عمران خان تنہا رہ گئے ہیں
تحریر ؛ اسلم اعوان
Stay tuned with 24 News HD Android App
آج سہیل آفریدی کی ڈیرہ اسماعیل خان میں سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کے ہاں آمد کی خبر محض ایک سیاسی ملاقات نہیں بلکہ بظاہر ایک ایسے پسپائی کی علامت ہے جس میں عزم کی جگہ مصلحت اور مزاحمت کی جگہ مجبوری نے لے لی ہو۔
منظر کچھ یوں دکھائی دیتا ہے جیسے اقتدار کی طویل شام میں ایک اجڑے ہوا دیوتا اپنے ہی تراشے ہوئے بتوں کے درمیان کے کثہرے میں کھڑا ہو کر وقت کی بے رحم گردشوں سے اپنی شکست کا مفہوم دریافت کر رہا ہو۔
شاید اب عمران خان کو اس حقیقت کا سامنا کرنا ہوگا کہ اقتدار کی اس طویل کشمکش میں ان کے گرد قائم سیاسی حصار پہلے جیسا نہیں رہا۔ وہ کارواں، جسے کبھی امید، وفاداری اور مزاحمت کی قوت آگے لے جا رہی تھی، شاید کربلا کی حدود تک پہنچنے سے پہلے ہی کوفہ کی گلیوں میں اپنے بہت سے ہم سفر کھو چکا ہے، تاریخ کا المیہ یہی ہے کہ قافلے اکثر منزل پر نہیں بلکہ تاریک راہوں میں لٹ جاتے ہیں اور بعض اوقات شکست میدان جنگ تک پہنچنے سے قبل دلوں کے اندر واقع ہو جاتی ہے۔
مگر اقتدار بذات خود ایسا طلسم ہوش ربا ہے جس کی دنیا میں پیچھے پلٹ کر دیکھنے والے پتھر بن جاتے ہیں ،جو شخص گزرے ہوئے عہد کی تصویروں میں اپنی نجات تلاش کرتا ہے، وہ رفتہ رفتہ انہی تصویروں کا مجسمہ بن جاتا ہے، تاریخ اپنے کرداروں کو ہمیشہ دو راستوں کے بیچ کھڑا کرتی ہے، مفاہمت کا راستہ، جہاں بقا کی قیمت اصولوں کی خاموش قربانی کے باوجود موت یقینی ملتی ہے اور مزاحمت کا راستہ، جہاں فتح کا امکان موجود ہوتا ہے اور اگر شکست بھی ہو جائے تو عزت کی موت کے ساتھ اپنے یقین کے ساتھ کھڑے رہنے کی معنوی آزادی ضرور میسر رہتی ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں سیاسی حکمت اور انسانی وقار ایک دوسرے سے سوال کرتے ہیں جو لوگ عمران خان کو مفاہمت کی خوش نما اصطلاحات میں سمجھوتے کی ترغیب دے رہے ہیں، ممکن ہے وہ اسے سیاسی بقا کا راستہ سمجھتے ہوں مگر تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ ہر بقا زندگی نہیں ہوتی اور ہر شکست موت نہیں ہوتی، بعض اوقات انسان جسمانی طور پر باقی رہ کر بھی اپنے عہد کے اندر مر جاتا ہے، جیسے نواز شریف کر چکے ہیں اور کبھی کبھار ایک شخص اپنے اصول پر قائم رہتے ہوئے شکست کھا کر بھی سلطان ٹیپو کی طرح آنے والی نسلوں کے حافظے میں زندہ رہتا ہے۔
اس لیے اصل سوال محض یہ نہیں کہ کون سا راستہ اقتدار تک پہنچاتا ہے اصل سوال یہ ہے کہ کون سا راستہ انسان کو اپنے ضمیر کے سامنے زندہ رکھتا ہے۔ کامیابی اگر صرف اقتدار کا دوسرا نام ہے تو اس کی عمر اقتدار کی عمر جتنی ہی ہوتی ہے لیکن اگر کامیابی اپنے یقین سے وفاداری کا نام ہے تو پھر اس کا فیصلہ اسٹبلشمنٹ نہیں، تاریخ کرتی ہے۔
شاید اسی لیے مزاحمت کا راستہ، اپنی تمام تر دشواریوں اور شکست کے امکانات کے باوجود، انسانی تاریخ میں ایک الگ معنوی وقار رکھتا ہے۔ جو شخص اپنے نزدیک حق سمجھی جانے والی بات پر سمجھوتہ نہیں کرتا، وہ ضروری نہیں کہ میدان جیت جائے مگر وہ اپنے عہد کی اخلاقی شکست سے محفوظ رہ سکتا ہے۔ شاید تاریخ کے عظیم ترین کرداروں کی اصل میراث بھی یہی ہے کہ انہوں نے زندگی کی طوالت کے بجائے اپنے یقین کی صداقت کو ترجیح دی تھی۔
آخرکار اقتدار گزر جاتا ہے، تخت بدل جاتے ہیں، قافلے بکھر جاتے ہیں اور زمانہ اپنے نئے کردار تراش لیتا ہے، باقی رہ جاتی ہے صرف وہ داستان جس میں انسان نے اپنے اختیار، اپنے یقین اور اپنے ضمیر کے ساتھ کیا سلوک کیا۔ شاید اسی مقام پر تاریخ فیصلہ نہیں سناتی، صرف آئینہ دکھاتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : پاک آئی ڈی موبائل ایپ کا نیا ورژن 5.8.0 متعارف کرا دیا گیا