غلام علی لاکھو کو چیف انسپکٹر آف ڈرگز سندھ کے عہدہ سے برطرف
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک) ڈرگ انسپکٹر غلام علی لاکھو کے خلاف اختیارات کےغیر قانونی استعمال، فارما کمپنیوں کو ہراساں کرنے اور غیرقانونی مطالبات کرنے کی شکایات سامنے آنے کے بعد سندھ ن کے سیکرٹری ہیلتھ نے غلام علی لاکھو کو چیف انسپکٹر آف ڈرگز سندھ کی ذمہ داریوں سے ہٹا دیا۔
غلام علی لاکھو کو محکمہ صحت کو رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔غلام علی لاکھو کے پاس چیف انسپکٹر آف ڈرگز سندھ کا اضافی چارج تھا۔ اس عہدہ پر کام کرتے ہوئے لاکھو نے اختیارات کا غلط استعمال کیا اور فارما کمپنیوں سے ناروا مطالبے کئے جو ان کی برطرفی کا سبب بن گئے۔
سندھ کےسیکریٹری صحت سندھ طاہر حسین سانگی نے غلام علی لاکھو سے چیف انسپکٹر آف ڈرگز سندھ کے عہدہ کا چارج واپس لینے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے۔ انہیں محکمہ صحت کو رپورٹ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
پاکستان فارماسیوٹیکل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پی پی ایم اے) نے بھی 10 ستمبر کو چیف سیکریٹری سندھ ، محکمہ صحت اور دیگر متعلقہ اعلیٰ حکام کو تحریری شکایت ارسال کی تھی۔
پی پی ایم اے کی جانب سے چیف سیکریٹری سندھ کو ڈسٹرکٹ ساؤتھ کراچی کے صوبائی ڈرگ انسپکٹر غلام علی لاکھو پر اختیارات کے مبینہ ناجائز استعمال، غیرقانونی مطالبات اور فارما کمپنیوں، ان کے مجاز ڈسٹری بیوٹرز اور سیلرز کی قانونی کاروباری سرگرمیوں میں رکاوٹ ڈالنے جیسی حرکتوں سے آگاہ کیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: بلوچستان میں ’’آپریشن شعبان‘‘ ،96گھنٹوں میں فتنہ الہندوستان کے 71 سے زائد دہشتگرد جہنم واصل
شکایت میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ بعض کمپنیوں کو سرکاری تجزیہ کار کی رپورٹ یا کسی جرم کے ثبوت کے بغیر سٹاک کی ضبطی، سیل (seal) کرنے، فروخت پر پابندی اور قانونی کارروائی کی دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑتا رہا۔ پی پی ایم اے نے ایسے اقدامات کو ڈرگ انسپکٹر کے اختیارات اور قانونی طریقہ کار کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے اعلیٰ حکام سے معاملے میں مداخلت اور کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔
پی پی ایم اے کی شکایت اور دیگر موصولہ شکایات کا جائزہ لینے کے بعد وزیر صحت سندھ کی منظوری سے غلام علی لاکھو کو ان کی موجودہ ذمہ داریوں سے ریلیو کرنے کا فیصلہ کیا گیا، جس کے بعد سیکریٹری صحت سندھ طاہر حسین سانگی کی جانب سے کارروائی کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا.