یاسمین راشد نے جیل میں کڑھائی سے دل لگا لیا، درجنوں نمونے سامنے آ گئے
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک) جناح ہاؤس پر حملہ، تھانہ شادمان جلانے اور لاہور میں کئی جگہ پر گھیراؤ جلاؤ کروانے کے جرائم مین قید کی سزا کاٹ رہی پی ٹی آئی کی رہنما یاسمین راشد نے جیل مین سلائی کڑھائی سے دل لگا لیا۔
ڈاکٹر یاسمین کے قریبی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ ڈاکٹر یاسمین راشد نے قید کے دوران تکیوں اور صوفے کے کُشنز پر ہاتھ سے خوبصورت کشیدہ کاری کی ہے۔ اس کڑھائی کو ڈاکٹر یاسمین راشد نے خود "Beyond The Bars " کا نام دیا ہے۔
ڈاکٹر یاسمین راشد کی سالگرہ 21 ستمبر کو تھی، اس دن سوشل میڈیا پر یاسمین راشد کی لاہور کی جیل میں تکیئے کے غلافوں اور صوفہ کے کشن پر کی ہوئی کڑھائی کے درجنوں نمونوں کی تصویریں سوشل میڈیا پر سامنے آئیں۔

جیل میں ڈاکٹر یاسمین راشد سے عمر زیادہ ہونے کی وجہ سے کوئ یکام نہین لیا جاتا۔ وہ سارا دن فارغ رہتی ہیں۔ اب انہوں نے وقت گزارنے کے لئے کڑھائی شروع کر دی ہے تو ان کے کام کو دیکھنے والوں کو حیرت پہوئی کہ وہ کڑھائی کرنا بھی جانتی ہیں۔
ڈاکٹر یاسمین راشد نے تکیوں اور صوفہ کُشنز پر ہاتھ سے مختلف رنگوں کے دھاگوں اور سوئی سے خوبصورت کڑھائی کی کہ دیکھنے والے دنگ رہ گئے۔

ان کی کڑھائی میں کہیں ہاتھی، گھوڑا، اُلو اور بلیاں ہوتی ہیں تو کہیں پرندے، پھول،اور تتلیاں نظر آتی ہیں، پہاڑ، بیل بوٹے، پھول اور گل دستے، دیکھنے والوں کو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ڈاکٹر یاسمین راشد نے بہار کے سبھی رنگ تکیوں اور صوفہ کُشنز پر بکھیر دیے ہیں۔

ڈاکٹر یاسمین راشد نےاپنی ہر تخلیق کو الگ عنوان دیا ہے، وہ لکھتی ہیں کہ یہ تخلیق کسی سٹودیو میں نہیں بلکہ پسِ زنداں کی گئی ہے، ہر ٹانکا صبر کی علامت اور ہر رنگ اُمید کی کرن ہے، جب محسوس ہو کہ وقت تھم گیا ہے اور جب ہاتھ، ذہن اور روح بالکل خالی ہوں تو تب کی گئی تخلیق آپ کا بہترین سہارا بن جاتی ہے، جب حالات آپ کےقابو میں نہ رہیں تو تخلیق ہی آپ کو تسکین پہنچاتی ہے، انسان کو غیر متزلزل یقین ہونا چاہیے کہ مشکل ترین حالات میں بھی خوبصورتی نمودار ہو کر رہتی ہے۔
بتایا جا رہا ہے کہ ڈاکٹر یاسمین راشد نے جیل میں ایک کتاب بھی تحریر کی ہے جو جلد شائع ہو جائے گی۔

ڈاکٹر یاسمین راشد کو 9 مئی 2023 کو تحریک انصاف کی پنجاب کی صڈر تھیں۔ ان کا شمار پی ٹی آئی کے بانی کی سب سے قابل اعتماد ساتھیوں میں ہوتا تھا۔ یاسمین راشد کو 9 مئی کو ریاستی اداروں پر حملوں اور جلاؤ گھیراؤ سے متعلق متعدد مقدمات میں سزائیں سنائی جا چکی ہیں۔ انسدادِ دہشت گردی عدالتوں (ATC) نے انہیں اب تک کئی مختلف مقدمات میں قید اور جرمانے کا حکم دیا ہے۔
اب تک انہیں درج ذیل نمایاں مقدمات میں سزائیں ہوئیں:
شیر پاؤ پل جلاؤ گھیراؤ کیس: لاہور کے شیر پاؤ پل پر ہنگامہ آرائی اور توڑ پھوڑ کے مقدمے میں انہیں 10 سال قید کی سزا سنائی گئی۔
تھانہ شادمان نذرِ آتش کیس: شادمان تھانے پر حملے اور اسے آگ لگانے کے مقدمے میں بھی عدالت نے انہیں 10 سال قید کی سزا دی۔
کلب چوک (جی او آر گیٹ) حملہ کیس: نو مئی کے اس پانچویں مقدمے میں جج نے کوٹ لکھپت جیل میں سماعت کرتے ہوئے انہیں 10 سال قید کی سزا سنائی۔
راحت بیکری جلاؤ گھیراؤ کیس: لاہور کینٹ میں راحت بیکری کے قریب ہنگامہ آرائی کے مقدمے میں بھی انہیں 10 سال قید کی سزا ہوئی۔
تھانہ گلبرگ پولیس گاڑیاں جلانے کا کیس: گلبرگ کے علاقے میں پولیس کی گاڑیوں کو نذرِ آتش کرنے کے الزام میں انہیں 10 سال قید کی سزا دی گئی۔
کلمہ چوک کنٹینر کیس: کلمہ چوک کے قریب کنٹینر جلانے اور املاک کو نقصان پہنچانے کے کیس میں بھی عدالت نے انہیں 10 سال قید کی سزا سنائی۔
تھانہ مغلپورہ پولیس گاڑیاں جلانے کا کیس: مغلپورہ کے علاقے میں سرکاری املاک اور پولیس گاڑیوں کو نقصان پہنچانے کے مقدمے میں عدالت نے ڈاکٹر یاسمین راشد کو 10 سال قید کی سزا سنائی۔
ان تمام مقدمات میں سزائیں انسدادِ دہشت گردی کی دفعات کے تحت سنائی گئی ہیں۔ ڈاکٹر یاسمین راشد کے وکلاء کی جانب سے ان تمام سزاؤں کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں اپیلیں دائر کی گئی ہیں، جہاں انہوں نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ یہ سزائیں حقائق کا درست جائزہ لیے بغیر جلد بازی میں سنائی گئیں، لہٰذا انہیں کالعدم قرار دیا جائے۔
