پمز سانحہ:سینیٹ کمیٹی کی ذمہ داروں کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کی سفارش
Stay tuned with 24 News HD Android App
(بابر شہزاد تُرک)سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے صحت نے پمز میں نومولود بچوں کی اموات کے معاملے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے واقعے کے ذمہ دار قرار دیے جانے والے افراد کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں ڈالنے کی سفارش اور 24 گھنٹے کے اندر ایف آئی آر درج کرنے کی ہدایت کر دی.
کمیٹی اجلاس میں اس امر پر بھی سخت سوالات اٹھائے گئے کہ وزیراعظم کی ہدایت اور متعلقہ حکام کو متعدد بار شکایات کے باوجود اب تک مقدمہ کیوں درج نہیں کیا گیا، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے صحت کا اجلاس چیئرمین سینیٹر عامر ولی الدین چشتی کی زیر صدارت ہوا، جس میں وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال، وزارت صحت کے اعلیٰ حکام، پمز کے متعلقہ افسران اور کمیٹی ارکان نے شرکت کی.
کمیٹی نے پمز سانحے، صحت کے ریگولیٹری نظام، نرسنگ گریجویٹس کے مسائل، بلوچستان کے طلبہ کے داخلوں، ڈینٹل تعلیم، فارمولا دودھ کے حوالے سے عوامی آگاہی اور دیگر امور کا جائزہ لیا، پمز سانحے کے معاملے پر سینیٹر مسرور احسن نے سوال اٹھایا کہ واقعہ پیش آنے کے باوجود اب تک ایف آئی آر کیوں درج نہیں ہوئی؟
انہوں نے کہا کہ آئی جی اسلام آباد کو خط بھی لکھا گیا اور وزارت صحت کو بھی شکایت کی گئی، اس کے باوجود مقدمہ درج نہیں کیا گیا، سینیٹر روبینہ خالد نے کہا کہ ایف آئی آر درج کرانے کی قانونی مدت بھی ختم ہوچکی ہے، سینیٹر مسرور احسن نے پمز میں جاں بحق بچوں کی تعداد، ان کی شناخت اور ڈی این اے ٹیسٹ کے حوالے سے بھی سوالات اٹھائے، انہوں نے استفسار کیا کہ پمز میں کتنے بچے جاں بحق ہوئے، والدین کو درست تعداد کیوں نہیں بتائی گئی اور کیا جاں بحق بچوں کے ڈی این اے ٹیسٹ کرائے گئے؟
سینیٹر مسرور احسن کے مطابق 14 سے زائد بچوں کی اموات ہوئیں اور تعداد چھپائی جارہی ہے، پمز کی ڈپٹی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر عنیزہ جلیل نے کمیٹی کو بتایا کہ انہوں نے جاں بحق بچوں میں سے 10 کی لاشیں خود دیکھی تھیں ان کے مطابق بچوں کی شناخت ممکن تھی، ان کے ہاتھوں پر شناختی پٹیاں موجود تھیں اور نام کے ٹیگز اور دیگر شناختی علامات بھی موجود تھیں.
انہوں نے کہا کہ بچوں کے ہاتھوں پر لگی شناختی پٹیاں درست حالت میں موجود تھیں اور شناخت میں مشکل نہیں تھی، کمیٹی کے اجلاس میں نومود کی پوسٹ مارٹم رپورٹ کا معاملہ بھی زیر بحث آیا، سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے بتایا کہ پولیس کی جانب سے دو مرتبہ پوسٹ مارٹم رپورٹ طلب کی گئی، پمز کے جوائنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹر اقبال درانی نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ واقعے کے بعد سیکیورٹی کمپنی اور مانیٹرنگ کمیٹی کے خلاف کارروائی کے لیے انہیں شوکاز نوٹس جاری کیے گئے ہیں.
انہوں نے بتایا کہ پمز میں قائم انکوائری کمیٹی نے بھی متعلقہ افراد کو نوٹسز جاری کیے ہیں، سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے سوال کیا کہ وزیراعظم کی جانب سے 8 افسران کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کی ہدایت کے باوجود اب تک مقدمہ کیوں درج نہیں ہوا، ایڈیشنل سیکرٹری وزارت صحت نے بتایا کہ ایف آئی آر کے لیے وزارت داخلہ کو کہا گیا ہے تاہم ابھی تک جواب موصول نہیں ہوا.
