قومی سیاست میں نئے عہد کی شروعات
تحریر: اسلم اعوان
Stay tuned with 24 News HD Android App
پاکستان کی قومی تاریخ میں شاید پہلی مرتبہ ریاستی مقتدرہ کو سیاسی اشرافیہ، مذہبی تنظیموں، روایتی سماجی اثر و رسوخ رکھنے والے طبقات اور روایتی ذرائع ابلاغ کے درمیانی واسطوں کے بغیر براہِ راست عوامی ردِعمل کا سامنا ہے۔
ماضی میں قومی بیانیے کی تشکیل اور ریاستی پالیسیوں کی سماجی قبولیت میں مقتدرہ کو صرف ریاستی وسائل ہی میسر نہیں تھے بلکہ مذہبی جماعتوں، قوم پرست گروہوں، دائیں بازو کی سیاسی قوتوں، بااثر دانش وروں، صحافیوں اور علما کے وسیع حلقے کی مختلف ادوار میں حمایت یا کم از کم موافقت بھی حاصل رہی، اس سماجی و سیاسی نیٹ ورک نے ریاستی طاقت اور عوام کے درمیان ایک طرح کے سیاسی و سماجی بفر کا کردار ادا کیا۔
سرد جنگ کے عہد میں یہ صورتِ حال مزید پیچیدہ تھی،پاکستان کی جغرافیائی اہمیت، سوویت مخالف عالمی صف بندی اور افغانستان کے تناظر میں مغربی طاقتوں، خصوصاً امریکہ، کے تزویراتی مفادات نے پاکستانی ریاستی مقتدرہ کو ایک وسیع تر عالمی تناظر میں اہمیت فراہم کی تھی۔ اس دور میں داخلی سیاست اور خارجہ پالیسی کو محض ملکی قوتوں کے باہمی تعلقات کے ذریعے سمجھنا ممکن نہیں تھا، عالمی طاقتوں کے مفادات بھی ریاستی طاقت کے توازن پر اثرانداز ہوتے تھے۔شاید اسی لئے لیاقت علی خان سے لیکر سہروری ،ذولفقار علی بھٹو،بے نظیر اور نواز شریف جیسے مقبول سیاستدان، طاقت کے اسی تال میل کی بھینٹ چڑھتے رہےتاہم اگست 2021 میں افغانستان سے امریکی انخلا کے بعد خطے کی تزویراتی ترجیحات میں نمایاں تبدیلیاں رونما ہوئیں، افغانستان میں امریکی فوجی موجودگی کے خاتمے اور جنوبی ایشیا میں امریکی ترجیحات کے ازسرِنو تعین نے پاکستان کی داخلی سیاست کے بارے میں واشنگٹن اور مغربی دارالحکومتوں کی سابقہ دلچسپی اور براہِ راست شمولیت کی نوعیت کو بھی تبدیل کر دیا۔ اس تعیر کو محض خارجہ پالیسی کا واقعہ سمجھنا کافی نہیں ہو گا کیونکہ اس کے اثرات پاکستان کے داخلی طاقت کے توازن اور ریاستی بیانیے پر محیط ہیں۔
اسی بدلتے ہوئے عالمی ماحول میں پاکستانی مقتدرہ اور سیاسی قوتوں کے باہمی تعلقات نے بھی ایک نئی شکل اختیار کر لی ہے، چنانچہ اب ریاستی طاقت کے ذریعے سیاسی عمل، انتظامی ڈھانچے اور قومی بیانیے کو زیادہ براہ راست منظم کرنے کی کوششوں نے سیاسی جماعتوں، مذہبی تنظیموں اور دیگر سماجی قوتوں کے ساتھ موجود روایتی درمیانی راستوں کو محدود کر دیا۔ نتیجتاً وہ سماجی و سیاسی کشن کمزور ہوتا گیا جو ماضی میں ریاستی طاقت اور عوامی ردِعمل کے درمیان موجود رہتا تھا۔
یہاں سے ہماری ریاستی اتھارٹی کو بالکل مختلف نوعیت کی سیاسی تہذیب سے نمٹنے کا مسلہ درپیش ہوا ، یعنی ریاستی مقتدرہ کو براہ راست اگر عوام سے معاملہ کرنا پڑے تو طاقت کا روایتی طریقۂ کار کس حد تک مؤثر رہتا ہے؟
