خلیل الرحمن قمر ..ڈرامہ رائٹر،شاعر
سید عارف نوناری
Stay tuned with 24 News HD Android App
خلیل الرحمان قمر ایک پاکستانی شاعر و ڈراما نگار ہیں, ان کے قابلِ ذکر ڈراموں میں بوٹا فرام ٹوبہ ٹیک سنگھ، جو پی ٹی وی ورلڈ سے آن ائیر ہوا تھا اور لنڈا بازار (ٹی وی سیریز)، جو پی ٹی وی ہوم سے آن ائیر ہوا۔ حالیہ دور میں پیارے افضل اور صدقے تمہارے شامل ہیں, سکس سگما انٹرٹینمنٹ کے شریک بانی ہمایوں سعید نے 9 دسمبر 2015ء کو اعلان کیا تھا کہ خلیل الرحمان قمر ان کی کمپنی کے لیے لکھیں گے خلیل الرحمن قمر 16 دسمبر 1962 میں پیدا ہوئے, تحقیق و ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ ان کا خاندان ضلع نارووال کی تحصیل ظفروال میں مقیم تھا ,ان کے والد ظفروال کے تھے اور ان کی شادی لاہور میں ہوئی تھی اور خلیل الرحمن قمر ظفروال میں پیدا ہوئے اور پھر ہجرت کر کے لاہور آ گئے .میڈیا رپورٹ اور ویکپیڈیا میں درج ہے کہ وہ لاہور میں پیدا ہوئے ,یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ان کا خاندان تقسیم ہند کے بعد کچھ عرصہ ظفروال ضلع نارووال میں مقیم رہا.
خلیل الرحمن قمر نے فلمیں بھی لکھی ہیں, وہ سکرپٹ رائٹر بھی ہیں پروڈیوسر بھی ہیں ان کی فلموں میں قرض 'کوئی تجھ سا کہاں 'میں پنجاب نہیں جاؤں گی 'مکھڑا چن ورگا،گھر کب آئو گے شامل ہیں، پی ٹی وی ہوم پر ان کے بہت ڈرامے مقبول ہوئے جن من چلی 'دستک اور دروازہ 'چاند پور کا چندو'دل کے بانکے'پھر کب ملوں گی پیارے افضل 'لنڈا بازار'دل ہے کہ دریا ہے'اس پار اور دیگر ڈرامے شامل ہیں، ان کی شاعری بھی کمال ہے جہاں ان کا بطور ڈرامہ رائٹر نام ہے وہ ایک اچھے شاعر بھی ہیں۔
تیری آنکھوں کے دریا کا اترنا بھی ضروری تھا
محبت بھی ضروری تھی بچھڑنا بھی ضروری تھا
ضروری تھا کہ ہم دونوں طوافِ آرزو کرتے
مگر پھر آرزوؤں کا "بکھرنا" بھی ضروری تھا
تیری آنکھوں کے دریا کا اترنا بھی ضروری تھا
خلیل الرحمن قمر کو صدقے تمہارے اور میرا یار ملنگ جیسے مقبول ڈراموں سے شہرت حاصل کی، اپنی رومانی اور سماجی کہانیوں اور منفرد اندازِ تحریر کے لیے جانے جاتے ہیں اور ان کی زندگی کی اہم جھلکیاں ان کے کام اور عوامی شخصیات سے جڑے تعلقات میں نظر آتی ہیں اندازِ تحریر رومانیت، سماجی تبصرے، جذباتی گہرائی اور سادہ مگر پراثر زبان ہے ان کی کہانیاں اکثر گہری محبت، قربانی اور سماجی مسائل پر مبنی ہوتی ہیں، جو انہیں ایک منفرد مقام دلاتی ہیں.وہ اپنی ذاتی زندگی کے بارے میں زیادہ بات نہیں کرتےلیکن ان کے کام میں خواتین کے کردار اور جذبات کی عکاسی نمایاں ہوتی ہے. وہ اپنی تحریروں میں اپنی زندگی کے تجربات اور مشاہدات کو شامل کرتے ہیں، جس کی وجہ سے ان کے کردار حقیقی لگتے ہیں.
یہ بھی پڑھیں:روما مائیکل اور شان بیگ نے شادی کی تاریخ کا اعلان کردیا
خلیل الرحمن قمر نے اپنے تخلیقی کاموں سے پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری پر گہرا اثر ڈالا ہے، اور وہ اپنی صاف گوئی اور کام کے تئیں لگن کے لیے بھی جانے جاتے ہیں،ابتدائی تعلیم گورنمنٹ ایم سی پرائمری سکول شاد باغ ، گورنمنٹ ہائی سکول شاد باغ، اسلامیہ کالج سول لائنز، جناح اسلامیہ کالج آف کامرس اور پنجاب یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی ،جب وہ پیدا ہوئے تو وقت سے پہلے ہی جوان تھے۔ پہلی مرتبہ قلم ہاتھ میں لیا تو یہ آگاہی ملی کے وہ ایک لکھاری ہیں، 7 برس کی عمر میں سے پہلا شعر لکھا۔
آنکھ میں نم تک آ پہنچا ہوں
اُس کے غم تک آ پہنچا ہوں
پہلی بار محبت کی تھی
آخری دَم تک آ پہنچا ہوں
اس کے درد سے فیض ملا ہے
اِذنِ قلم تک آپہنچا ہوں
سانسوں میں سنگیت نہیں اب
سر سے سم تک آپہنچا ہوں
ہاتھ بڑھا کر چھونے لگا ہوں
دستِ اَلم تک آپہنچا ہوں
ملکِ عدم میں رہتے ہو نا
راہِ عدم تک آپہنچا ہوں
اگلے قدم پر تم سے ملوں گا
اگلے قدم تک آپہنچا ہوں
خلیل الرحمن قمر نے میڈیا کو ایک انٹرویو اپنی زندگی کے نشیب و فراز اور ابتدائی زندگی کے واقعات،گھریلو ماحول،پاپ سے ان کی دوستی اور سکول کالج کی زندگی پر روشنی ڈالی ہے۔ خلیل الرحمن قمر کے ساتھ 2024میں ایک واقعہ پیش آیا جو سوشل میڈیا پر وائرل ہوا ،وہ ایک اچھے رائٹر اور ڈرامہ نگار کی حیثیت سے منفرد مقام رکھتے ہیں، ان کے ڈراموں کے موضوعات معاشرے سے جڑے ہوئے ہیں اور مشاہدات کی ان کی گہرائی ڈراموں میں نظر آتی ہے، نارووال کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ مقبول ترین ڈرامہ رائٹر کا خاندان ظفروال سے ہے۔