اس پر سینیٹر آغا شاہ زیب درانی نے سخت سوالات کرتے ہوئے کہا کہ وزارت صحت خود مدعی ہے تو وزارت داخلہ کو کیوں کہا جارہا ہے؟ انہوں نے سوال کیا کہ ’’آپ پوسٹ مین کیوں بن رہے ہیں؟ ان کا کہنا تھا کہ وزارت صحت خود مدعی بنے اور جا کر ایف آئی آر درج کرائے، وزارت صحت کے حکام نے مؤقف اختیار کیا کہ پولیس وزارت داخلہ کے ماتحت آتی ہے اور ایف آئی آر درج کرنے کا اختیار وزارت داخلہ کے ذریعے استعمال ہوتا ہے، سینیٹر مسرور احسن نے وزارت صحت حکام سے براہ راست پوچھا کہ ’’واقعہ ہوا کہ نہیں ہوا؟‘‘ جس پر وزارت صحت کے حکام نے جواب دیا کہ پمز میں واقعہ ہوا ہے.
حکام کا کہنا تھا کہ ایف آئی آر کے لیے آئی جی اسلام آباد کو بھی خط لکھا گیا ہے، کمیٹی نے بحث کے بعد پمز سانحے کے ذمہ دار قرار دیے جانے والے افراد کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالنے کی سفارش کرتے ہوئے 24 گھنٹوں کے اندر ایف آئی آر درج کرنے کی ہدایت کردی.
اجلاس میں اسلام آباد ہیلتھ ریگولیٹری اتھارٹی (آئی ایچ آر اے) ریگولیشن ترمیمی بل بھی زیر بحث آیا، سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری کی جانب سے پیش کیے گئے بل پر بحث کے دوران وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ آئی ایچ آر اے ریگولیشن بل میں تمام ضروری چیزیں موجود ہیں لیکن ان پر عمل درآمد نہیں ہورہا، وفاقی وزیر صحت نے بتایا کہ آئی ایچ آر اے کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کو بھی ہٹایا گیا جبکہ بورڈ کے ارکان نے بھی استعفے دیے ہیں، ان کے مطابق آئی ایچ آر اے میں بھرتیاں رُکی ہوئی ہیں، کیونکہ اتھارٹی کے کسی سابق ملازم نے عدالت سے حکم امتناع حاصل کررکھا ہے۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ وزارت صحت وزیراعظم کو ناموں کی سمری بھجوا رہی ہے، وزارت صحت میں افسران کا آدھا وقت عدالتوں میں گزر جاتا ہے اور وزارت جب بھی کوئی اقدام کرنے کی کوشش کرتی ہے تو حکم امتناع حاصل کرلیا جاتا ہے، وزارت صحت نشانے پر ہے، کچھ کرنے لگتے ہیں تو لوگ حکم امتناع لے آتے ہیں۔
سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے کہا کہ ہسپتالوں میں اوور چارجنگ ہورہی ہے اور عوام کو ریگولیٹری نظام کے مؤثر نہ ہونے کا نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے، عوامی مفاد کے مقدمات میں حکم امتناع نہیں دیا جانا چاہیے، کمیٹی کو بتایا گیا کہ بلڈ ٹرانسفیوژن اتھارٹی اور آئی ایچ آر اے کو یکجا کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے، ڈی جی ہیلتھ نے کہا کہ دونوں اتھارٹیز کو یکجا کیا جارہا ہے۔
سینیٹر روبینہ خالد نے سوال اٹھایا کہ ملک میں اتنی زیادہ اتھارٹیز کیوں ہیں، ان سب کو یکجا کیا جانا چاہیے۔ سینیٹر ثمینہ زہری نے کہا کہ پہلے بل منظور کرلیا جائے، بعد میں اتھارٹیز کو یکجا کیا جاسکتا ہے، اجلاس میں بلوچستان کے 37 طلبہ کے میڈیکل داخلوں کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔
سینیٹر جان محمد کی جانب سے معاملہ اٹھائے جانے پر وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے مسئلہ حل کرنے کی یقین دہانی کرائی، کمیٹی ارکان نے بتایا کہ نرسنگ کونسل اور ہیلتھ سروسز اکیڈمی کے درمیان سرٹیفیکیشن کا مسئلہ پیدا ہوا ہے۔
