6 ستمبر دشمن کو پیغام، قوم کیلئے عہد
Stay tuned with 24 News HD Android App
6 ستمبر محض کیلنڈر پر درج ایک تاریخ نہیں۔یہ وہ دن ہے جب پاکستان نے دنیا کو بتا دیا تھا کہ اس قوم کو دبایا جا سکتا ہے، ڈرایا نہیں جا سکتا آزمائش میں ڈالا جا سکتا ہے شکست نہیں دی جا سکتی۔یہ دن اُن بہادر سپوتوں کے نام ہے جنہوں نے وطن کی سرحدوں پر اپنے سینے سپر کیے اور آنے والی نسلوں کو یہ پیغام دیا کہ وطن کی حفاظت محض ایک ذمہ داری نہیں ایک مقدس امانت ہے۔
1965 کی جنگ میں پاکستان کے محافظوں نے جس عزم حوصلے اور جرأت کا مظاہرہ کیا، وہ ہماری قومی تاریخ کا ناقابلِ فراموش باب ہے, دشمن نے سمجھا تھا کہ طاقت کے بل پر پاکستان کو جھکا دیا جائے گامگر اسے اندازہ نہیں تھا کہ اس سرزمین کے محافظ صرف ہتھیاروں سے نہیں یقین، غیرت اور وطن سے محبت سے لڑتے ہیں۔
سرحدوں پر سپاہی کھڑے تھے آسمانوں پر شاہین پہرہ دے رہے تھے، سمندر میں محافظ موجود تھے اور ملک کے اندر ایک پوری قوم اپنے جوانوں کے ساتھ کھڑی تھی۔یہی پاکستان کی اصل طاقت تھی اور ہے۔
ہم اُن ماؤں کو کیسے بھول سکتے ہیں جنہوں نے اپنے بیٹوں کو وطن پر قربان ہونے کے لیے رخصت کیا؟
ہم اُن باپوں کو کیسے بھول سکتے ہیں جنہوں نے اپنے لختِ جگر کا غم دل میں دفن کرکے کہا کہ میرا بیٹا پاکستان کے کام آیا ہے؟شہید کا لہو صرف ماضی کی داستان نہیں ہوتا۔وہ آنے والی نسلوں سے سوال کرتا ہے
تم نے اس وطن کے لیے کیا کیا؟
آج 6 ستمبر ہمیں یہی سوال دوبارہ سناتا ہے
اگر سپاہی سرحد پر جاگ سکتا ہے تو ہم اپنے فرائض سے غافل کیوں رہیں؟
اگر ایک جوان وطن کے لیے اپنی جان پیش کر سکتا ہے تو ہم پاکستان کی تعمیر کے لیے اپنی ایمانداری، محنت اور کردار کیوں پیش نہیں کر سکتے؟
پاکستان کو آج بھی دشمنوں سے خطرات ہیں، لیکن یاد رکھیے:
ملک صرف بیرونی دشمنوں سے نہیں، اندرونی کمزوریوں سے بھی کمزور ہوتے ہیں۔کرپشن، ناانصافی، جھوٹ، نفرت، انتشار، قانون شکنی اور قومی مفاد پر ذاتی مفاد کو ترجیح دینایہ سب وہ دراڑیں ہیں جنہیں دشمن استعمال کرنا چاہتا ہے۔اس لیے آج کا سب سے بڑا محاذ صرف سرحد نہیں,آج کا محاذ ہماری سوچ، ہمارا کردار اور ہماری قومی یکجہتی بھی ہے۔ہمیں اپنے اختلافات کے باوجود یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ ہماری شناخت سب سے پہلے پاکستان ہے۔
سیاست آئے گی جائے گی,حکومتیں بدلیں گی,قیادتیں بدلیں گی۔مگر پاکستان قائم رہنا چاہیےکیونکہ پاکستان کسی ایک جماعت، کسی ایک ادارے، کسی ایک طبقے یا کسی ایک نسل کا ملک نہیں۔
پاکستانی ایک ہیں کیونکہ ہم پاکستان سے ہیں اور ہم سے پاکستان ہےاور دشمن اگر یہ سمجھتا ہے کہ سازشوں، پروپیگنڈے، دہشت گردی یا انتشار کے ذریعے اس قوم کا حوصلہ توڑ دے گا تو اسے تاریخ کا سبق ایک بار پھر پڑھ لینا چاہیے۔
یہ وہ قوم ہے جس نے مشکلات میں جنم لیا,یہ وہ قوم ہے جس نے جنگیں دیکھی ہیں,یہ وہ قوم ہے جس نے دہشت گردی کے خلاف طویل قربانیاں دی ہیں,یہ وہ قوم ہے جس کے محافظ آج بھی سرحدوں پر کھڑے ہیں۔ہم امن چاہتے ہیںمگر اپنی آزادی کی قیمت پر نہیں,ہم امن چاہتے ہیں مگر اپنی خودمختاری کی قیمت پر نہیں,ہم امن چاہتے ہیں مگر پاکستان کی سلامتی پر سمجھوتہ کرکے نہیں۔
6 ستمبر کا پیغام واضح ہے
پاکستان کسی کی جاگیر نہیں یہ کروڑوں پاکستانیوں کی امانت ہے۔
آج ہم اپنے شہداء کو سلام پیش کرتے ہوئے یہ عہد کریں کہ ہم اس ملک کو نفرت، انتشار اور مایوسی کے حوالے نہیں کریں گے۔ہم پاکستان کو کمزور کرنے والی ہر سوچ کے مقابلے میں اتحاد بنیں گے۔ہم جھوٹ کے مقابلے میں سچ بنیں گے۔ہم بدعنوانی کے مقابلے میں دیانت بنیں گے۔ہم مایوسی کے مقابلے میں امید بنیں گے۔اور جب کبھی وطن کو ہماری ضرورت پڑے گی ہم اپنی استطاعت کے مطابق پاکستان کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔
کیونکہ یہ سبز ہلالی پرچم صرف کپڑے کا ٹکڑا نہیں لاکھوں قربانیوں کی علامت ہے,اس کے سفید حصے میں امن کا خواب ہے,اس کے سبز رنگ میں ہماری امید ہے اور اس کی بلندی میں ہمارے شہداء کی قربانیوں کا وقار ہے۔
سلام اُن شہداء کو جنہوں نے پاکستان کے لیے اپنا آج قربان کیا,سلام اُن غازیوں کو جنہوں نے وطن کا دفاع کیا,سلام اُن محافظوں کو جو آج بھی سرحدوں پر جاگ رہے ہیں۔
دشمن کے لیے ایک پیغام:
پاکستان امن کا خواہاں ضرور ہے کمزور نہیں۔
پاکستان صلح پسند ضرور ہے بے حوصلہ نہیں۔
پاکستان اپنے شہداء کو کبھی نہیں بھولتااور اپنے وطن کی حفاظت کا عزم کبھی نہیں بھولے گا۔
6 ستمبرکو کبھی بھول نہیں سکتے
شہداء کا نام زندہ رہے گا
پاکستان کا پرچم بلند رہے گا
پاکستان زندہ باد!
پاک فوج، بحریہ اور فضائیہ کے بہادر محافظوں کو سلام
شہداءِ وطن کو سلام!