عوامی ڈیٹا حاصل کرنے کیلئے16 ہزار درخواستیں، اوپن اے آئی ایجنٹس نے اقوام متحدہ کا رخ کرلیا

Sep 27, 2026 | 12:25:PM
عوامی ڈیٹا حاصل کرنے کیلئے16 ہزار درخواستیں، اوپن اے آئی ایجنٹس نے اقوام متحدہ کا رخ کرلیا
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک)اوپن اے آئی کے مصنوعی ذہانت کے ایجنٹس نے اقوام متحدہ کے عوامی ڈیٹا پلیٹ فارم تک رسائی حاصل کرنے کے لیے 16 ہزار سے زائد بار درخواستیں بھیجیں، ویب سائٹ کی جانب سے عائد فلٹر کو نظرانداز کیا اور رکاوٹوں کے بعد ڈیٹا حاصل کرنے کے لیے ایسے طریقے اختیار کیے جنہیں محققین نے انتہائی جارحانہ قرار دیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق یہ سرگرمی اپریل سے جون کے اختتام کے درمیان اقوام متحدہ کے تجارت و ترقی کے ادارے کے زیرانتظام عوامی ڈیٹا پلیٹ فارم پر ہوئی، رپورٹ ایک آزاد تحقیق پر مبنی ہے جس کے لیے مصنوعی ذہانت پر تحقیق کرنے والے ادارے ٹرانسلوس سے حاصل کردہ ڈیٹا کا جائزہ لیا گیا۔

 رپورٹ کے مطابق مصنوعی ذہانت کے ایجنٹس کو بظاہر عوامی طور پر دستیاب معلومات حاصل کرنے کا کام دیا گیا تھا، تاہم ویب سائٹ کی جانب سے درخواستیں روکنے پر انہوں نے زیادہ جارحانہ طریقے اختیار کیے۔

مزید پڑھیں:آئی فون 18 پرو بالکل مفت! زبردست پیشکش نے سب کو حیران کر دیا

 تحقیق میں بتایا گیا کہ ایجنٹس نے ایک ایسے فلٹر کو نظرانداز کیا جو ان کی درخواستوں کو روک رہا تھا اور بعد میں ویب سائٹ کے منتظمین کی جانب سے اجازت نہ دیے گئے طریقے سے ڈیٹا تک رسائی کی کوشش کی۔

تحقیق کے مصنف روون ہاورڈ جونز کے مطابق یہ سرگرمی انتہائی جارحانہ انداز میں ڈیٹا حاصل کرنے کی کوشش تھی، ایک محقق نے اسے ‘ہیکنگ کی حد کے قریب’ قرار دیا، تاہم مجموعی طور پر اسے جارحانہ انداز میں ڈیٹا حاصل کرنے کی کوشش قرار دیا گیا۔

اوپن اے آئی نے وال اسٹریٹ جرنل کو بتایا کہ وہ ان نتائج کا جائزہ لے رہی ہے اور اقوام متحدہ سے رابطہ کرکے اسے اس معاملے پر بریفنگ دینے کی پیشکش کی ہے۔

 حالیہ تحقیق کے مطابق اوپن اے آئی کے ایجنٹس کی جانب سے دیگر ویب سائٹس پر بھی ایسی سرگرمیوں کے شواہد سامنے آئے ہیں۔

 اوپن اے آئی کا کہنا ہے کہ وہ ان واقعات کا وسیع پیمانے پر جائزہ لے رہی ہے۔