وراسٹائل گلوکارمنیر حسین کی آواز آج بھی زندہ،بچھڑے31 برس بیت گئے

36 سالہ کیریئر کے دوران 163 فلموں کیلئے 217 گانے گائے جن میںونجھلی والڑیاجیسا سدا بہار گیت بھی شامل ہے

Sep 27, 2026 | 11:25:AM
وراسٹائل گلوکارمنیر حسین کی آواز آج بھی زندہ،بچھڑے31 برس بیت گئے
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ایم وقار)نامورپلے بیک سنگرمنیرحسین کومداحوں سے بچھڑے 31برس بیت گئے، اپنے 38 سالہ فلمی کیرئیر کے دوران انہوں نے  200سے زائد ناقابل فراموش اور سدابہار گیت گائے،وہ 27 ستمبر1995ء کو راہی ملک عدم ہوگئے تھے۔
منیرحسین نے فنی زندگی کا آغاز فلم ’’سات لاکھ‘‘ سے کیا اورنغمے ’’قرار لوٹنے والے‘‘نے انہیں شُہرت کی بلندیوں تک پہنچادیا،اپنے انتہائی عروج کے دورمیں سلیم رضا کے بعدوہ پاکستان کے دوسرے مقبول اورمصروف ترین فلمی گلوکار تھے،موسیقار صفدرحسین نے انہیں فلمی دُنیا میں متعارف کروایا جن کی فلم ’’حاتم‘‘ کے لیے انہوں نے نغمہ ’’ تیرے محلوں کی چھاؤں میں قرار اپنا لٹا بیٹھے‘‘گایا ،اس کے بعدموسیقار رشید عطرے،خواجہ خورشید انور اور اے حمید نے ان کی آواز سے بھرپور فائدہ اٹھایا،وہ پاکستان کے پہلے گلوکار تھے جنہیں بیک وقت اُردو اور پنجابی فلموں میں کامیابی ملی۔
ایک موسیقار گھرانے سے تعلق رکھنے والے منیرحسین کے سگے ماموں رشیدعطرے پاکستان کے عظیم ترین موسیقار تھے جبکہ ان کے خالہ زاد بھائی صفدرحسین بھی ایک اعلٰی پائے کے موسیقار تھے اس طرح پاکستان میں سب سے زیادہ فلموں کی موسیقی دینے والے موسیقار وجاہت عطرے ان کے ماموں زاد بھائی تھے۔
منیرحسین کو اپنی پہلی ہی فلم’’سات لاکھ‘‘ کے سدا بہار گیت ’’قرار لوٹنے والے تو پیار کو ترسے‘‘ کی ریکارڈنگ کے لیے ان کے ماموں رشید عطرے نے بڑی تیاری کروائی تھی،منیر حسین کا گیت’’دِلاں ٹھہر جا یار دا نظارہ لین دے‘‘ان کی شہرت کا باعث بنا،منیرحسین اور سلیم رضا نے 1950ء اور 1960ء کی دہائی میں پاکستان فلم انڈسٹری پلے بیک گلوکاری کے شعبے میں راج کیا،اپنے 36 سالہ کیریئر کے دوران منیر حسین نے 163 فلموں کے لئے 217 گانے گائے جن میں اُردو کے علاوہ پنجابی گانے بھی شامل تھے، ملکہ ترنم نور جہاں کے ساتھ ڈوئٹ ’’اِک چیز گواچی ‘‘ بھی مقبول ہوا تھا جو پنجابی فلم ’’نوراں‘‘ میں شامل تھا۔

یہ بھی پڑھیں:1 سال تک میں بینائی سے مکمل طور پر محروم رہا؛ ایچ ایس وائی کا انکشاف
منیرحسین کو اگرچہ شُہرت فلم ’’سات لاکھ‘‘ کے گانوں سے ملی لیکن ’’نوراں‘‘ ان کی پہلی فلم تھی،فلم ’’مکھڑا‘‘ کے لئے ’’دِلاں ٹھہرجایار دا نظارا لین دے‘‘بھی ان کے مقبول ترین گانوں میں شامل ہے لیکن ملکہ ترنم نورجہاں کے ساتھ فلم’’ہیررانجھا‘‘ کیلئے ڈوئٹ ’’ونجھلی والڑیا‘‘ ان کا سدا بہار گیت ہے جسے خواجہ خورشید انور نے کمپوز کیا تھا احمد راہی اس شُہر آفاق گیت کے خالق تھے۔