نقیب اللہ قتل کیس : شعیب شوٹر اور امان اللہ مروت سمیت مزید 7 ملزمان بری
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24 نیوز)اے ٹی سی نے نقیب اللہ قتل کیس کا فیصلہ سنا دیا، جس میں شعیب شوٹر اور امان اللہ مروت سمیت مزید 7 ملزمان کو بری کردیا۔
تفصیلات کے مطابق کراچی کی انسدادِ دہشت گردی عدالت نے نقیب اللہ محسود قتل کیس کا حتمی فیصلہ سناتے ہوئے شواہد کی عدم موجودگی کی بنا پر شعیب شوٹر اور امان اللہ مروت سمیت تمام 7 ملزمان کو بری کر دیا ہے۔
بری ہونے والے دیگر ملزمان میں گدا حسین، صداقت حسین، ریاض احمد، راجہ شمیم اور محسن عباس شامل ہیں۔
ملزمان کے وکیل نے موقف اپنایا کہ گرفتار پولیس اہلکاروں کے خلاف کسی ایک گواہ نے بھی یہ بیان نہیں دیا کہ یہ پولیس مقابلہ جعلی تھا۔
پراسیکیوشن نے بتایا نقیب اللہ محسود کو جنوری 2018 میں ایک مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک کیا گیا تھا، اس مقدمے میں سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار سمیت 18 پولیس افسران اور اہلکاروں کو پہلے ہی بری کیا جا چکا ہے۔
مقدمے میں سابق ایس ایچ او امان اللہ مروت اور شعیب شوٹر سمیت 7 پولیس افسران و اہلکار مفرور تھے، جنہوں نے اے ٹی سی کے سابقہ فیصلے کے بعد خود کو قانون کے سامنے سرینڈر کیا تھا۔
عدالت نے فریقین کے دلائل اور عدم شواہد کو مدنظر رکھتے ہوئے تمام مفرور سے سرینڈر کرنے والے ساتوں ملزمان کو بھی مقدمے سے بری کر دیا۔
خیال رہے جنوری 2019 کو ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کی سربراہی میں پولیس ٹیم نے شاہ لطیف ٹاؤن میں پولیس مقابلہ کا دعویٰ کیا تھا، ٹیم کا مؤقف تھا کہ خطرناک دہشت گردوں کی گرفتاری کے لیے اس کارروائی میں پولیس نے جوابی فائرنگ کرتے ہوئے چار ملزمان کو ہلاک کیا تھا، ہلاک ہونے والوں میں نوجوان نقیب اللہ بھی شامل تھا۔
سوشل میڈیا پر چلنے والی مہم کے بعد اس واقعے کے خلاف عوامی تحریک شروع ہوئی، جس کے نتیجے میں پولیس مقابلے کی تحقیقات شروع ہوئیں، ایس ایس پی رائو انوار کو عہدے سے معطل کرکے مقابلہ کو جعلی قرار دے گیا تھا۔
نقیب قتل کی تفتیش کرنے والی مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی نے راؤ انوار کو نقیب اللہ کے ماورائے عدالت قتل کا ذمہ دار ٹھہرا یا گیا تھا، بعد ازاں انسداد دہشت گردی کی عدالت نے مرکزی ملزم اور سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کو رہا کردیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں:سری لنکا انڈر 17 کیخلاف پاکستان ٹیم کا اعلان