گے۔