سرکاری اداروں کی سفارش پر پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں نام شامل کرنے کی متعلقہ شق کالعدم قرار 

Sep 26, 2026 | 18:47:PM
سرکاری اداروں کی سفارش پر پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں نام شامل کرنے کی متعلقہ شق کالعدم قرار 
سورس: Google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(احتشام کیانی)اسلام آباد ہائیکورٹ نے شہریوں کا نام پی سی ایل میں شامل کرنے سے متعلق پاسپورٹ رولز کی شق پاسپورٹ ایکٹ اور آئین سے متصادم قرار دے دی، پاسپورٹ رولز 2021 کی رول 22 (2) (b) کی متعلقہ شق کو عدالت نے آئین سے متصادم قرار دے دیا ۔
عدالت نے سیکرٹری داخلہ، ڈی جی امیگریشن اینڈ پاسپورٹس اور ڈی جی ایف آئی اے کو عدالتی فیصلے کی کاپی بھجوانے کا حکم دیتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ پاسپورٹ کنٹرول لسٹ کو پاسپورٹ ایکٹ 1974 اور پاسپورٹ رولز میں وضع کردہ قانونی طریقہ کار کے مطابق مرتب کیا جائے۔
جسٹس راجہ انعام امین منہاس کا عمرہ پر جانے والے شہری کو آف لوڈ کرنے کے خلاف درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر تے ہوئے ریمارکس دیئے کہ پی سی ایل میں نام شامل کرنے کے لیے واضح قانونی اختیار اور تقاضے پورے کرنا ضروری ہے۔
عدالت کے مطابق قانونی تقاضے پورے کیے بغیر شہری کو بیرون ملک سفر سے نہیں روکا جا سکتا، عدالت نے معین الدین نامی شہری کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ سے 15 روز میں نام نکالنے کا حکم دیا۔
عدالت نے فیصلے پر عمل درآمد نا کرنے اور پاسپورٹ اینڈ امیگریشن حکام کے روپے پربرہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ 15 جنوری 2026 کو عدالت نے ایک ہفتے میں درخواست گزار کی پٹیشن پر فیصلہ کرنے کا حکم دیا،توہینِ عدالت کی درخواست اور نوٹس جاری ہونے تک فریقین نے کوئی حکم جاری نہیں کیا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ پاسپورٹ حکام نے بعد میں جو رپورٹ پیش کی اس پر صرف سپیکنگ آرڈر کا عنوان لگا دینا کافی نہیں تھا،اس اسپیکنگ آرڈر میں نہ کسی قانونی شق کا ذکر، نہ مجاز اتھارٹی کی نشاندہی، نہ کسی رول کا ذکر تھا، جس طرح پاسپورٹ حکام نے اسپیکنگ آرڈر کیا اس قسم کا حکم سپیکنگ آرڈر کے زمرے میں نہیں آتا۔
فیصلے میں قرار دیا گیا کہ عدالت کے احکامات پر عملدرآمد کوئی رسمی کارروائی نہیں، فریقین کو اس بات کو ذہن میں رکھنا چاہئے،پٹیشنر کو سعودی عرب میں خطرناک ڈرائیونگ پر تین سال قید کی سزا کے بعد ڈی پورٹ کیا گیا تھا،پٹیشنر نے اپنی سزا مکمل کی اور ڈی پورٹ ہوا جس کا پاسپورٹ منسوخ یا ضبط نہیں کیا گیا۔
 عدالت کے مطابق پٹیشنر کو موثر سفری دستاویز رکھنے یا پاسپورٹ کی تجدید سے نہیں روکا گیا،پٹیشنر نے ویزہ لے کر عمرہ پر جانا چاہا تو ایئرپورٹ پر آف لوڈ کر دیا گیا، عدالت نے قرار دیا کہ پٹیشنر کے خلاف اب کوئی کیس یا انکوائری زیر التواء نہیں، نہ ہی وہ کسی مقدمہ میں ایجنسی کو مطلوب ہے،اس لیے پٹیشنر کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ سے نکالا جائے۔

یہ بھی پڑھیں :ملازمین کے الاؤنسز میں بلا تفریق مراعات دینے کی تحریک التوا کار پنجاب اسمبلی میں جمع