ماضی میں پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا قومی بیانیے کی تشکیل کا بنیادی ذریعہ تھا۔ ریاستی اداروں کے لیے ذرائع ابلاغ کو ریگولیٹ، محدود یا متاثر کرنا نسبتاً آسان تھا کیونکہ اطلاعات کی ترسیل چند مرکزی اداروں اور مساجد کے منبر و محراب جیسے محدود پلیٹ فارمز کے ذریعے ہوتی تھی۔ لیکن سوشل میڈیا نے اس پورے ماڈل کو بنیادی طور پر تبدیل کر دیا، اب معلومات کا بہاؤ یک طرفہ نہیں رہا، ہر شہری ممکنہ طور پر خبر کا ذریعہ، تبصرہ نگار، ویڈیو پروڈیوسر اور سیاسی بیانیے کا حصہ بن سکتا ہے۔
یہ تبدیلی محض ٹیکنالوجی کی تبدیلی نہیں بلکہ طاقت کے ابلاغی ڈھانچے میں بنیادی تبدیلی واقع یوئی۔ کیونکہ روایتی میڈیا میں Gatekeepers موجود تھے، سوشل میڈیا نے ان Gatekeepers کی اجارہ داری کو بڑی حد تک توڑ دیا۔ آج کی ریاست کسی ایک اخبار، چینل یا صحافتی ادارے کو متاثر کر کے پورے قومی بیانیے کو قابو میں نہیں رکھ سکتی۔ ایک واقعہ جسے روایتی میڈیا پر محدود کوریج ملے، وہ چند گھنٹوں میں سوشل میڈیا پر لاکھوں افراد تک پہنچ سکتا ہے۔ اسی طرح ریاستی بیانیے کے مقابلے میں متبادل بیانیے بھی تیزی سے تشکیل پاتے اور پھیلتے جا رہے ہیں۔
اس نئی حقیقت نے ریاست اور معاشرے کے تعلق کی نوعیت کو یکسر بدل دیا۔ اب عوام محض ریاستی بیانیے کے وصول کنندہ نہیں رہے بلکہ خود بیانیے کے شریک تخلیق کار بن چکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ دور میں طاقت کا استعمال اور ابلاغی کنٹرول ایک دوسرے کا متبادل نہیں رہے۔ انتظامی طاقت کسی حد تک نظم پیدا کر سکتی ہے، مگر وہ لازماً سماجی قبولیت پیدا نہیں کر سکتی۔
یہی وہ مقام ہے جہاں موجودہ صورتِ حال کی اصل پیچیدگیاں سامنے آتی ہیں۔ اگر ریاستی مقتدرہ کے پاس ماضی کی طرح وسیع سیاسی، مذہبی، سماجی اور ابلاغی واسطے موجود نہ ہوں، اور دوسری طرف عوامی سطح پر سیاسی شعور، ڈیجیٹل رابطے اور متبادل بیانیوں کی قوت میں اضافہ ہو چکا ہو، تو ریاست اور معاشرے کے درمیان براہِ راست محاذ آرائی ایک بالکل مختلف نوعیت کی سیاسی صورت حال پیدا کر سکتی ہے۔
اس صورتِ حال کو صرف کسی ایک سیاسی جماعت کی مقبولیت یا کسی ایک حکومت کے خلاف مزاحمت کے تناظر میں دیکھنا شاید مسئلے کی گہرائی کو کم کرنے کے مترادف ہو گا۔ اصل تبدیلی یہ ہے کہ ریاست اور شہری کے درمیان روایتی واسطہ کمزور ہو رہا ہے۔