اس پر وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ وہ فی الحال ہیلتھ سروسز اکیڈمی کے معاملات کے ذمہ دار نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب وہ ہیلتھ سروسز اکیڈمی کے معاملات کی ذمہ دار ہوں گے تو وہ اس بارے میں آگاہ کریں گے، کمیٹی کو بتایا گیا کہ 48 نرسنگ گریجویٹس ایک سالہ لازمی انٹرن شپ کررہے ہیں لیکن انہیں وظیفہ نہیں مل رہا۔
نرسنگ کونسل حکام نے بتایا کہ وظیفہ وفاقی حکومت جاری کرتی ہے، تاہم وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کمیٹی کو بتایا کہ وظیفہ ہسپتال ادا کرے گا، وزیر صحت نے یقین دہانی کرائی کہ اگر طلبہ نے انٹرن شپ مکمل کی ہے تو انہیں وظیفہ مل جائے گا، کمیٹی نے ڈینٹل ڈاکٹرز کی ڈگری کا دورانیہ چار سال سے بڑھا کر پانچ سال کرنے کے نوٹیفکیشن کا بھی جائزہ لیا۔
بعد ازاں کمیٹی نے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کو نوٹیفکیشن واپس لینے کی ہدایت کی، پی ایم ڈی سی حکام نے یقین دہانی کرائی کہ پانچ سالہ ڈگری سے متعلق نوٹیفکیشن ایک ہفتے کے اندر واپس لے لیا جائے گا، کمیٹی میں فارمولا دودھ کے استعمال اور ماں کے دودھ کی اہمیت سے متعلق عوامی آگاہی کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔
چیئرپرسن پیمرا نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے مختلف ٹی وی چینلز پر نشر کیے جانے والے آگاہی پروگراموں سے آگاہ کیا، چیئرپرسن پیمرا نے کہا کہ ماں کے دودھ کا کوئی نعم البدل نہیں ہے، ان کے مطابق 22 ٹی وی چینلز پر اس حوالے سے آگاہی پروگرام نشر کیے جا چکے ہیں جبکہ کئی چینلز کے مارننگ شوز میں بھی اس موضوع پر آگاہی پروگرام کیے گئے، چیئرپرسن پیمرا کی بریفنگ کے دوران 24 نیوز سمیت تمام چینلز کے آگاہی کے حوالے سے نشر کردہ پروگرامز کے کلپس چلائے گئے۔
انہوں نے کہا کہ وزارت صحت سے 30 سیکنڈ کا پبلک سروس میسج تیار کروا کر ٹی وی چینلز پر نشر کروایا جائے گا، تاہم چیئرپرسن پیمرا نے واضح کیا کہ ایک گھنٹے کے دوران پانچ پبلک سروس میسجز نشر کرانا ممکن نہیں ہوگا، اجلاس میں افغان طالبہ کو میڈیکل کالج سے نکالنے اور افغان شہریوں کو ایم ڈی کیٹ امتحان سے خارج کرنے کے حوالے سے جاری نوٹس کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔
کمیٹی میں اس حوالے سے وزیر صحت کی وضاحت پر سوالات اٹھائے گئے جبکہ وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کمیٹی کو بتایا کہ صرف افغان شہریوں کو امتحان سے خارج نہیں کیا گیا بلکہ دیگر ممالک کے شہری بھی اس فیصلے سے متاثر ہوئے ہیں، کمیٹی کے سامنے وزیر صحت کی یہ وضاحت اس لیے زیر سوال آئی کہ متعلقہ نوٹس میں افغان شہریوں کو ایم ڈی کیٹ سے خارج کرنے کی ہدایت کا ذکر موجود تھا۔
اجلاس میں اس معاملے پر مزید وضاحت طلب کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے صحت نے اجلاس کے دوران صحت کے شعبے سے متعلق مختلف انتظامی اور پالیسی معاملات کا جائزہ لیتے ہوئے متعلقہ وزارتوں اور اداروں کو مسائل کے حل اور کمیٹی کی ہدایات پر عملدرآمد یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں :وزیراعظم شہباز شریف اور سعودی ولی عہد میں ٹیلی فونک رابطہ