ریاستی طاقت کی پائیداری محض طاقت کے استعمال سے نہیں بلکہ جواز، اعتماد اور ادارہ جاتی اعتبار سے پیدا ہوتی ہے۔ اگر ریاستی فیصلوں کے بارے میں عوامی سطح پر مسلسل شکوک پیدا ہوں، سیاسی عمل کی شفافیت پر سوال اٹھیں، اداروں کی غیر جانب داری متنازع بنے اور ذرائع ابلاغ پر اعتماد کم ہو جائے تو ریاستی اختیار قانونی طور پر برقرار رہنے کے باوجود سماجی اعتبار سے کمزور پڑ سکتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ موجودہ صورتِ حال کو محض انتظامی یا سیاسی بحران کے طور پر دیکھنا ناکافی ہے۔ یہ دراصل ریاستی جواز، سیاسی نمائندگی، ابلاغی طاقت اور عوامی اعتماد کے باہمی تعلق کی کڑی آزمائش ہے۔
اس تناظر میں سب سے اہم سوال یہ نہیں کہ کون طاقتور ہے بلکہ یہ ہے کہ کون اپنی طاقت کو دیرپا سیاسی جواز میں تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ ریاستی طاقت وقتی طور پر سیاسی مزاحمت کو محدود کر سکتی ہے لیکن دیرپا استحکام کے لیے اسے ادارہ جاتی اعتماد، آئینی تسلسل اور عوامی رضامندی کی ضرورت ہوتی ہے۔
آج کا پاکستان اسی بنیادی سوال کے سامنے کھڑا ہے۔ ایک طرف ریاستی اداروں کے پاس انتظامی، قانونی اور سکیورٹی وسائل موجود ہیں، دوسری طرف ایک وسیع اور مربوط ڈیجیٹل معاشرہ موجود ہے جو روایتی ابلاغی دروازوں کے بغیر اپنا بیانیہ تشکیل دے سکتا ہے۔ ان دونوں قوتوں کے درمیان براہِ راست کشمکش کسی بھی فریق کے لیے آسان نہیں ہو گی۔
اس لیے موجودہ صورتِ حال کو محض "ریاست بمقابلہ سیاسی جماعت" کے فارمولے میں محدود کرنا شاید درست تجزیہ نہیں ہوگا، زیادہ گہری سطح پر یہ ریاستی اختیار اور عوامی رضامندی کے درمیان نئے تعلق کی تشکیل کا وہ نازک مرحلہ ہے، جو نظم اجتماعی کی ہیت اور اقتدار کے جواز کو تبدیل کرنے والا ہے۔
اگر ریاست اور عوام کے درمیان سیاسی، سماجی اور ابلاغی واسطے مسلسل کمزور ہوتے گئے تو ہر بحران براہِ راست تصادم کی صورت اختیار کر سکتا ہے، اس کے برعکس اگر آئینی ادارے، سیاسی جماعتیں، عدلیہ، میڈیا اور سول سوسائٹی اپنے اپنے دائرۂ اختیار میں مؤثر اور خودمختار کردار ادا کریں تو ریاست اور شہری کے درمیان اعتماد کی نئی بنیاد قائم کی جا سکتی ہے۔
پاکستانی مقتدرہ کے لیے اصل آزمائش شاید یہی ہے کہ کیا وہ پچیس کروڑ کے قریب آبادی والے ایک پیچیدہ، متنوع اور ڈیجیٹل معاشرے کو محض انتظامی قوت کے ذریعے ریگولیٹ کرنے کے بجائے سیاسی مفاہمت، آئینی بالادستی اور عوامی اعتماد کے ذریعے ساتھ لے کر چلنے کا راستہ اختیار کر سکتی ہے؟
کیونکہ جدید ریاست کی سب سے بڑی طاقت عوام کو خاموش کرانا نہیں بلکہ انہیں یہ یقین دلانا ہے کہ ریاست ان کی مرضی، آئین اور اجتماعی مفاد کے تابع ہے۔
موجودہ دور کی اصل تبدیلی یہی ہے،عوام اب صرف ریاست کے بیانیے کے سامع نہیں رہے ، وہ خود بیانیہ تشکیل دے رہے ہیں اور جب ریاست اور عوام کے درمیان سیاسی جماعتوں جیسے روایتی واسطے ختم ہو جائیں تو طاقت کے لیے سب سے بڑا چیلنج مزاحمت کو دبانا نہیں بلکہ اعتماد کو دوبارہ پیدا کرنا بن جاتا ہے۔